آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Politics

اردو کسی مذہب کی نہیں ملک کی زبان ہے : جاؤڈیکر

19psi20
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی،19 مارچ (یو این آئی) مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل پرکاش جاؤڈیکر نے اردو کے فروغ اور تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اردو کسی خاص مذہب یا علاقے کی نہیں بلکہ یہ سب کی زبان ہے ۔قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے زیر اہتمام یہاں منعقدہ سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کے آخری دن سامعین کو خطاب کرتے ہوئے مسٹر جاؤڈیکر نے کہا کہ تمام مادری اور علاقائی زبانوں کی اپنی شناخت اور الگ اہمیت و افادیت ہے اس لیے مرکز کی مودی حکومت تمام زبانوں کے فروغ اور ترویج و اشاعت کے لئے پابند عہد ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی مختلف مادری اور علاقائی زبان، مختلف مذاہب، الگ الگ رہن سہن کے باوجود کثرت میں وحدت کو صحیح ثابت کرتے ہوئے پورے ملک کا متحد ہونا ہی ہندوستان کی شناخت ہے ، جس پر ملک کو ناز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہند تمام زبانوں کے فروغ کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کرتی ہے ۔ تاکہ اس شناخت کو زندہ اور گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھا جاسکے ۔مسٹر جاؤڈیکر نے اردو کے فروغ کے لیے اردو کونسل کی کارکردگی اور کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے کونسل کو اپنے کام کاج میں مزید توسیع کرنی چاہیے اور بچوں کو اردو پڑھنے کے لئے بھی راغب کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ سچر کمیٹی کی سفارشات کے بعد تعلیمی میدان میں مسلمانوں کی حالت میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے اور لوگ تعلیم کے معاملے میں اب کافی بیدار ہوچکے ہیں اور مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لئے مودی حکومت بھی خاطر خواہ اقدامات کر رہی ہے ۔تعلیم کا معیار بہتر کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرکاری اسکولوں کا معیار اس قدر بہتر کرنے کا عہد کیا ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھانے کو ترجیح دینے لگیں۔کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے تقریباً18 ملکوں کے مندوبین نے مسٹر پرکاش جاؤڈیکر کے سامنے کچھ تجاویز پیش کیں، جن میں امریکہ ، کناڈا، برطانیہ، قطر جیسے ملکوں کی یونیورسٹی میں اردو کے فروغ کے لئے غالب چیئر قائم کرکے وہاں حکومت ہند کی طرف سے اردو اساتذہ تعینات کرنے ، ہندوستانی سفارت خانوں میں اردو کی کتابیں دستیاب کرانے اور 3 مارچ کو امیر خسرو کے یوم پیدائش کو عالمی یوم اردو قرار دیئے جانے کی تجاویز شامل ہیں۔خیال رہے کہ قومی اردو کونسل نے گزشتہ 17 مارچ کو اس سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کا اہتمام کیاتھا، نقادوں، اردو اسکالرس کے علاوہ تقریباً 18 ملکوں کے اردو دانشوروں نے شرکت کی، جن میں ایران، قطر، دوبئی ازبکستان ، ترکی ، کناڈا، ماریشس کے اردو اسکالرس شامل تھے ۔اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کونسل کی مکمل کارکردگی کوششوں اور ان کے تعمیری نتائج پر تفصیلی روشنی ڈالی۔مرکزی وزیر نے اجلاس کے دوران اردو کونسل کی طرف سے خواتین کے لئے پہلی بار شائع کی جانے والی اردو میگزین ”خاتون دنیا ” کا بھی اجرا کیا۔

About the author

Tariq Hasan