اردو | हिन्दी | English
918 Views
Health

رات گئے تک جاگنا فائدہ مند یا نقصان دہ

raat gaye
Written by Tariq Hasan

*۔ شبنم خاتون
رات گئے تک جاگنا کچھ افراد کی عادت ہوتی ہے اور ایسے افراد کے لیے یہ طرز زندگی کے معمولات کا حصہ بن جاتا ہے۔ انسان سونے کے لیے اپنی مرضی کا وقت کا انتخاب کرسکتے ہیں اور وہ رات گئے تک جاگنے یا جلد سو کر علی الصبح اٹھ سکتے ہیں۔ جلد اٹھنے والے صبح جلدی اٹھتے ہیں جبکہ رات گئے تک جاگنے والے علی الصبح تک خوشی سے جاگتے ہیں۔ اب علی الصبح جاگنے کے اپنے فوائد ہیں مگر یہاں رات گئے تک جاگنے والوں کا ذکر کریں گے جن کے بارے میں طبی سائنس نے کیا کچھ بتایا ہے وہ درج ذیل ہے۔ کسی مسئلے کا اچھا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں؟ تو اس کا جواب رات گئے تک جاگنے والے کسی فرد سے جاننے کی کوشش کریں، کم ازکم اٹلی میں ہونے والی ایک تحقیق میں تو یہی دعویٰ کیا گیا ہے۔ کیتھولک یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں وہ زیادہ تخلیقی سوچ کا اظہار کرتے ہیں۔ مختلف ذہنی آزمائشی مقابلے میں ایسے افراد نے صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ کامیابی حاصل کی۔ محققین کے مطابق ایسے افراد کے اندر غیرروایتی روح ہوتی ہے اور آسانی سے مسائل کے حل ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ویسے تو علی الصبح جاگنے والے افراد اپنے کام جلد نمٹاتے ہیں مگر وہ ذہنی طور پر بھی رات گئے تک جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ جلدی تھکاوٹ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ بیلجیئم میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ان دونوں گروپس کے درمیان ذہنی چوکنے پن کے حوالے سے واضح فرق پایا جاتا ہے، نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ جلد اٹھتے ہیں ان کے مقابلے میں رات گئے تک جاگنے والے زیادہ طویل وقت تک ذہنی طور پر ہوشیار اور چوکنے رہتے ہیں۔ لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قدرتی طور پر تمام جانداروں کے اندر ایک گھڑی یا ردھم پایا جاتا ہے جو اعصابی خلیات کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ رات کو زیادہ فعال یا الو کی طرح جاگنے والے علی الصبح اٹھنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ذہانت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ تحقیق میں امریکی نوجوانوں کے جائزے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ زیادہ ذہین افراد عام طور پر رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں، یا یوں کہہ لیں کہ دیر سے سونا اور جاگنا انہیں پسند ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق اوسط ذہانت اور نیند کے سونے کے رجحان کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔ کینیڈا کی البرٹا یونیورسٹی کی تحقیق میں صبح جلد اور رات کو دیر سے سونے والے افراد کے درمیان جسمانی مضبوطی کو جانچا گیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ صبح جلد اٹنے والے افراد کی جسمانی مضبوطی دن بھر برقرار رہتی ہے جبکہ رات گئے تک جاگنے والوں میں یہ مضبوطی شام میں عروج پر نظر آتی ہے۔ ایسے افراد میں رات کو موٹر کورٹیکس اور ریڑھ کی ہڈی کے کام کرنے کے افعال میں اضافہ ہوجاتا ہے، اس کے مقابلے میں صبح جلد اٹھنے والوں یہ امتزاج بیک وقت عروج پر کسی وقت نظر نہیں آتا۔ سننے میں تو بالکل عجیب لگے مگر جو لوگ زیادہ دیر تک جاگتے ہیں وہ جسمانی طور پر زیادہ توانائی کے مالک ہوسکتے ہیں، حیران کن طور پر جرمنی کی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جب آپ سونے کے لیے دیر سے بستر پر جاتے ہیں تو اٹھنے پر خود کو زیادہ توانائی سے بھرپور پاتے ہیں اور آپ کے لیے نیند کے چکر کو مکمل کرنے کے لیے وقت زیادہ ہوتا ہے۔ رات گئے جاگنے والے جب ماں یا باپ بنتے ہیں تو ان کی جسمانی گھڑی ان کے معمولات میں آنے والی تبدیلی کو آسانی سے برداشت کرلیتی ہے، جیسا سب کو معلوم ہے کہ نومولود بچے ایک وقت میں دو یا چار گھنٹوں سے زیادہ نہیں سوتے، تو والدین کو بھی بار بار اٹھنا پڑتا ہے، تاہم رات گئے تک جاگنے والوں کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ اکثر جاگ ہی رہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح بیمار افراد کی دیکھ بھال کے لیے وہ رات کو بخوبی تیار رہتے ہیں جبکہ صبح جلد جاگنے والوں کے لیے یہ کام آسان نہیں ہوتا۔ ایک تحقیق کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد میں ذہنی تنا? کا باعث بننے والے ہارمون کورٹیسول کی شرح صبح جلد اٹھنے والوں کے مقابلے یں کم ہوتی ہے، آسان الفاظ میں بستر پر دیر سے جانا دھیمے مزاج کی شخصیت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اگر تو آپ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہیں تو آج کے دور میں آپ اکثریت میں ہے، جرمنی میں ہونے والی ایک یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اس وقت صرف دس فیصد کو علی الصبح جاگنے والے افراد سمجھا جاسکتا ہے، جبکہ بیس فیصد رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں، باقی 70 فیصد کے سونے کے معمولات بدلتے رہتے ہیں اور وہ دونوں کیٹیگریز میں فٹ نہیں ہوتے۔ ویسے تو ہر ایک کے اپنے مشغلے ہوتے ہیں مگر رات گئے تک جاگنے والوں کے لیے اس حوالے سے زیادہ وقت ہوتا ہے، اب وہ مطالعہ ہو یا کچھ اور، ان کے پاس ان سرگرمیوں کے لیے اضافی وقت ہوتا ہے۔ سننے میں متضاد لگے گا مگر رات گئے تک جاگنے والوں کے پاس ذہنی تنا? میں کمی لانے والی سرگرمیوں کا حصہ بننے کے لیے زیادہ وقت ہوتا ہے۔ اب وہ یوگا کی مشقیں ہوں یا کچھ اور، وہ رات کا وقت ان سرگرمیوں کے لیے وقف کرسکتے ہیں جو شخصیت کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہو جو کہ ایک مثبت چیز ہے۔

About the author

Tariq Hasan