urdu 2

اردو ہندوستانی تہذیب کا عظیم ورثہ : گورنر

پٹنہ، 21مارچ (پریس ریلیز)۔ ’’اردو زبان و ادب: ہند اور بیرون ہند‘‘ کے موضوع پر ، آج ۲۱ مارچ کو بہار اردو اکادمی کے زیر اہتمام دو روزہ عالمی کانفرنس کا افتتاح عزت مآب شری رام ناتھ کووند گورنر آف بہار کے وست مبارک سے ہوا، جس کی صدارت وزیر اقلیتی فلاح ڈاکٹر عبدالغفور نے فرمائی اور پروفیسر سید ارتضیٰ کریم نے اپنے کلیدی خطبے سے نوازا۔ گل پیشی اور شمع افروزی کی رسم اداکئے جانے کے بعد سکریٹری اکادمی مشتاق احمد نوری نے اپنے استقبالیہ خطاب میں گورنر بہار کی عوامی خدمات اور بہار میں ترقیات کی تیز رفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر عدیم الفرصتی کے باوجود گورنر موصوف کی تشریف آوری ہمارے لئے اور پوری اردو آبادی کے لئے ایک یادگار لمحہ ہے۔ ہم سب اس کے لئے سراپا سپاس ہیں۔اکادمی سمینار ہال میں منعقدہ اس کانفرنس کے موقع پر اپنے کلیدی خطبہ میں پروفیسر سید ارتضیٰ کریم نے عزت مآب گورنر بہار کی اردو نوازی اور ہمہ جہت ترقیات کے لئے ان کی فکر پرا ظہار ستائش کرتے ہوئے موجودہ عہد میں عالمی اردو بستیوں میں ثقافتی سرگرمیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اردو بلا شبہ آسان اور رابطے کی کامیاب زبان ہے ۔ اردو کی ترقی میں ہر طبقہ کا حصہ ہے اور آج کے حالات میں اردو والوں کو اپنا احتساب کرنے اور اس زبان کے لئے نجی طور پر ایثار پسندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے معیاری اسکولوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیاتاکہ نئی نسل اردو کی طرف راغب ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اردو کے ادبی ولسانی منظرنامہ پر نظر رکھتے ہوئے اردو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ کی فکر ہونی چاہئے ۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم روزمرہ کی زندگی میں اردو کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ عام بنائیں۔ ڈرامہ نگار و شاعر جاوید دانش (کناڈا) نے اپنی تقریر میں بتایا کہ کناڈا میں اردو بولنے والوں کی کثیر تعداد ہے اور وہ اس زبان و ادب کی ترقی کے لئے مسلسل کوشاں ہیں۔ ڈاکٹر عبدالغفور وزیراقلیتی فلاح نے اپنی مختصر صدارتی تقریر میں کہا کہ یہ ایک اہم کانفرنس ہے اور اس کے پروگرام سے استفادہ ہوناچاہئے۔ انہوں نے اردو کی موجودہ مایوس کن صورتحال کو سلجھانے اور احساس کمتری سے دور رہنے پر توجہ دلائی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ اردو کی ابتدائی تعلیم کے ادارے قائم کرنے کی آج اشد ضرورت ہے۔اس موقع پر پروفیسر سید ارتضیٰ کریم نے گورنر موصوف کا ذہن بہار میں اردو لکچرر کی بحالی اور خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری کے لئے ڈائرکٹر کے انتظام کی طرف بھی مبذول کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان بولنے والوں کو اردو کی ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔ گورنر بہار رام ناتھ کووند نے اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ اردو ہندوستانی تہذیب کا عظیم ورثہ ہے۔ آزادی کی جنگ میں اردو کی فکری حصہ داری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قومی یک جہتی کی زبان اور گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار ہے۔ گورنر موصوف نے بسملؔ عظیم آبادی کا مشہور شعر ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے۔دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے‘ پڑھتے ہوئے مزید کہا کہ اردو ادب کی پرورش و پرداخت میں مسلم اور غیر مسلم فنکاروں کا تاریخ ساز حصہ رہاہے۔ انہوں نے پریم چند اور دیگر فنکاروں کے ساتھ بہار کے اردو ادب میں شادؔ عظیم آبادی اور سہیل عظیم آبادی کی خدمات کو بھی یاد کیا ۔ گورنر موصوف نے اکادمی کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اردو ہماری تہذیب میں ہے اور اردو کی ترقی نے ہمیں پوری دنیا کو پریم کا پیغام دیا ہے اور اس میں بیرون ملک کے باشندوں کا بھی اہم کردار ہے۔ ہمیں اردو کا استعمال کرنا اور اس کی ترقی کے لئے کام کرنا ضروری ہے۔ اس موقع پر شکریہ کی تجویز پیش کرتے ہوئے پروفیسر اعجاز علی ارشد نے کہا کہ بیرون ہند جو لوگ اردو میں لکھ رہے ہیں وہ اردو کلچر کی عظمت کا ثبوت ہے۔ اس افتتاحی اجلاس کی نظامت سکریٹری اکادمی مشتاق احمد نوری نے فرمایا۔ اس موقع پر سکریٹری کے ہاتھوں گورنر موصوف کو مومنٹو پیش کیا گیا۔افتتاحی اجلاس اور چائے کے مختصر وقفہ کے بعد مقررہ وقت کے مطابق پروفیسر سید ارتضیٰ کریم (دہلی) پروفیسر عبدالصمد (پٹنہ) اور جناب مہتاب قدر (جدہ) کی مشترکہ صدارت میں پہلے اجلاس کا آغاز ہوا جس کی نظامت ڈاکٹر نسیم احمد نسیم نے کی۔ اس میں شہاب الدین احمد (قطر) نے ’’خلیج کا اردو ادب‘‘ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک میں اردو کی نئی بستیاں تیزی سے ترقی کرر ہی ہیں۔ انہوں نے منظوم ادب، صحافت اور شعری محفلوں کے انعقادکا ذکر کیا اور کئی ادبی انجمنوں کے حوالے دیے ، لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ترقی کے اسباب واضح ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بنیادی وسائل و سہولیات کی کمی کی وجہ سے خلیج کا اردو ادب ناقدین و محققین کے لئے باعث کشش نہیں بن رہا ہے، لہٰذا اس رخ پر توجہ رکھتے ہوئے مہجری ادب پر خصوصیت سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر ارشد مسعود ہاشمی (گوپال گنج) نے ’’اردو زبان و ادب چین میں‘‘ کے زیر عنوان قدیم و جدید معلومات سے آراستہ نہایت پر مغز مقالہ نذر سامعین کیا اور بتایا کہ وہاں اردو فکشن اور شاعری کے چینی تراجم کا کام مسلسل فروغ پارہاہے اور چینیوں کی نظر میں اقبالیات ایک محبوب موضوع ہے اور وہ اقبالؔ کی شاعری کو راہ نجات و عمل سے عبارت سمجھتے ہیں۔ چینی زبان میں پریم چندی فکشن کے تراجم بھی مقبول ہیں۔ڈاکٹر حامد علی خاں (پٹنہ) نے اردو کو اسلامی اور ہندوستانی تہذیب کا نقطہ اتصال بتاتے ہوئے متعدد سنین اور دیگر حوالہ جات کے ساتھ اپنے مقالے میں اردو بستیوں کی قدیم و جدید روایات اور ان کے فروغ کی صورتحال پر روشنی ڈالی اور بتایاکہ مصنفین ، ادبی ادارے ، خواتین قلم کار، جامعاتی تعلیم اور اردو بولنے والوں کے لحاظ سے ان ممالک میں واضح پیش رفت ہوتی جارہی ہے۔ پروفیسر صغیر افراہیم (علی گڑھ) نے ’’ہجرت کا بیانیہ اور معاصر اردو فکشن‘‘کے موضوع پر اپنا جامع مقالہ پیش کرتے ہوئے کئی برجستہ سوالات اٹھائے اور ہجرت کی مختلف نوعیت پر روشنی ڈالی اور منٹو، قاضی عبدالستار، عینی اور پیغام آفاقی کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح الگ الگ فن کاروں کے یہاں ہجرت کے کرب کی بازیافت کا الگ الگ انداز ملتا ہے۔ انہوں نے برسبیل تذکرہ جدید ناول’’آخری سواریاں‘‘ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بہر صورت اس قسم کے فن پاروں میں ہجرت کے حوالے سے تین نسلوں کی نفسیاتی کشاکشی ملتی ہے اور اس سے مہجری ادب کے کینوس کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اپنے صدارتی خطابات کے دوران جناب مہتاب قدر (جدہ) نے مقالہ نگاروں کی ستائش کرتے ہوئے ایسے اسکالروں کی ضرورت پر توجہ دلائی جو مہجری ادب پر باقاعدہ کام کریں۔ پروفیسر عبدالصمد (پٹنہ) نے اس بات پر زور دیا کہ زبان کے پھیلاؤ پر محنت ہونی چاہئے۔ انہوں نے اس عالمی کانفرنس کے موضوع کو ضروری، اہم اور منفرد قرار دیتے ہوئے اور غیر ملکی مندوبین کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں جو مقالے پڑھے گئے وہ یقیناًمعلومات افزا اور مقالہ نگاروں کی محنت پر گواہ ہیں۔ انہوں نے ان پہلوؤں کی طرف بھی اشارہ کئے جن کا ہجرت کرنے والوں کو خلاف توقع اور خلاف تصور سامنا کرنا پڑا۔ پروفیسر سید ارتضیٰ کریم (دہلی) نے کہا کہ علمی محفلوں سے خاطر خواہ استفادہ ہمارے نوجوانوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے لفظ ہجرت کے جدید مفاہیم کی طرف جامع اشارے کئے اور کہا کہ علم و فکر کی دنیا وسیع ہے اور ہماری نظر میں اردو کا ماحول و مستقبل یقیناًحوصلہ افزا ہے۔اس اجلاس کے اختتام پر کلمات تشکر نذر کرتے ہوئے سکریٹری اکادمی مشتاق احمد نوری نے کہا کہ بیشک اردو زندہ زبان ہے اور اس کے لئے ہمیں اپنے گھر سے اردو کا کام شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔وقفہ طعام کے بعد دن کے ڈھائی بجے سے پروفیسر علیم اللہ حالی، محترمہ وفایزدان منش (تہران) اور جناب اشفاق احمد (دوحہ) کی مشترکہ صدارت میں دوسرے اجلاس کا آغاز ہوا، جس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر زاہدالحق (حیدرآباد) نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر واحد نظیر (دہلی) نے مہجری ادب کے تعلق سے اپنا پر مغز اور نہایت نفیس اسلوب میں لکھا گیا مقالہ پیش کیا اور ’’مہجر‘‘ کے لفظی ماخذ، ہجرت کے قرآنی نظریے اور اس کے ادبی مفاہیم کی طرف بلیغ اشارے کرتے ہوئے کئی اہم سوالات اور نکات کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے بتایا کہ مہجری ادب کا تعلق زبان سے نہیں، اہل زبان سے ہے اور سبھی فنکاروں کی تخلیقات پر بلاتکلف مہجری ادب کا لیبل نہیں لگایا جاسکتا۔ انہوں نے مہجوری اور مہجری کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے نقل مکانی کے جذباتی کوائف کو برجستہ مثالوں سے سامنے لایا اور لطیف تفاوتی پہلوؤں پر غور و فکر کی دعوت دی۔ جناب ندیم ماہر (دوحہ) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ مہجری ادب کی اصطلاح تارکین وطن عرب لکھاریوں کی دین ہے۔ انہوں نے ہجرت کے عمل کا زمانی منظر و پس منظر سامنے لاتے ہوئے کہا کہ ترک وطن کاکرب مسلم ہے، مگر اس نے بہر حال لکھنے والوں کی صلاحیت میں کمی نہیں آنے دی۔ انہوں نے قطر میں اردو کی صورت حال اور شعری سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے ناسٹلجیائی مضمون کے اشعار سے بھی نوازا اور یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں برصغیر کاکینوس ذرا مختلف ہے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد (دربھنگہ) نے بہار سے پاکستان اور پاکستان سے امریکہ ہجرت کرنے والے شاعر رفیع الدینؔ راز کی کلیات ’’سخن سرمایہ‘‘ کے حوالے سے اپنے مقالے میں ان کی شاعری پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کا اصل جوہر غزلوں میں کھلتا ہے ۔ ہجرت ان کا مقدر رہی، ان کے یہاں موضوعات کا تنوع ہے، وہ بلا شبہ ’’مانوس مشاہدوں اور تجربوں کے ترجمان‘‘ شاعر ہیں اور ان کی شاعری چشمہ حیات کا احساس دلاتی ہے۔ ڈاکٹر احمد کفیل (گیا) نے اپنے مقالہ ’’اردو کے فروغ میں اس کی پیدائش اور وجہ تسمیہ کے کردار‘‘ میں تجزیاتی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو کو ملوان زبان کہنا بڑی غلطی ہے۔ عربی و فارسی کا رول اصلاً اردو کی پیدائش میں نہیں بلکہ اس کی آرائش میں ہے۔ اس زبان کا نام ریختہ عام کرنا غلط ہے۔ علاقائی زبانوں سے بہر حال اردو کے رشتے کی اہمیت ہمیں سمجھنی چاہئے۔ جناب کفیل نے اپنے اس خالص لسانی مقالہ میں ان تعصبات کا بھی ذکر کیا، جس کی شکاریہ زبان فرنگی عہد میں ہوئی۔ جناب مہتاب قدر (جدہ) نے ’’جدہ کے تاریخی مشاعرے اور اس کی جدید صورت حال ‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے وہاں کے شاعروں اور نثر نگاروں کا تذکرہ کیا اور اس تعلق سے وہاں کی صحافت کے مثبت کردار کی طرف بھی اشارے کئے۔ مقالہ خوانی کے بعد وقفہ سوالات کے دوران جناب اسفر فریدی، جناب صفدر امام قادری اور جناب عابد نقوی نے کئی اہم جہات کی نشاندہی کی اور جہاں ایک طرف تلفظ کے حسن و صحت پر توجہ کی بات آئی ، وہیں لسانیات کا سراسما جیات و سیاست سے جوڑنے میں حد درجہ احتیاط اور وضاحت کی ضرورت کا احساس بھی اجاگر ہوا۔ جناب احمد اشفاق (دوحہ) نے اپنے صدارتی خطاب میں مقالہ خواں حضرات کی تحریروں کو مدلل ،معلوماتی اور پر مغز بتایا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ڈاکٹر واحد نظیر نے حسب موضوع معانی و مفاہیم پر مدلل گفتگو کی اور جناب ندیم ماہر نے معلوماتی تحریرسے نوازا، وہیں ڈاکٹر مشتاق احمد کے مقالے سے مہجری ادب کے کسی ایک فن کار کی شخصیت پر اظہار خیال کی ضرورت پوری ہوئی اور احمد کفیل نے قابل بحث سوال سامنے لایا۔ محترمہ وفایزدان منش (تہران) نے اپنے صدارتی تاثرات میں مقالہ نگاروں کی کاوشوں کو لائق ستائش بتاتے ہوئے کہا کہ اردو میں فارسی کا سرمایہ چھپا ہے۔ جب تک ہندوستان ہے، تب تک اردو زبان بھی رہے گی۔ انہوں نے ایران میں اردو مہجری ادب کے تعلق سے بعض اشارے کئے اور کہا کہ اب ضرورت ہے کہ فارسی اردو کو گلے لگائے ۔ پروفیسر علیم اللہ حالی نے اپنے صدارتی کلمات سے نوازتے ہوئے جہاں تلفظ میں فرق اور غلطیوں کے اسباب و عوامل کی طرف اشارے کئے، وہیں ہجرت کے تعلق سے بتایا کہ ہجرت صرف نقل مکانی کا نام نہیں ہے۔ ہجرت کے بعد بھی جب مایوسی ہی ہاتھ آئے تب مہجری ادب وجود میں آتا ہے۔ مہجری ادب میں بہر حال ناتکمیلیت کا درد دوحزن ہوتا ہے۔ جناب حالی نے برسبیل تذکرہ پاکستان میں رفیع الدین رازؔ کی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے عرفان صدیقی تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر واحد نظیر کے مقالے کو پائیدار بتایا، مگر اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اختتام پر پہونچ کر یہ مقالہ سراپا سوال بن گیا ہے اوراس میں کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہے۔ پروفیسر موصوف نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ ہمیں اعتراض کے انداز میں سوالات سے بچنا چاہئے۔ سکریٹری اکادمی جناب مشتاق احمد نوری نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا کہ صحت تلفظ کی اہمیت اپنی جگہ ،مگر اصل بات یہ بھی ہے کہ لفظیات کے تفہیمی پہلو پر توجہ رکھی جائے۔ انہوں نے کئی دلچسپ واقعات کے حوالے سے کہا کہ دراصل اردو میں دیگر زبان کے الفاظ ضم کر لینے اوران کے لہجے ہضم کر لینے کی خدا داد صلاحیت ہے۔ حسب پروگرام شام چھ بجے سے جناب جاوید دانش (کناڈا) نے میلوڈرامہ ’’داستان ہجرتوں کی‘‘ پیش کیا ۔ اس پروگرام میں وزیر اقلیتی فلا ح ڈاکٹر عبدالغفور کی بھی تشریف فرما رہے۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد اور نہایت دلپذیر پیش کش تھی جس سے ناظرین و سامعین خوب خوب محظوظ ہوئے۔ واضح رہے کہ دو روزہ عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن ۲۲ مارچ کو ساڑھے دس بجے سے پروگرام کا آغاز ہوگا۔ تیسرا اجلاس بارہ بجے دن تک چلے گا اور پھر سوابارہ بجے سے چوتھے اجلاس کا اور تین بجے سے پانچویں اجلاس کا انعقاد ہوگا۔ یہ سبھی اجلاس ملک اور بیرون ملک کے مہمانوں کی شرکت سے با رونق بنیں گے اور ان کے کلمات سے کانفرنس کے موضوع کی مختلف جہتیں روشن ہوں گی۔ پانچویں اجلاس کے بعد شام چھ بجے سے ایک شعری نشست شروع ہوگی جس میں بیرون ملک شعرا کے علاوہ مقامی شعرائے کرام اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ فرمائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں