rajnath 2

جبڑی ریل دھماکے کی جانچ این آئی اے کے سپرد : وزیر داخلہ

نئی دہلی،10مارچ(یواین آئی)حکومت نے لکھنؤ میں مارے گئے مبینہ دہشت گرد سیف اللہ کے والد سرتاج کے بیان پر ان کی ستائش کرتے ہوئے آج کہا کہ مدھیہ پردیش کے جبڑی ریلوے اسٹیشن کے نزدیک بھوپال ۔اجین پیسنجرٹرین میں گزشتہ منگل کو ہوئے دھماکے کی تفتیش قومی جانچ ایجنسی(این آئی اے ) کرے گی۔وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے اس دھماکے کے سلسلے میں آج راجیہ سبھا میں بیان دیا اور کہا کہ اس معاملے میں مدھیہ پردیش اور اترپردیش کی پولیس اور مرکزی ایجنسیوں نے تال میل کی اچھی مثال پیش کی اور ملک کے تحفظ پر پیدا ہوئے ممکنہ خطرے کو ٹالنے میں کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے کی جانچ این آئی اے سے کرائی جائے گی۔اس دھماکے میں ریل گاڑی کے جنرل کوچ کے 10مسافر زخمی ہوگئے تھے ۔زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد دونوں ریاستوں کی پولیس اورمرکزی ایجنسیوں کے ذریعہ کی گئی فوری کارروائی کی وجہ سے ہی لکھنؤ کی حاجی کالونی میں مبینہ دہشت گرد سیف اللہ کو مارا گیا۔حالانکہ سیف اللہ کے والد سرتاج نے کہا کہ جو وطن کا نہ ہوسکا وہ ان کا بیٹا کیا ہوگا جو ستائش اور قابل فخر ہے ۔انہوں نے اپنے بیٹے کی لاش نہ لے کر انوکھی مثال پیش کی ہے ۔وزیرداخلہ نے کہا ”حکومت کو سیف اللہ کے والد پر فخر ہے ۔”مسٹر سنگھ نے کہا،”میں اپنے بیٹے کو کھونے والے محمد سرتاج کے تئیں تعزیت کا اظہار کرتا ہوں لیکن انہوں نے جو انوکھی مثال پیش کی ہے اس پر نہ صرف پوری ایوان کو بلکہ پورے ملک کو ناز ہے ۔دکھ کی اس کھڑی میں سرتاج کے خاندان کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔”مسٹر سنگھ نے بتایا کہ ٹرین دھماکے کے معاملے میں اب تک آٹھ گرفتاریاں کی گئی ہیں۔جانچ میں پایا گیا ہے کہ دھماکے آئی ای ڈی کا استعمال کیاگیا تھا۔مدھیہ پردیش پولیس نے مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل قائم کیا تھا جس کے بعد ہوشنگ آباد ضلع کے پپریا میں گاڑی چیکنگ کے دوران تین مشتبہ کو حراست میں لیا گیا۔وزیر داخلہ نے کہا پپریا میں گرفتار مشتبہ سے پوچھ تاچھ اور دیگر ذرائع سے موصول اطلاع کی بنیاد پر اترپردیش پولیس نے لکھنؤ،اٹاوہ اور ارریا میں مختلف مقامات پر کارروائی کی۔اترپردیش انسداد دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) نے لکھنؤ کے کاکوری تھانہ علاقے کی حاجی کالونی کے ایک مکان میں مشتبہ محمدسیف اللہ کے مکان کا محاصرہ کیا۔اس کے خودسپردگی کرنے سے انکار کرنے پر پولیس نے 12گھنٹے کی مہم میں اسے مار گرایا۔مڈبھیڑ میں مارے گئے سیف اللہ کے کمرے سے آٹھ پستول ،630زندہ کارتوس،3موبائل فون،چار سم کارڈ،2واکی ٹوکی سیٹ،45گرام سونا،ڈیڑھ لاکھ روپے نقد اور کچھ غیر ملکی کرنسی برآمد کی گئی ہے ۔واقعہ کے سلسلے میں لکھنؤ میں اے ٹی ایس تھانے میں معاملہ درج کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اے ٹی ایس نے کانپور ،اٹاوہ اور ارریا سے بھی ایک ایک مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے ۔اٹاوہ اور ارریا سے ہتھیاروں کی فراہمی کرنے کے الزام میں ایک ایک مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔معاملے کی آگے کی جانچ مرکزی ایجنسیوں کے تال میل سے کی جارہی ہے اور ملزمین کے دیگر رابطہ ذرائع کے بارے میں اطلاع یکجا کی جارہی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں