SUPREME COURT 3

بابری مسجدشہادت کے ملزمین کو جھٹکا

ممبئی ، 6 مارچ (یو این آئی) بابری مسجد کیس کی سپریم کورٹ میں ازسر نو سماعت اور فیصلہ کے جلد تصفیہ کے ساتھ بابری مسجد مسماری میں ملوث بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی 249سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ، مرلی منوہر جوشی،مرکزی وزیر اوما بھارتی اوردیگر رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلانے کے بھی احکامات جاری کئے ہیں ۔ان ملزمین پر بابری مسجد کی مسماری کیلئے سازش کے الزامات ہیں۔سپریم کورٹ نے ان ملزمین کے خلاف چل رہے مقدمہ کی سست روی اور مقدمہ کا فیصلہ جلد کر نے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔جسٹس پناکی چندر گھوش اور جسٹس روہگٹن ایف نریمن کی بنچ ،مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور حاجی محبوب احمد کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے ۔سماعت کے دوران عدالت عظمی نے سی بی آئی سے پوچھا کہ مندرجہ بالا رہنماؤں کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ نے جب مجرمانہ سازش رچنے کی دفعہ خارج کی تھی تو ضمنی چارج شیٹ کیوں نہیں داخل کی گئی۔ عدالت نے اپنے احکامات میں یہ بھی کہا کہ صرف تکنیکی بنیاد پر کسی کو راحت نہیں دی جا سکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ معاملے کی سماعت دو الگ الگ عدالتوں میں کرنے کے بجائے ایک ہی جگہ کیوں نہیں کی جا سکتی؟عدالت نے کہا کہ رائے بریلی میں چل رہی سماعت کو لکھنؤ منتقل کیوں نہ کر دیا جائے ، کیونکہ اس سے متعلق ایک معاملہ کی سماعت پہلے ہی وہاں جاری ہے ۔ کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت 22 مارچ کو مقرر کیا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ ایودھیا میں بابری مسجد کو مسمار کئے جانے کے بعد مسٹر اڈوانی، ریاست کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ، مسٹر جوشی، محترمہ بھارتی اور بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے کئی لیڈروں کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے کے معاملہ ہٹا لیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمی میں اپیل کی گئی ہے ، جس کی سماعت چل رہی ہے ۔ پٹیشن میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 20 مئی 2010 کے حکم کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 120 بی (مجرمانہ سازش) ہٹا دیا تھا۔ گزشتہ سال ستمبر میں سی بی آئی نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ اپنی پالیسی کا تعین خود کرتی ہے۔وہ کسی سے متاثر نہیں ہوتی ہے ۔سی بی آئی کے مطابق مذکورہ ملزمین کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے کے الزامات ہٹانے کی کارروائی اس کے کہنے پر نہیں کی گئی ہے ۔ شرپسندوں کے خلاف مقدمہ چلائے جانے اور مقدمہ کاتصفیہ بلاتاخیر کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کا مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر ور کن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے خیر مقدم کیاہے۔انہوں نے کہاہے کہ بابری مسجد مسماری کیس میں سپریم کورٹ نے ملزمین کے خلاف جو احکامات جاری کیا جانا مستحسن قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی مسماری میں ملوث ملزمین پر مقدمہ چلانے کے ساتھ انہیں جلد از جلد سزائیں دی جانی چاہئے ۔ بابری مسجد کی شہادت ملک کی جمہوریت کے لئے انتہائی سیاہ ترین دن تھا۔ ایسے میں ان ملزمین کے خلاف کورٹ نے جو سخت نوٹس لیا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایل کے اڈوانی 249اوما بھارتی اور مرلی منوہر جوشی پر سازش رچنے اور بابری مسجد کی مسماری کے لئے کارسیوکوں کومشتعل کر نے کے بھی الزامات ہیں۔ ان ملزمین کے خلاف کارروائی ازحد ضروری ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے مقدمہ کی تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ مقدمہ کی سست روی کے سبب اس کے مدعی ہاشم انصاری بھی جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ بی جے پی لیڈران نے 22 مارچ 2017 ء کو مقدمہ کے حتمی فیصلہ کے موقع پر حاضری کی درخواست دی تھی ،جسے کورٹ نے نامنظور کر دیا۔ اب بی جے پی لیڈران کو مقدمہ کے دوران عدالت میں حاضر رہنا ہوگا ۔ ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے دو دہائی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ تاہم اس کے ملزمین آزادگھوم رہے ہیں ۔جبکہ اس کے ردعمل کے طور پر ممبئی میں ہوئے بم دھماکہ کے ملزمین کو سزائے موت تک دی جاچکی ہے۔ ایسے میں بابری مسجد ملزمین کو بھی سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے ۔عدالت سے یہ امید ہے کہ وہ اس معاملے میں بلاتاخیراپنا فیصلہ سنائے گی تاکہ ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچ سکیں ۔

کیٹاگری میں : Indian

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں