اردو | हिन्दी | English
328 Views
Politics

زولوجیکل پارک کو مٹی نہیں فروخت گئی ہے: لالو

RJD Chief Lalu Prasad Yadav talks to media after the Party's legislatives meeting in Patna on Friday, Nov 13,2015. Express Photo By Prashant Ravi
Written by Tariq Hasan

پٹنہ، 9 اپریل (یو این آئی) راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو نے اپنے اور خاندان پر بہار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اسمبلی کے لیڈر سشیل کمار مودی کے مال۔ مٹی کے مبینہ اسکینڈل کے الزام پر آج جوابی حملہ کرتے ہوئے ان الزام کو بے بنیاد بتایا اور کہا کہ پٹنہ کے سنجے گاندھی زولوجیکل پارک کو ایک روپے کی بھی مٹی نہیں بیچی گئی۔مسٹر یادو نے یہاں دس سرکلر روڈ پر واقع اپنی رہائش گاہ پر پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر پریم چند گپتا کی موجودگی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے مسٹر مودی ان کے اور خاندان پر پٹنہ کے سگنا موڑ واقع زیر تعمیر مال کی مٹی 90 لاکھ روپے میں پٹنہ کے زولوجیکل پارک میں بیچے جانے کا الزام لگا رہے ہیں۔ ان کے بیٹے ماحولیات و جنگلات کے وزیر تیج پرتاپ یادو پر بھی بغیر ٹینڈر کے ہی مال کی مٹی کو اپنے محکمہ کو فروخت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے جو من گھڑت ہے ۔ آر جے ڈی صدر نے کہا کہ مسٹر مودی عادتاً الزام لگاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ مال سے نکلی ایک روپے کی بھی مٹی زولوجیکل پارک کو نہیں بیچی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں محکمہ جنگلات کی جانب سے ضروری جانچ بھی کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مٹی کہاں سے زولوجیکل پارک میں آئی ہے اس کا انکشاف تحقیقات سے ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مال کی مٹی کو پھلواریشریف اور داناپور کے قبرستان کو بھیجی گئی ہے ۔مسٹر یادو نے کہا کہ جب یہ حقیقت بی جے پی لیڈر مسٹر مودی کی سمجھ میں آ گئی تو وہ زولوجیکل پارک کو مٹی بیچے جانے کے سلسلے میں خاموشی اختیار کر لی ہے ۔ مسٹر مودی کے پانچ دنوں سے اس معاملے پر لگانے جانے والے بے تکے الزامات کا وہ جواب نہیں دے رہے تھے لیکن جب خاندان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جانے لگی تب ان کا جواب دینا پڑا۔ آر جے ڈی صدر نے کہا کہ جو خود گھپلہ کرتے ہیں وہیں اس طرح کا الزام لگاتے ہیں۔ اڑیسہ کے مکمل اور جھارکھنڈ کے رانچی میں واقع دو ہوٹلوں کوچر برادران کو دیئے جانے کا معاملہ بھی مکمل طور پر بے بنیاد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1999 میں مرکز میں جب اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت تھی تب انڈین ریلوے کیٹرنگ اور سیاحت کارپوریشن (آئی آرسی ٹی سی) کا قائم عمل میں آیا تھا۔مسٹر یادو نے کہا کہ اس کے قیام کا مقصد ریلوے مسافروں کو کیٹرنگ اور سیاحت کی بہتر سہولت فراہم کرانا ہے ۔ اس کے بعد آئی آر سی ٹی سی کی طرف سے ٹینڈر نکال کر اونچی بولی لگانے والے کوچر برادران کو 15 سال کے لیز پر پوری اور رانچی میں ہوٹل دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ریلوے کے وزیر کا کوئی کردار نہیں ہوتا ہے ۔ اسی طرح دہلی اور کولکتہ مسافر رہائشگاہ کو بھی 15 سال کے لئے ٹاٹا گروپ کو تفویض کیا گیا تھا۔ آر جے ڈی صدر نے کہا کہ کوچر برادران سے ڈیلائٹ مارکیٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ نے فروری 2005 میں پٹنہ کے سگنا موڑ کی مال والی زمین خریدی تھی۔ زمین کی خریداری قانون کے تحت کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2006 کے دسمبر ماہ میں رانچی اور پوری میں ریلوے کے ہوٹلوں کا لیز کوچر برادران کو دیا گیا۔ زمین کی خریداری کے 22 ماہ بعد کوچر برادران کو کیا کوئی خواب آیا تھا کہ انہیں دونوں ہوٹلوں کا لیز ملے گا۔مسٹر یادو نے کہا کہ ایک سازش کے تحت انہیں اور خاندان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اسی طرح سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو، مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی، دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور بہوجن پارٹی سپریمو مایاوتی کو بدنام کرنے کی سازش بی جے پی رچ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف فرقہ پرستی پھیلاءي جا رہی ہے اور دوسری طرف کردار کشی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ آر جے ڈی صدر نے کہا کہ سال 2008 میں بھی کچھ لیڈروں نے ان پر اسی طرح کا الزام لگایا تھا۔ اسی نو سالہ پرانے معاملے کو دوبارہ مسٹر مودی اٹھا کر جگ ہنسائی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلائٹ مارکیٹنگ کا بعد میں نام بدل کر لارا پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کیا گیا جس کے تحت سال 2014 میں محترمہ رابڑی دیوی نے چیک کے ذریعے ادائیگی کرکے اسے خریدا تھا۔مسٹر یادو نے کہا کہ قانون کے تحت لارا کمپنی بنائی گئی اور اس وقت وہ وزیر کے عہدے پر بھی نہیں تھی۔ محترمہ رابڑی دیوی ہر سال دیئے گئے اپنے انکم ٹیکس ریٹرن میں اسے ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ رابڑی دیوی نے ہی اپنے بیٹے تیج پرتاپ اور تیجسوی یادو کو گفٹ کے طور پر شئیر دیا تھا۔ انتخابات کے وقت دیئے گئے جائیداد کی تفصیلات میں بھی اسے دکھایا جاتا رہا ہے ۔ آر جے ڈی صدر نے کہا کہ چارہ گھپلہ کا معاملہ عدالت میں ہے اور وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں۔ انصاف پر انہیں پورا بھروسہ ہے ۔ اس موقع پر راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ مسٹر گپتا نے کہا کہ سال 2008 میں لمیٹڈ لائیولیٹي پارٹنرشپ (ایل ایل پی) ایکٹ آیا۔اس کے تحت تجارت کی سہولت کے لئے کئی کمپنیوں کو ایل ایل پی کے مطابق بدلا گیا۔ اسی کے بعد ڈیلائٹ مارکیٹنگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے تنازع سے بچنے کے لئے اس کمپنی کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اس کے شیئر کو قانون کے تحت محترمہ رابڑی دیوی اور ان کے دونوں بیٹوں کو منتقل کر دیا گیا۔

About the author

Tariq Hasan