اردو | हिन्दी | English
818 Views
Health

سوڈا مشروبات سے سرطان کا خطرہ

soda mashroobat
Written by Tariq Hasan

*۔ شبنم خاتون
سویڈن کی ایک تحقیق میں بیاگیا ہے کہ وہ افراد جو سوڈا مشروبات زیادہ پیتے ہیں یا میٹھے مشروبات کے دو تین گلاس روز پی جاتے ہیں ، انھیں سرطان لاحق ہونے کاخدشہ ہوسکتا ہے۔ یہ سرطان پتیّ اورنالی میں ہوسکتا ہے ، جو صفرا کو جگر سے پتے اور اثنا عشری آنت میں پہنچاتی ہے۔ اس بابت معلومات ابھی کم ہیں کہ صفراوی راستے یا پتے میں رسولی کیسے ہوجاتی ہے ؟ لیکن ایسے ثبوت مل چکے ہیں کہ مٹاپا اور خون میں شکر کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے ذیابیطس ہوجاتی ہے ، جو رسولی کا سبب بنتی ہے ، اس لیے کہ سوڈا مشروبات کا براہ راست تعلق وزن اور خون میں شکر بڑھنے سے ہے۔ تحقیق کاروں کو حیرت ہے کہ ان مشروبات کا تعلق سرطان سے ہوسکتا ہے ؟ اس امکان کا جائزہ لینے کے لیے انھوں نے ستر ہزار سے زیادہ بالغ افراد پر تجربات اور مشاہدات کیے اور ان کی کھانے پینے کی عادات کے بارے میں کوائف اکٹھا کیے۔پھر تیرہ برس کے وقفے کے بعد ان افراد کا تجزیہ کیا۔
صرف ڈیڑھ سوافراد میں تجربات کے دوران صفراوی راستے یاپتے کے سرطان کاخطرہ سامنے آیا۔ وہ افراد سرطان کے خطرے سے محفوظ رہے ، جو میٹھے مشروبات نہیں پیتے تھے۔ دن میں دوتین گلاس سوڈا مشروبات پینے یا مصنوعی مٹھاس کھانے والوں میں پتیّ کی رسولی کاخدشہ ہوسکتا ہے۔ انھیں صفراوی مقام پر سرطان ہونے کا بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر لارسن نے بتایا :سوڈا مشروب پینے سے صفراوی مقام پر سرطان ہوسکتا ہے۔ پہلے صرف ایک رپورٹ آئی تھی ، جس میں دوسرے سرطانوں کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیاگیا تھا۔
ڈاکٹر لارسن کے بقول : حالیہ تحقیق کے مطابق میٹھے مشروبات پینے اور صفراوی مقام کے سرطان میں گہرا تعلق پایاجاتا ہے۔
جب اس موضوعی پر تحقیق شروع ہوئی تو اس میں حصہ لینے والوں سے پوچھا گیا کہ گزشتہ ہفتے انھوں نے سوڈا مشروبات کے کتنے گلاس پیے۔ اس کے علاوہ وہ سال میں کتنے گلاس میٹھے مشروبات پی جاتے ہیں اس تحقیق میں حصہ لینے والوں کی عمریں اکسٹھ برس کے لگ بھگ تھیں۔ ان میں سے نصف مٹاپے کا شکار تھے اور پچیس فیصد تمباکونوش تھے۔ محققین نے ان افراد کو شامل نہیں کیا ، جنہیں سرطان یا ذیابیطس تشخیص کی جاچکی تھی۔
وہ افراد جو روزانہ دو یا تین گلاس شربت سوڈا مشروبات پیتے تھے ، وہ مٹاپے کا شکار زیادہ تھے۔ وہ زیادہ حراروں (کیلوریز ) والی غذائیں بھی کھاتے تھے ، جن میں شکر اور نشاستہ زیادہ ، جب کہ پروٹین اور چکنائی کم ہوتی تھی۔چنانچہ یہ خیال کیاگیا کہ پتیّ میں رسولی بننے کا عمل زیادہ شربت پینا ہی نہیں ، بلکہ مٹاپا بھی ہوسکتا ہے۔
یہ مطالعہ تجزیاتی تھا، اس لیے جو نتائج حاصل ہوئے ، ان سے یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ میٹھے مشروبات پینے والے لازمی سرطان میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، البتہ سرطان کا خطرہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مار گونے جواس تحقیق میں شامل نہیں تھے ، انھوں نے کہا کہ ماہرین نے اس بات کو نظرانداز کردیا کہ سوڈا مشروبات والے ہمیشہ ریگولربوتلیں ہی نہیں پتے وہ ڈائٹ بوتل بھی پیتے ہیں ، لہٰذا صحیح نتائج نہیں نکل سکتے۔
ڈاکٹر ایگور کاتعلق فلاڈیلفیا کے سرطان سنیٹر سے ہے۔ انھوں نے کہا : سوڈا مشروبات اور پتیّ کے سرطان میں کوئی مضبوط تعلق دریافت نہیں ہوپایا ہے ، مگر ان کے پینے والوں کے لیے بہرحال خطرہ یا ایک پیغام ہے جسے سمجھنا اور اس پر عمل کرناچاہیے۔
ایک ماہر نے کہا : ہر چندیہ تجزیاتی تحقیق سہی لیکن اس سے اشارہ ملتا ہے کہ اگر آپ صحت مندانہ زندگی گزاریں گے تو سرطان جیسی بیماری آپ کے نزدیک نہیں آئے گی۔ پیاس لگنے پر سوڈا مشروبات پینا ضروری نہیں بلکہ اس کی جگہ ٹھنڈا اور صاف شفاف پانی بھی پیاجاسکتا ہے۔

About the author

Tariq Hasan