آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Politics

اکزٹ پول کا حشر بہار جیسا ہوگا : راہل

rahul
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی، 10 مارچ (یواین آئی) کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول پر آج کہا کہ یہ پہلے بھی بہار اسمبلی انتخابات میں غلط ثابت ہو چکے ہیں اور دعوی کیا کہ اترپردیش میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کا اتحاد جیت رہا ہے ۔ مسٹر گاندھی نے یہاں صحافیوں سے کہا، “ہمارا اتحاد اترپردیش اسمبلی کا الیکشن جیت رہا ہے ۔ ایگزٹ پول کو ہم نے بہار اسمبلی انتخابات میں بھی دیکھا ہے جہاں یہ غلط ثابت ہوئے ۔ کون جیتا ہے اور کون ہارا، اس کے بارے میں کل بات کریں گے جب انتخابات کے نتائج سامنے ہوں گے ۔ “ایگزٹ پول پر اپنے پہلے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ وہ اوپینین پول پر اپنا کوئی اوپینین نہیں دینا چاہتے ۔ واضح رہے کہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات چار فروری کو شروع ہوئے تھے اور نو مارچ کو ختم ہوئے ہیں۔ اتر پردیش میں ساتویں اور آخری مرحلے کی ووٹنگ آٹھ مارچ کو ہوئی تھی۔ نو مارچ کو اترپردیش اور اتراکھنڈ کی ایک ایک اسمبلی سیٹ پر ووٹنگ ہوئی تھی۔ ان دونوں سیٹوں پر الیکشن لڑ رہے دو امیدواروں کی موت کے بعد وہاں نو مارچ کو پولنگ کرائی گئی تھی۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد کل ایگزٹ پول سامنے آئے جن میں زیادہ تر میں کانگریس کی شکست دکھائی گئی ہے ۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے بھی پارٹی کی معمول کی پریس بریفنگ میں نامہ نگاروں سے کہا کہ ایگزٹ پول 2009 میں بھی غلط ثابت ہوئے تھے ۔ اس کے بعد بہار اور تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں بھی ایگزٹ پول میں دکھائے گئے نتائج درست ثابت نہیں ہوئے تھے ۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ ہمارے ملک میں گوناگونیت پائی جاتی ہے اور یہاں ایگزٹ پول درست نہیں ہو سکتے ۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کے جو بھی نتائج آئیں گے وہ ہندستانی جمہوریت، ملک کے عوام اور ہمارے نظام کی جیت ہوگی اور اسے قبول کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نتائج جو بھی ہوں لیکن انہیں اطمینان ہے کہ ان کی پارٹی نے منافرت، توہین اور دھوکھادہی کی سیاست کئے بغیر انتخابی عمل میں حصہ لیا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی ان کا نام لئے بغیر حملہ کیا اور کہا کہ وزیر اعظم کے عہدے پر بیٹھے شخص کے لئے غلط الفاظ کا استعمال نامناسب ہے اور جو زبان اس انتخاب میں استعمال ہوئی ہے وہ اس عہدے پر بیٹھے شخص کو زیب نہیں دیتی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر سنگھوی نے کہا کہ قیاس آرائی کی بنیاد پر اتحاد کے تعلق سے کسی سوال کا جواب نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وقت آنے پر اعداد و شمار کے حساب سے اتحاد قائم کرنے کا عمل بھی شروع کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی پارٹی دوبارہ انتخابات نہیں چاہتی اس لیے انتخابات کے بعد حکومت تو بننی ہی ہے ۔

About the author

Tariq Hasan