اردو | हिन्दी | English
877 Views
Health

آپریشن کے ذریعے فالج کا آسان علاج

opration ke zariye
Written by Tariq Hasan

لندن اور برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے فالج کا علاج کرنے کے لیے ایک جدید لیکن قدرے آسان آپریشن کی منظوری دے دی جس کی سہولت جلد ہی تمام برطانوی اسپتالوں سے دستیاب ہوگی۔لندن اور برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے فالج کا علاج کرنے کے لیے ایک جدید لیکن قدرے آسان آپریشن کی منظوری دے دی جس کی سہولت جلد ہی تمام برطانوی اسپتالوں سے دستیاب ہوگی۔فالج عام طور پر دماغ تک پہنچنے والی خون کی نالیوں میں خون کے لوتھڑے جم جانے کی وجہ سے ہوتا ہے جس کے نتیجے میں دماغ کو خون اور آکسیجن کی فراہمی بہت کم رہ جاتی ہے اور متاثرہ شخص حرکت کرنے سے معذور ہوجاتا ہے۔اگر کسی طرح خون کے یہ لوتھڑے نکال دیئے جائیں اور دماغ کو خون کی فراہمی بحال کردی جائے تو فالج کا مریض چند روز میں مکمل صحت یاب ہوسکتا ہے اور اپنے روزمرہ معمولات دوبارہ سے بحال کرسکتا ہے۔ البتہ ماضی میں ایسا کوئی بھی آپریشن بہت خطرناک تصور کیا جاتا تھا جس میں مریض کی موت کا امکان بہت زیادہ ہوتا تھا۔ فالج کا یہ آپریشن جسے ’’مکینیکل تھرومبیکٹومی ‘‘کہا جاتا ہے ، 2010 سے لندن کے سینٹ جارجز اسپتال میں محدود طور پر کیا جارہا ہے جس میں مریض کے نچلے دھڑ میں شگاف کرکے شریان میں ایک باریک تار داخل کی جاتی ہے جسے آہستہ آہستہ اوپر بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ دماغ میں اس جگہ تک پہنچ جاتی ہے جہاں خون کا لوتھڑا جما ہوتا ہے۔تار کی باریک نوک اس لوتھڑے میں پیوست ہوکر پہلے اسے ہلاتی جلاتی ہے تاکہ وہ اپنی جگہ چھوڑ دے اور پھر اس کے گرد لپٹی ہوئی ایک جالی پھیلادی جاتی ہے اور خون کا لوتھڑا اس کے ساتھ چپک جاتا ہے۔ اس کے بعد بڑی آہستگی سے یہ تار واپس کھینچی جاتی ہے جس کے ساتھ جالی میں بند وہ لوتھڑا بھی کھنچا چلا آتا ہے۔ اس طریقے پر خون کا لوتھڑا جسم سے نکال باہر کرنے کے چند دن بعد مریض ایک بار پھر اپنے ہاتھوں پیروں کو حرکت دینے اور چلنے پھرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔اس تکنیک کی افادیت دیکھتے ہوئے برطانیہ کی ’’نیشنل ہیلتھ سروس‘‘ نے اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے اور زیادہ اسپتالوں میں متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح مکینیکل تھرومبیکٹومی کی تدبیر جلد ہی پورے برطانیہ میں فالج کا علاج کرنے میں رائج کردی جائے گی اور اندازہ ہے کہ آئندہ چار سال تک اس سے سالانہ 8000 سے زیادہ آپریشن کیے جارہے ہوں گے۔

About the author

Tariq Hasan