اردو | हिन्दी | English
203 Views
Indian

اپریل سے بی ایس 3گاڑیوں پر پابندی

supreme court
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی’ 29مارچ(یو این آئی) سپریم کورٹ نے کہا کہ لوگوں کی صحت کسی مالی نقصان کے مقابلے میں زیادہ قیمتی اور اہم ہے ، اس لئے بی ایسIIIمعیار والی گاڑیاں یکم اپریل سے ہندوستان میں فروخت نہیں کی جاسکیں گی۔جسٹس مدن بی لوکر او ردیپک گپتا پرمشتمل بنچ نے معاون عدالت ،ایس آئی اے ایم اور مختلف فریقوں کے دلائل کی سماعت کرنے کے بعد مذکورہ معیار والی گاڑیوں کی فروخت سے متعلق مرکزی سرکار کی درخواست آج ٹھکرادی۔عدالت عظمی نے کہا کہ یکم اپریل سے بی ایس تھری اخراج والی گاڑیوں کا نہ تو رجسٹریشن ہوگا او رنہ انہیں فروخت کیا جاسکے گا۔ ان گاڑیوں سے کافی آلودگی ہوتی ہے جو ماحول کے لئے مناسب نہیں ہے ۔عدالت کے اس فیصلہ سے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی قریب ساڑھے آٹھ لاکھ گاڑیاں فروخت نہیں ہوپائیں گی۔ اس سے ان کمپنیوں کو کل بارہ ہزار کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا ہوگا۔اس معاملہ میں معاون عدالت نے کہا تھا کہ بڑے شہروں میں خصوصاً بستیوں میں آلودگی کافی خطرناک حد پر پہنچ چکی ہے اور چار پہیہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو ماحولیاتی تحفظ قوانین پر عمل کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا تھا کہ سرکار کو یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ آٹو موبائل کمپنیاں بھارت اسٹیج ۔4 (بی ایس VI) میں بی ایس III گاڑیاں بنائیں اور فروخت کریں لیکن وہ نفع کمانے کے چکر میں بی ایس III گاڑیاں بنانے میں کمی نہیں کررہی ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ سرکار آج نہیں تو کل آرڈیننس نافذ کرے گی ہی اس صورتحال میں انہیں بی ایس III گاڑیاں فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے ۔بھارت اسٹیج III گاڑیوں سے کافی اخراج ہوتا ہے جو ماحول کے لئے سازگار نہیں ہے ۔عدالت نے کہا ”مالی خسارے کے بجائے ہمیں لوگوں کی صحت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے ”۔

About the author

Tariq Hasan