اردو | हिन्दी | English
1527 Views
Deen

کلےم عاجز نے بے مثل اور خوبصورت شاعری سے پوری دنےا مےں اپنی شاعرانہ عظمت کا لوہا منواےا: امتےاز کرےمی

ABHILEKH BHAWAN ME GAIR MUSLIM URDU MUSHERA MAHFIL PROGRAM
Written by Tariq Hasan

پٹنہ ( پرےس رےلےز) اردو ڈائرکٹورےٹ، محکمہ کابےنہ سکرےٹرےٹ کی جانب سے پدم شری کلےم احمد عاجزکی ےاد گاری تقرےب کا انعقاد بہار رےاستی ابھےلےکھ بھون پٹنہ مےں کےا گےا۔ اردو ڈائرکٹورےٹ کے ڈائرکٹر جناب امتےاز احمد کرےمی نے مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ کلےم احمد عاجز اےک عالم گےر شہرت ےافتہ شاعر تھے۔وہ بہار کی آبرو تھے۔ اردو شعر وادب مےں ان کا اعلیٰ مقام تھا۔ کلےم عاجز نے اپنی بے مثل او رخوبصورت شاعری کے ذرےعہ پوری دنےا مےں اپنی شاعرانہ برتری اور عظمت کا لوہا منواےا۔ ان کی شاعری مےں احساس کی شدت، فکر کی ندرت او رپےش کش کی جو دلپذےری ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی شاعری جدےد فکر و نظر کی حامل کلاسےکی شاعری کا بہترےن نمونہ ہے۔بہار کے عظےم المربت شعراءمےں شاد، راسخ او رکلےم عاجز کا نام سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ کلےم عاجز کی شاعری درد کی شاعری ہے۔ ان کی شاعری مےں درد کے حکاےات ہےں، وہ آسان لفظوں مےں دل اور درد کی نمائندگی کرتے ہےں اور اپنا دےر پا نقوش چھوڑ جاتے ہےں۔ ان کی حےثےت اردو شاعری مےں اےک امام کی ہے۔ کلےم عاجز اےک بڑے شاعر کے ساتھ اےک بے مثل نثر نگار بھی ہےں۔ ان کی ماےہ ناز تصنےف وہ جو شاعری کا سبب ہوا ، جب فصل بہاراں آئی، ہاں چھےڑو غزل عاجز ، جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی، اک ددےس اک بدےسی ، ےہاں سے کعبہ کعبہ سے مدےنہ، ابھی سن لو مجھ سے، دفتر گم گشتہ، دےوانے دو، کوچہ جانِ جاناں ، پہلو نہ دکھے گا، مےری زبان مےرا قلم، پھےر اےسا نظارہ نہےں ہوگااہم تصانےف ہےں۔ حکومت ہند نے کلےم عاجز کی اعلیٰ خدمات و شعر و ادب کے اعتراف مےں 1989 مےں پدم شری کے اعزاز سے نوازا۔ محکمہ راج بھاشا ، حکومت بہار نے 2001 مےں اےک لاکھ اکےاون ہزار کا اعلیٰ سطحی مولانا مظہر الحق شےکھر سمان اےوارڈ عطا کےا گےا ،2012 مےں غالب اکےڈمی ، دہلی نے 75 ہزار روپے کے غالب اےوارڈ ، توصےفی سند اور مےمنٹو سے سرفراز کےا۔ ان کے علاوہ بھی کلےم عاجز درجنوں ملکی او رغےر ملکی اےوارڈ سے نوازے گئے۔جناب کرےمی نے کہا کہ اردو شاعری کے کہکشاں مےں کلےم عاجز کا نام آبِ زرےں سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ ناقدےن نے ڈاکٹر کلےم عاجز کو اردو کا بڑا شاعر مانا ہے۔ ان کے اشعار آج بھی ہمارے گھروں مےں ضرب المثل کی طرح استعمال کئے جاتے ہےں۔ ” تم قتل کرو ہو کہ کرامات کروہو“ اردو آبادی مےں زبان زد عام ہے ۔ بسا اوقات مےاں بےوی کی گفت و شنےد ےا نوک جھونک کے درمےان ےہ مصرع ” تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو“داغ دےا جاتا ہے ۔غلام رسول قرےشی نے اپنے مترنم آواز مےں کلےم عاجز کی خوبصورت غزل ”اشعار بنا کے سجا کے سنوار کے “ پڑھی جس سے سامعےن نے
نئی نسل کے طلبا/ طالبات پےش کش مےںمحمد صادق ربانی ، افشاں بانو، نشاط فاطمہ وغےرہ نے کلےم عاجز کی شخصےت اور ان کے کارنامے پر روشنی ڈالی، جس کے لئے اردو ڈائرکٹورےٹ نے انہےں انعامات اور سند شرکت سے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اس ےاد گاری تقرےب مےں مقالہ خوا ں کی حےثےت سے ڈاکٹر نسےم اختر، محقق و ادےب، پٹنہ، پروفےسر انور اےرج، شعبہ اردو ، ڈی اےس کالج، کٹےہار، پروفےسر منظر حسےن، شعبہ اردو، رانچی ےونےورسٹی، رانچی نے کلےم عاجز کی شخصی عظمت اور کارنامے پر اپنے مقالے پڑھ کر سنائے۔۔۔ باقی صفحہ 8 پر۔۔۔۔
پروفےسر طلحہ رضوی برق نے تقرےب کی صدارت فرمائی اور اپنے صدارتی خطبہ مےں ڈاکٹر کلےم عاجز کی شاعرانہ عظمت پر بھرپور روشنی ڈالی۔ مےجر بلبےر سنگھ مرےد اور ان کے فرزند ارجمند ڈاکٹر وسےم احمدنے بھی خراج عقےدت پےش کےا۔بزمِ سخن کے تحت طلحہ رضوی برق، عزےز ربانی،بتےااسد رضوی، قےصر صدےقی، سمستی پوراور محترمہ تبسم فرحانہ نے اپنی خوبصورت غزلوں سے سامعےن کو خوب محظوظ کےا۔
اردو مشاورتی کمےٹی کے چےئر مےن شفےع مشہدی، سےد شکےل حسن اےڈووکےٹ، جنون اشرفی، معروف شاعر حسن نواب حسن،سنےئر صحافی اور مصنف اشرف استھانوی،امتےاز کرےم،ناشاد اورنگ آبادی، ڈاکٹر منظر اعجاز، سےد وجےہ الدےن، فخر الدےن عارفی جمال ندولوی، منےر سےفی، معروف صحافی اور روز نامہ ہمارا نعرہ کے اےڈےٹر انوار الہدیٰ، زبےر احمد بھاگلپوری، شکےل احمد، غلام سرور ندوی،فرخندہ شاہےن، فےاض احمد، پروفےسر صفدر امام قادری، ڈاکٹر شہناز فاطمی، مشتاق احمد مشتاق، شرف الہدیٰ ،عابد رضا نقوی، فےاض احمد،شبانہ خاتون، مےر سجاد، محمد اسلم، عطا عابدی،ڈاکٹر ممتاز فرخ،معصومہ خاتون، رحمت ےونس،مظہر عالم مخدومی وغےرہ کے علاوہ کثےر تعداد مےں خواتےن وحضرات شرےک تھیں۔ڈاکٹر شاہد جمےل خاں، محمد نور عالم، ڈاکٹر خورشےد انور، غلام رسول قرےشی،پروےز انجم، سےد مجتبیٰ حسےن، شفےع احمد، حسےب الرحمن انصاری، جہانگےر عالم انصاری، محمد حامد، کفےل احمد، مختار احمد، ولےم قرےشی، اعجاز رضوی، افضل عالم، شفقت جمال خاں ، عشرت جہاں، حسن آرا، خورشےدہ پروےن، اشتےاق ےوسف، شائستہ خانم، رےشماں بےگم، درخشاں حسےن، محمد شاکر،ےحییٰ فہےم، اشفاق احمد ، سعےد احمد ،انور علی،احمد علی،وغےرہ تقرےب کو کامےاب بنانے مےں سرگرم تھے۔ پروگرام کی پےش روی غلام رسول قرےشی نے کی جب کہ ابتدائی کلمات اور نظامت اثر فرےدی نے انجام دئے۔
کلےم عاجز ےادگاری تقرےب مےں شعراءکے ذرےعہ پڑھے گئے منتخب اشعار ملاحظہ فرمائےں۔
ےہ چادر زندگی کی برقمےلی ، ہو نہےں سکتی
کہ اس مےں تانا ہے اللہ کا بانا محمد کا
طلحہ رضوی برق، پٹنہ
اب آگے آپ جائےں او رےہ تارےکےاں جائےں
جہاں تک ہو سکا ہم سے ، چراغاں کر دےا ہم نے
قےصر صدےقی،سمستی پور
ےہ ہے جمہورےت اس مےں برابر سب کا حصّہ
فقط اک ذات کی سرکار ہو اےسا نہےں ہوتا
عزےز ربانی، بتےا
گزر گئی جو درےچے سے وہ ہوا تو نہےں
جسے پکار رہے ہو وہی خدا تو نہےں
اسد رضوی
چھو لےا خورشےد کو آخر دلِ بےتاب نے
آگ سے ٹکرانے والا سر پھرا لگا

About the author

Tariq Hasan