آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Deen

اسلامک فقہ اکیڈمی کے 26 ویں سہ روزہ فقہی سمینار کا آغاز

IFA10
Written by Tariq Hasan

اجین:4 مارچ( پریس ریلیز)مرکزی ہندکے شہر اجین میں منعقد ہونے والے عالم اسلام کی مشہور فقہی اور تحقیقی تنظیم اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 26 ویں سہ روزہ اجلاس کا آج آغاز ہوگیا ہے۔افتتاحی اجلاس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالدسیف اللہ رحمانی نے کہاکہ اسلامک فقہ اکیڈمی کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا جس کو آج 28 سال کا عرصہ گزرگیاہے اور شہر اجین میں 26 واں سیمینار منعقد ہورہاہے ،اسلامک فقہ اکیڈمی جدید فقہی مسائل کے استخراج اور قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل کے استنباط کی ایک ایسی کوشش ہے جسے دنیا بھر میں سراہاجارہاہے،عالم عرب ،جنوبی ایشیا اور مسلم اقلیت ممالک میں اسے سب سے معتبر فقہی ادارہ کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے،کئی عرب فضلا ءنے اکیڈمی کی خدمات پر پی ایچ ڈی بھی کی ہے،اکیڈمی نے قلیل عرصے میں بہت سے مسائل کے بارے میں جو فیصلے کئے ہیںبڑے بڑے اہل علم نے اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ قراردیاہے۔مولانا نے مزیدکہاکہ اکیڈمی کے اب تک 25 سیمیناروں میں 155 سے زائد موضوعات کو غوروفکر کا مرجع اور مرکز بنایاگیااور مجموعی طور پر دوسو قراردادیں پاس ہوئی ہیں،فقہی مسائل کو حل کرنے کے علاوہ اس دور میں پیدا شدہ افکار وتصورات پر اسلامی نقطہ نظر سے غورکرنے کیلئے 37 مجلس مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا ہے۔عالم اسلام کے مشہور اسکالر ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اکیڈمی کے نام بھیجے اپنے پیغام کہاکہ سب سے پہلے ہم اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے 26 ویں سمینار کے تمام شرکاءکی خدمت میں سلام پیش کرتے ہیں۔
عالم اسلام کے معروف اسکالر اور عالم دین ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اسلامک فقہ اکیڈمی کے نام اپنے لکھے گئے پیغام میں کہاکہ سب سے پہلے چھبیسویں فقہی سمینار میں شرکت کر نے آئے تمام حضرات کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہیں اس کے بعد انہوں نے لکھاکہ ہندوستان کے علمی ،فقہی ،ملی ،سماجی سمیت بہت سارے میدانوں میں نمایاں کارنامہ انجام دینے والے کہکشاں سے ہم نہ صرف واقف ہیں بلکہ اس سے استفاد ہ کرتے ہیں۔اسی سرزمین کے عالم دین شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ہیں جنہوں نے حج البالغہ سمیت کئی عظیم الشان کتابیں لکھی ہیں،اسی سرزمین سے تعلق رکھنے والے مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی ہیں جن سے ہماری ملاقات طالب علمی کے زمانے میں ہوئی تھی اور ان کی کتاب ”انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر “کا پورے عرب ممالک میں چرچا تھا۔اسی سرزمین سے تعلق رکھنے والے مولانا محمد قاسم ناناتوی ،علامہ اقبال ،مولانا انورشاہ کشمیری،مولانا ابو الاعلی مودودی اور قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ہیں۔
دورحاضر کے فقہا کو عضر حاضر کے چیلنجز سے واقف ہونا چاہئے،علماءکی ذمہ داری ہے کہ وہ مغرب کی جانب مرعوبیت کی نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ اس کا جائزہ لیں،اس کی مصنوعات سے استفادہ کرنے سے پہلے غوروفکر کریں،عالم اسلام میں جہاں کہیں بھی مغربی تہذیب کو اپنایاگیاہے وہ غلط ہے ،اسلام کے پاس خود ایک معتدل تہذیب ہے جو تاقیامت کافی ہے۔علماءکو مرعوب ہونے کے بجائے ان امور کا جائزہ لینا چاہیے ،انہوں نے اپنے پیغام میں کہاکہ جہاد ،حلالہ اور طلاق جیسے مسائل کی غلط تشریح کی جاتی ہے اور پوری دنیا میں اسلام کو بدنان کیا جائے ،علمائ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تمام مسائل پر نظر رکھیں۔اجتہاد کی اسلام میں بے پناہ اہمیت ہے ،انفرادی اور اجتماعی اجتہاد دونوں مطلوب ہیں لیکن اجتماعی اجتہاد زیادہ اہم اور قابل اعتبار ہے کیوں کہ جب بہت سے علماءہوتے ہیں تو اچھی اور درست رائے نکلتی ہے۔ اجتماعی اجتہاد کی بہت سی شکلیں ہیں جیسے ققہ اسلامی مکہ مکرمہ ،انٹرنیشل اسلامک فقہ وغیرہ ،اسی کی فہرست میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا بھی شامل ہے جسے مولانا مجاہد الاسلام قاسمی نے قائم کیا تھا۔جس کے ممبران او ر ذمہ داران دنیا کے نامور فقہائ ہیں۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہاکہ اسلام رہتی دنیا تک کیلئے ہے اور فقہ اکیڈمی قرآن وسنت کی روشنی میں جدید مسائل کی تخریج کرکے یہی فریضہ انجام دے رہی ہے۔
اکیڈمی کے سرپرست مولانا رابع حسنی ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے پیغا م میں کہاکہ پیش آمدہ اور ضروری مسائل کی تخریج کا کام ہردور میں علمائ کرام کرتے رہے ہیں ،اسی ضرورت کے پیش نظر اسلامک فقہ اکیڈمی کا قیام عمل میں آیاہے جس میں جدید مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کیا جاتاہے اور اس کے سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اپنی علمی بصیرت اور فقہی صلاحیت سے کام لیتے ہوئے اسے بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں ،26 واں فقہی سیمینار شہر اجین میں منعقد ہورہاجس کیلئے شہر کے تمام حضرات قابل مبارکباد ہیںاور امید ہے کہ آئندہ کی طرح یہ سمینار بھی کامیاب ہوگا۔
عالم عرب کے مشہور فقیہ اور اسکالر ڈاکٹر صلاح الدین سلطان کسی وجہ سے سال رواں سمینار میں نہیں آسکے تاہم انہوں نے اکیڈمی کے نام ایک پیغام لکھ کر اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اوراکیڈمی کی خدمات کو بہت زیادہ سراہتے ہوئے اس اسلامی اور فقہی دنیا کیلئے عظیم کارنامہ انجام دیا،انہوں نے اپنے تفصیلی پیغام میں علماء ہند کی علمی اور فقہی خدمات کا تفصیلی تذکرہ کیا اور کہاکہ ہندوستان میں دارالعلوم دیوبنداور فقہی اکیڈمی جیسے ادارے اسلام کی آبیاری کررہے ہیں اور مسلمانوں کو شریعت پر عمل پیراہ ہونے کیلئے راہ عمل فراہم کررہے ہیں۔
اکیڈمی کے صدر مولانا نعمت اللہ اعظمی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ اکیڈمی نے تجارت اور خریدوفروخت سمیت بہت سارے مسائل پر تشفی بخش تحقیقی کام کیاہے اور تمام تجاویز منظر عام پر آگئی ہیں،اب ضرورت ہے ۔

About the author

Tariq Hasan