Syed-Shahabuddin-the-former-IFS-and-MP-died-at-the-age-of-82 2

قومی وملی رہنما سیدشہاب الدین کا انتقال

نئی دہلی’ 4مارچ (یو این آئی) معروف مسلم رہنما، اسکالر ،افسر شاہ اور سابق ممبر پارلیمنٹ’ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ساق صدر سید شہاب الدین کا آج یہاں طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔آج یہاں بستی حضرت نظام الدین کے قریب واقع پنج پیران قبرستان میں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا ۔ ان کی وفات کے ساتھ ہی ہندوستان میں مسلم سیاست کے ایک باب کا خاتمہ ہوگیا۔نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری سمیت مختلف مسلم مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں’ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادنیز سماجی مصلح سوامی اگنی ویش سمیت متعدد غیر مسلم افراد بھی موجود تھے ۔ان میں جمیعت علماء ہند کے مونالا محمود مدنی ‘ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی ممبر پارلیمنٹ’ جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سید جلال الدین عمری’ سماجی کارکن کمال فاروقی’ آل انڈیا ملی کونسل اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے ڈاکٹر محمد منظور عالم’ مولانا ولی رحمانی’ جمعیت اہل حدیث کے مولانا شیث تیمی اور مولانا اظہر مدنی ‘ مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد، خواجہ محمد شاہد وغیرہ شامل ہیں۔واضح ہوکہ انہیں تنفس کی شکایت کے بعد گذشتہ 18فرور ی کو نوئیڈا کے جے پی اسپتا ل میں داخل کرایا گیا تھا جہاں آج صبح 5:22 بجے انہوں نے آخری سانس لی۔ان کی عمر تقریباً82 سال تھی۔ پسماندگان میں اہلیہ اور چار بیٹیاں ہیں۔ ا ن کے اکلوتے بیٹے کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے ۔سید شہاب الدین کی پیدائش 1935 میں جھارکھنڈ کے رانچی میں ہوئی۔انہوں نے اپنے زمانے میں بہار اسکول ایگزامنیشن بورڈ کے میٹرک کے امتحان میں ٹاپ کیا۔ 1958میں وہ انڈین فارن سروس(آئی ایف ایس) کے لئے منتخب کئے گئے ۔ ایک سفارت کار کی حیثیت سے انہوں نے کئی ملکوں میں سفارتی خدمات انجام دیں۔ان میں سعودی عرب اور امریکہ شامل ہیں۔آئی ایف ایس سروس چھوڑ کر وہ سیاست میں آگئے تھے ۔ 1979 سے 1996 تک وہ پارلیمنٹ (لوک سبھا اور راجیہ سبھا)کے رکن رہے ۔ سابق وزیر اعظم چندر شیکھر نے اپنے دور میں انہیں وزارت کی پیش کش کی تھی لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیاتھا۔انہوں نے 1989 میں انصاف پارٹی تشکیل دی تھی جسے ایک سال کے اندر ہی تحلیل بھی کر دیا تھا۔ وہ ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے کے پیروکار کے طور پر بھی جانے جاتے تھے اور ان کی رائے میں حکومت کی ہر سطح پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شراکت داری ہونی چاہئے تھی۔وہ کئی مسلم اداروں اور تنظیموں سے بھی منسلک رہے ۔ وہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے 2004 سے 2007 کے درمیان صدر بھی رہے ۔ انہوں نے 1983 سے 2002 کے درمیان اور جولائی 2006 سے ماہانہ جرنل’ مسلم انڈیا‘ کی ادارت کی ۔ وہ تازہ واقعات پر ٹی وی پر ہونے والے مباحثوں میں بھی مسلسل حصہ لیتے رہے ۔ انہوں نے پاکستان سے لے کر سعودی عرب کے کئی اخبارات میں مختلف موضوعات پر مضامین لکھے ۔سید شہاب الدین نے بابری مسجد کی بازیابی کے لئے بابری مسجد ایکشن کمیٹی بنائی ۔سید شہاب الدین نے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والی سلمان رشدی کی کتاب ”شیطانی آیات” پر ہندستان میں پابندی لگائے جانے کے لئے اہم رول ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے شاہ بانو کیس میں مسلمانوں کا موقف پیش کرنے میں بھی اہم رول ادا کیا تھا۔ وہ طویل عرصہ سے سرگرم سیاست سے دور تھے ۔سید شہاب الدین کرپشن کے خاتمے اورقومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے زبردست حامی تھے ۔وہ ایک جہاندیدہ انسان اورمعروف قومی وملی دانشورتھے ۔ انہوں نے بھرپور زندگی پائی اور پوری زندگی قوم وملت اور وطن عزیز کی بے لوث خدمت میں لگادی۔وہ نہ صرف ایک مفکر تھے بلکہ ایک ایسے سیاست دان تھے جن میں مستقبل کی آہٹ سننے کی صلاحیت تھی اور وہ مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ تمام کمزور طبقات کی آوازتھے جن کی دور رس نگاہیںآنے والے ہندوستان کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ان کی ایک بیٹی پروین امان اللہ، جو سبکدوش آئی اے ایس افسر مسٹر افضل امان اللہ کی بیوی ہیں، فی الحال عام آدمی پارٹی کی بہار کی لیڈر ہیں۔ وہ بہار کی نتیش حکومت میں وزیر بھی رہ چکی ہیں۔سید شہاب الدین کے دیرینہ رفیق کار عبدالواحد نے یو این آئی کو بتایا کہ ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کل اتوار کو میوروہار ون ایکسٹنشن کے ایسٹ اینڈ اپارٹمنٹ میں واقع ان کی رہائش گاہ پرصبح نو بجے سے گیارہ بجے کے درمیان ہوگی۔انہوں نے مزید بتایا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے مرکزی دفتر واقع اوکھلا میں بھی کل ہی ایک دعائیہ اجلاس شام چار بجے منعقد کی جائے گی۔

کیٹاگری میں : Indian

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں