Train-07-03-2017-1488867243_storyimage 2

بھوپال ۔ اُجین پسنجرمیں دھماکہ

بھوپال، 07 مارچ (یو این آئی) مدھیہ پردیش پولیس نے آج بھوپال اجین پسنجر ٹرین کی ایک بوگی میں دھماکے کے واقعہ کودہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے میں تین ملزمان کو ریاست کے پپریا کے قریب سے حراست میں لیا ہے ۔پولیس کے اعلی سطحی ذرائع نے یواین آئی سے بات چیت کے دوران اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بھوپال سے روانہ ہوئی ٹرین میں شاجاپور ضلع کے جبڑي اسٹیشن کے قریب صبح نو بج کر 50 منٹ پر ایک بوگی میں امونیم نائٹریٹ کے ذریعے دھماکہ کیا گیا۔ تاہم اس کی شدت بہت کم تھی اور زیادہ نقصان نہیں ہو پایا۔ اس حملے میں تقریبا ایک درجن افراد زخمی ہوئے ہیں جن کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔ذرائع نے کہا کہ اس واقعہ کے ساتھ ہی ریاستی پولیس کا انٹیلی جنس نظام، انسداد دہشت گرد اسکوارڈ (اے ٹی ایس) اورپوری پولیس انتظامیہ فعال ہوگئی۔ اس بنیاد پر تین مشتبہ افراد کو ہوشنگ آباد ضلع کے پپریا سے حراست میں لیا گیا۔ یہ اطلاع فوری طور پر مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ہی پڑوسی اتر پردیش پولیس کو دی گئی اور اس تناظر میں اتر پردیش پولیس بھی بڑی کارروائی کر رہی ہے ۔ابتدائی پوچھ گچھ میں پتہ چلا ہے کہ مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں پھیلے اس دہشت گرد نیٹ ورک کی منصوبہ بندی دونو ں ریاستوں کے ساتھ ہی ملک کے کئی مقامات پر ٹرین میں دھماکے کرنے کی تھی۔مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اور وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ ٹرین میں دھماکے کے واقعہ کے بعد سے ہی ہر لمحہ واقعات پر نظر رکھے ہوئے تھے اور پولیس ڈائریکٹر جنرل رشی کمار شکلا سمیت اعلی حکام کو ضروری ہدایات دے رہے تھے ۔ دھماکے کے واقعہ کے پیچھے کسی خوفناک سازش کا خدشہ سامنے آنے پر فورا اے ٹی ایس چیف سنجیو سمیع، بم ڈسپوزل ماہرین اور سینئر افسران کو جائے حادثہ پر بھیجا گیا۔ خود پولیس ڈائریکٹر جنرل بھی جائے حادثہ پر پہنچے اور حکام کو ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ذرائع نے اس معاملے کی ابتدائی جانچ کے بعد بتایا کہ ٹرین میں گارڈ کی بوگی سے ملحقہ بوگی میں ایک اٹیچی میں امونیم نائٹریٹ پر مشتمل دھماکہ خیز مادہ رکھا گیا تھا۔ ٹرگر کے ذریعے اس میں دھماکہ کیا گیا۔ اس وجہ سے بھارتی یادو، سید اطہر حسین، جیا سنگھ، پشپا سنگھ کشواہا، نیہا یادو، بابو لال مالویہ، وسیم اور امرت ساہو سمیت تقریبا گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں، ان میں سے دو سے تین افراد کو علاج کے لیے بھوپال میں اور بقیہ کو شاجاپور ضلع کے شجال پور کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ذرائع نے کہا دھماکے کی آواز کے بعد سست روی سے چل رہی ٹرین کو روکا گیا اور متاثرہ بوگي کے مسافر بوگی سے کودنے لگے ۔ دھماکے کی وجہ سے بوگی کا وہ حصہ بری طرح تباہ ہوگیا۔ فوری طور پر جائے حادثہ پرپہنچے سینئر پولیس افسران نے معاملے کو سمجھ لیا اور ریاستی پولیس نے فوری طور پرکاروائی کرتے ہوئے قصورواروں کی گرفتاری کے لئے کوششیں شروع کر دیں۔ اس واقعہ کے بعد سے بھوپال، سیھور، شاجاپور، اجین، دیواس اور ارد گرد کے اضلاع کی پولیس کے ساتھ ہی پوری ریاست میں پولیس کو الرٹ کر دیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ حراست میں لئے گئے ملزمان سے ابتدائی پوچھ گچھ کی بنیاد پر ریاست میں کچھ مقامات کے ساتھ ہی اتر پردیش میں پولیس کاروائی شروع کر دی گئی ہے ۔ اس میں مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی مدد کر رہی ہیں۔اس درمیان وزیر اعلی مسٹر چوہان نے دھماکے کی صورت میں سنگین زخمیوں کو پچاس پچاس ہزار روپے اور زخمیوں کو پچیس پچیس ہزار روپے کی مدد مہیا کرانے کا اعلان کیا ہے ۔ مسٹر چوہان اور وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ نے ریاستی پولیس کی طرف سے فوری طور پر کی گئی کارروائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس انتظامیہ اور ملزمان کو گرفتار کرنے والے جوانوں اور افسران کو مبارکباد دی ہے ۔وزیر داخلہ مسٹر سنگھ نے کہا کہ اس ریاست میں دہشت گردوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ حکومت دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لئے مصروف عمل ہے اور اسی کے مطابق آگے بھی قدم اٹھائے جائیں گے ۔اس درمیان بھوپال، سیھور اور دیگر تمام اہم اسٹیشنوں پر بھی سیکورٹی میں لگے پولیس فورس اور ریلوے سیکورٹی فورس (آر پی ایف) سے خصوصی مستعدی اور احتیاط برتنے کے لئے کہا گیا ہے ۔

کیٹاگری میں : Indian

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں