اردو | हिन्दी | English
239 Views
Politics

تین طلاق پر خاموش رہنے والے بھی ملزم : یوگی

cm-yogi-17-04-2017-1492447332_storyimage
Written by Tariq Hasan

لکھنؤ 17 اپریل (یو این آئی) اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے یکساں سول کوڈ کی حمایت کرتے ہوئے آج کہا کہ ‘تین طلاق’ پر خاموش رہنے والے لوگ بھی اس معاشرتی برائی کے لئے ذمہ دارہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ آج یہاں اسمبلی میں سابق وزیر اعظم آنجہانی چندر شیکھر کی 91 ویں سالگرہ کے موقع پر ‘چندر شیکھر: پارلیمنٹ میں دو ٹوک’ کتاب کا اجرا کرنے کے بعد اجتماع سے خطاب کر رہے تھے ۔ آئینی عہدیداروں میں سے شاید مسٹر یوگی پہلے ایسے شخص ہیں جنہوں نے ‘یکساں سول کوڈ’ کی پرزور حمایت کی ہے ۔مسٹر یوگی نے ‘ایک ملک ایک قانون’ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم مسٹر چندر شیکھر بھی یہی چاہتے تھے ۔انہوں نے ملک کے سلگتے مسائل پر خاموش رہنے والوں پر تنقید کی۔انہوں نے مہابھارت میں دروپدي کے چیرھرن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ویدور نے بھرے دربار میں کہا تھا،” ایسی معاشرتی برائیوں کے لئے ایک تہائی اس کی حمایت کرنے والے اور ایک تہائی مجرم ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ ایک تہائی خاموش رہنے والے بھی مجرم ہوتے ہیں”۔ وزیر اعلی نے کہا کہ اسی طرح تین طلاق پر خاموش رہنے والے بھی مجرم ہیں۔ شادی بیاہ کے قانون ایک کیوں نہیں ہو سکتے ۔انہوں نے چندر شیکھر کو یکساں سول کوڈ کا مضبوط حامی بتایا۔انہوں نے کہا کہ تین طلاق ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر نئی بحث چل رہی ہے ، باوجودیکہ بہت سے لوگوں نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ مسٹر یوگی نے کہا کہ مسٹر چندر شیکھر نظریہ سے زیادہ قوم کو اہم مانتے تھے ۔ ان کاخؒ یال تھا کہ سیاست آئین کے دائرے میں ہونی چاہئے اس سے ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم کو نظریاتی انقلاب کی دائمی علامت بتایا۔چندر شیکھر کو پارلیمنٹ میں سوشلزم کو زندہ رکھنے والا رہنما بتاتے ہوئے مسٹر یوگی نے کہا کہ ان کا خاندان،غنڈہ گردی اور نسل پرست معاشرے سے مختلف تھا۔ ان کی تقریروں کو سننے کے بعد سماج کے تئیں ان کا نظریہ بدلا۔ نظریاتی پہلو کوئی بھی ہو لیکن سب کا مقصد عوامی فلاح و بہبود اور قوم کے حق میں ہونا چاہیے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ اگر صحیح طریقے سے نظریہ آگے بڑھتا ہے تو ملک بھی ترقی کرتا ہے ۔ سچ کبھی کبھی بہت کڑوا ہوتا ہے لیکن چندر شیکھر اس بات میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے ۔اپنی بیباکی کے لئے مشہور انہوں نے اجودھیا ، پنجاب، جموں کشمیر اور سری لنکا کے مسئلے کے بارے میں ‘دو ٹوک’ تبصرہ کرتے ہوئے مسائل کے حل کے لئے اپنی رائے ظاہر کی تھی۔ وزیر اعلی نے کہا کہ مسٹر چندر شیکھر نے کبھی دباؤ کی سیاست برداشت نہیں کی۔ نظریات سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ اسی لیے کانگریس میں رہتے ہوئے بھی اندرا گاندھی جیسی لیڈر کی ہنگامی صورت میں پرزور مخالفت کی۔اگرچہ اس کے لیے انہیں 19 ماہ جیل میں بھی کاٹنے پڑے ۔ مسٹر یوگی نے کہا کہ نیپال میں جمہوریت کے قیام کے غالب حامی سابق وزیر اعظم نے کبھی اس کی پرواہ ہی نہیں کی کہ کون انہیں ووٹ دے گا اور کون نہیں۔ وہ ووٹ بینک سے اوپر تھے ۔ پارلیمنٹ میں وہ اپنی پارٹی کے اکیلے رہنما تھے پھر بھی ان کی آواز سب پر بھاری رہتی تھی۔ انہوں نے خاندان کی کبھی فکر نہیں کی۔چندر شیکھر جی کے آس پاس ان کے خاندان کا مجمع نہیں لگ پایا۔ سوشلزم کو کنبہ پروری، غنڈہ گردی اور نسل پرستی کا اکھاڑا نہیں بننے دیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے خیالات آج بھی متعلقہ ہیں۔پارلیمنٹ کی لائبریری میں دبے مواد کو عام کرنے کے لئے انہوں نے کتاب کے مصنف دھیریندر شریواستو کو مبارک باد دی۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں اہم بحث ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی میڈیا منفی کو ہی خبر بنا دیتا ہے ۔ منفی اثر سماج پر بھی پڑتا ہے اس لئے اس کو نظر انداز کرنا چاہیئے ۔ مسٹر یوگی نے کہا کہ چندر شیکھر جی تھے تو ایک لیکن متعدد نظریات کی نمائندگی کرتے تھے ۔ وہ مقامی تحریک کی کھل کر حمایت کرتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ کثیر القومی کمپنیاں ملک کے مسائل کا حل نہیں نکال سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ پیدائش اور موت ابدی حقیقت ہے ۔ جس نے جنم لیا ہے اس مرنا ہی ہے ، لیکن نظریات کبھی نہیں مرتے ۔ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ریاستی اسمبلی کے صدر ہریدے نارائن دکشت نے کہا کہ لوگ اپنی قیادت کی غلط بات بھی مان لیتے ہیں لیکن چندر شیکھر جی نے ایمرجنسی کے معاملے پر محترمہ اندرا گاندھی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا۔ وہ نظریاتی اعتبار سے اتنے مضبوط تھے کہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے میں ذرا بھی نہیں ہچکتے تھے ۔”چندر شیکھر، پارلیمنٹ میں دو۔ ٹوک” کتاب کو مسٹر دیکشت نے ان کی نظریاتی کایا بتائی اور کہا کہ کتاب کی شکل میں سابق وزیر اعظم ہر لمحے لوگوں کے ساتھ رہیں گے ۔ انہوں نے چندر شیکھر جی سے جڑے کئی واقعات سنائے ۔تقریب سے سابق وزیر اور ممبر اسمبلی رگھوراج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا نے بھی خطاب کیا۔ کتاب کے مصنف دھیریندر شریواستو کو وزیر اعلی نے نوازا۔ پروگرام کا انعقات قانون ساز کونسل کے ممبر یشونت سنگھ نے کیا۔

About the author

Tariq Hasan