اردو | हिन्दी | English
198 Views
Bihar News

مسلمان خطاکار ہوسکتے ہیں لیکن ملک کے غدار نہیں : بلیاوی

motihari
Written by Tariq Hasan

مشرقی چمپارن، 30مارچ (محمد ارشد)۔ سر زمین منگلا پور کلیان پور پر منعقدہ سالانہ حیدری کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا۔اورشاعراسلام جناب دلکش رانچوی،مبارک حسین مبارک جھارکھنڈ نیاپنی مسحور کن آواز میں حمد ونعت پیش کر سامعین کو خوب محظوظ کیا۔اور پوری رات لوگ محفل میں مقررین کے بیانات کا لطف اٹھاتے رہے ۔ جبکہ غازی ملت مولانا غلام رسول بلیاوی ایم ایل سی بہار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سیاسی افکار وخیالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں جو اس ملک کی سالمیت کیلیئے نہایت خطرناک ہے۔اور سیکولرازم کی معنویت واہمیت کے داؤ پپچ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اس لئے ھمیں ھمیشہ چاق وچوبند رہنیکی ضرورت ہے اور آپسی اتحاد واتفاق وقت کی اہم ترین ضرورت ھے اور ساتھ ہی سماج میں جہیز کے بڑھتے رجحان کا سدباب کرنا ھوگا اور اس کے لئے علمائے کرام ائمہ عظام کیساتھ ساتھ سماجی راہنماؤں کو آگے آنا ھوگا اور مستحکم اقدام کرنا ھوگا۔ اولاد اور ووٹ کی خرید و فروخت جب تک بند نہیں ھوگا اس وقت ہم اغیار کے ٹکروں کے محتاج رہینگے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک کے اقلیتوں کو بہت سونچ سنبھل کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہر اکثریتی طبقہ کے لوگوں میں اقلیتوں کے تئیں تعصب پرستی کا گراف بڑھتاہی جارہاہے۔ حکومت ھند کی طرف سے کبھی یکساں سول کوڈ نفاذ کا معاملہ اور کبھی تین طلاق کو ایشو بناکرذہنی کرب میں مبتلا کیا جاتا ہے تو کبھی دھشتگردی کے نام پر ہمارے جیالوں کو گرفتار کیا جاتا ہے انہیں معلوم ھونا چاہیے کہ مسلمان خطاکار وسیہ کارھوسکتاھے لیکن ملک کا غدار نھیں ھو سکتا۔یکساں سول کوڈ کی وکالت کرنے والے سب سے پہلے متھرا سے کاشی تک کی مندروں میں دلت پجاری کو بحال کریں خود اس کا مطلب سامنے آجائے گا۔اور وزیراعظم پر چسکی لیتے ہوئے کہا کہ جو شخص اپنی دھرم پتنی کا مان سممان نہیں کرسکاوہ اس ملک کی تقدیر کیا بدل سکتا ہے؟۔ہم ایک روٹی کم کھائیں لیکن اپنے بچوں کو پڑھائیں۔انہوں نے کہا کہ کہ تعلیم ہی وہ شئے ہے جس کے ذریعہ اسلام مخالف دشمنوں کو ہم منھ توڑ جواب دے سکتیہیں اس لئے سب سے پہلے ہم اپنی اولاد کو عمدہ تعلیم دلائیں اور اس بات کے لئے پابند عہد ہو جائیں کے جب تک ہمارے بچے پڑھ نہیں لیتے ہم اپنے آپکو کامیاب نہ سمجھیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ایک ہوکر جواب دینے کی ضرورت ہے جب تک ہم متحد نہیں ہونگے ہمیں اسی طرح سے شوشہ چھوڑ کر آپس میں ہی لڑوایا جائیگا اور ہم آپسی انتشار کے سبب ہی تباہ وبرباد ہیں۔جبکہ خطیب الاسلام علامہ سید راشد میاں مکی کچھوچھہ شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ شریعت مطھرہ پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے سماج کو جہالت سے پاک وصاف کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔رحمت دوعالم کے نقشِ قدم کو اپنی زندگی کا مشعل بنائیں اور اولیاء اللہ کے دامن کرم سے وابستگی رکھیں۔جبکہ صدرِ اجلاس نے اپنے صدارتی خطبے میں آپسی اتحاد واتفاق اخوت ومساوات سماجی ھم آہنگی قائم رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی اولاد کو علم و ہنر کے زیور سے مزین کریں اور اسلامی اصولوں پر عمل کرتے رھیں۔اور سرپرست اجلاس پیر طریقت علامہ الحاج سید نبیل احمد حیدرالقادری سجادہ نشیں خانقاہ حیدریہ حسن پورہ سیوان کی رقت آمیز دعاء پر کانفرنس اختتام پذیرہھوئی۔کانفرنس کی صدارت پیرطریقت علامہ ڈاکٹر سید ناھید احمد صاحب سجادہ خانقاہ حیدریہ،اور نظامت نقیب ہندوستان مولانا محبوب گوھر نے فرمائی۔اس موقع سے استاذ العلماء سید فضل اللہ مولانا محبوب عالم مولانا ممنون الحق حیدری مولانا منظور عالم مولانا سراج الحق اشرفی مولانا عاقب چشتی کیعلاوہ راجد لیڈر ونود کمار شریواستو محمد اسرار عالم جے ڈی یو کے ریاستی جنرل سکریٹری وصیل احمد خان چنو سنگھ اور سینکڑوں علمائے کرام وائمہ عظام موجود تھے۔تقریباً بیس ھزار سیزیادہ فرزندان توحید موجود تھے اور کانفرنس کمیٹی کے تمام عہدیداران وارکان نے بڑی محنت و لگن سے کانفرنس کے نظم ونسق کی ذمہ داری پوری کی۔

About the author

Tariq Hasan