اردو | हिन्दी | English
465 Views
Politics

دہلی میں بھی شراب بندی نافذ کرنے کی ضرورت: نتیش

Felicitation of Hon'ble CM by the Sikh devotees at Bihar Niwas, New Delhi on 08-04-2017
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی 9 اپریل (نمائندہ) وزیراعلی بہار اور جدیو کے قومی صدر نتیش کمار نے آج دہلی میں ایم سی ڈی انتخاب ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہار میں جس طرح سے شراب بندی ہوئی ہے دہلی میں بھی اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔اب بہار کے لوگ شراب بندی کی بات فخر کے ساتھ کہنے لگے ہیں ہم نے دکھا دیا اور بہار کے لوگوں نے دکھا دیا کہ شراب بندی کیسے ہوتی ہے اور دہلی میں تو عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے اس لئے عام آدمی کی یہ مانگ ہے کہ دہلی میں بھی مکمل شراب بندی ہو لہذا یہاں کی حکومت اس کام کے لے آگے آنا چاہئے۔وزیراعلی نے سکھ طبقہ کے ذریعہ اپنے اعزاز میں دیئے گئے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس برادری کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ پرکاش اتسو کے کامیاب انعقاد سے پورے سماج میں اچھا پیغام گیا ہے انہوں نے کہاکہ یہ اعزاز میرا نہیں بلکہ پورے بہار کے باشندوں کا اعزاز ہے پرکاش اتسو کے اتنے خوبصورت طریقے سے انعقادمیں سبھی مذاہب ،طبقہ اور فرقہ کے لوگوں نے سرگرم رول ادا کیا۔وزیراعلی نے کہاکہ ان کی خواہش تھی کہ پورے پٹنہ اور بہار کو پرکاش تہوار کیلئے وقف کردیا جائے اور کامیاب انعقاد سے مجھے بے حد مسرت ہوئی۔اس موقع پر سکھ فرقہ کے لوگوں نے نتیش کمار کے ذریعہ بہارمیں مکمل شراب بندی نافذ کئے جانے کی بھرپور تعریف کی سبھی لوگوں نے کہاکہ جناب نتیش کمار نے ایسا انوکھا کام کرکے پورے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے اس سے سماج میں امن اور سکون کا ماحول مستحکم ہوا ہے۔وزیراعلی نے کہاکہ سماج میں محبت اور خیر سگالی کے ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے مسلسل کوشاں رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ بہار حکومت اس سال گاندھی جی کے چمپارن ستیہ گرہ کی سد سالہ تقریب کا شاندار انعقاد کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پرکاش اتسو اور چمپارن ستیہ گرہ صد سالہ تقریب کا پیغام ایک ہی ہے سچ کے راستے پر آگے بڑھتے جائیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق وزیراعلی نے آج دوسرے دن بھی روڈ شو کیا جس میں کافی تعداد میں لوگوں کی بھیڑ امڈپڑی لوگوں نے ان کا ہر جگہ والہانہ استقبال کیا۔کل بھی بوراری میں انہوں نے ایک ریلی کی تھی جس میں بھی کافی تعداد میں لوگوں کی بھیڑ امڈ پڑی تھی جد یو کے اہم رہنماء دہلی میں ایم سی ڈی انتخاب کے لئے خیمہ زن ہیں۔

About the author

Tariq Hasan