اردو | हिन्दी | English
2860 Views
Deen

ملک کے موجودہ حالات سے شکستہ دل نہ ہوں : مولانا انیس الرحمن

imarat
Written by Tariq Hasan

پھلواری شریف، 23 اپریل (پریس ریلیز)۔ قوموں اور ملتوں پر مختلف طرح کے حالات پیش آتے ہیں، اس ملت کو ان حالات سے شکستہ دل نہیں ہونا ہے، بلکہ پورے عزم وحوصلہ اور قوت ارادی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ یہ باتیں ناظم امارت شرعیہ مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ پھلواری شریف میں منعقدہ مذاکرہ علمی میں شریک بہار ، اڑیسہ ، وجھارکھنڈ ، بنگال اور نیپال سے آئے ہوئے علماء کرام کے ایک مقتدر اجتماع سے کیا ، امارت شرعیہ نے علماء مدارس کے لئے چار زونوں میں اجلاس منعقد کیا اس آخری زون کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناظم صاحب نے علماء کرام کو ان کے فرائض منصبی کی یاد دہانی کرائی اور مدارس کے نظام تعلیم کو معیاری ومثالی بنانے اور طلبہ کی سیرت وشخصیت کو کتاب وسنت کی روشنی میں ڈھالنے پر زور دیا ، مہمان خصوصی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور کے نامور عالم دین جناب مولانا سید شاہ مصطفی رفاعی ندوی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ جس طرح انسانی جسم کے لئے قلب ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے اسی طرح علماء اس سماج میں مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے اندر اخلاص وللہیت ہونی چاہیے صوفیاء کرام فرمایا کرتے ہیں کہ قلب الانسان بیت الرحمن انسان کا دل رحمن کا گھر ہے ، اس لئے اپنی نیتوں کو درست رکھئے اور ہر وقت توجہ الی اللہ سے دل کو سر سبز وشاداب بنائے رکھئے، ذکر وتسبیح اور استغفار کرنے سے روحانی برکات ظاہر ہوتے ہیں اور دل کی ظلمت ختم ہوتی ہے، مولانا مفتی محمد باقر ارشد بنگلور نے کہا کہ آزادی کے بعد ملک نازک دور سے گذر رہا ہے اور اس وقت ہمارے ایمان و اخلاص کا امتحان لیا جارہا ہے، ہم اپنے اندر صالح تبدیلی پیدا کریں انشاء اللہ حالات خود بخود بدل جائیں گے ۔ قاضی شریعت حضرت مولانا عبد الجلیل صاحب قاسمی نے فرمایا کہ اسلام نے انتہائی مجبوری کی حالت میں طلاق کو مباح قرار دیا ہے۔ اس کے غلط استعمال سے گریز کیا جائے انہوں نے تعددد ازدواج ، اسلام کے قانون وراثت کی حکمتوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور فرمایا کہ اسلام کے ان معاشرتی وعائلی قوانین کی باریکیوں سے عام لوگوں کو بھی واقف کرائیں، جناب سید سعید احمد پونا نے شخصیت سازی کے شرعی اصول پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علم کو عمل میں لانے سے شخصیت نکھرتی ہے اس لئے آپ بھی خود کو سنوارنے کی شعوری کوشش کیجئے،مولانا ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی نے کہا کہ علماء کرام کوچٹائی کی عظمت کا احساس ہونا چاہیے کہ ماضی میں انہیں مدارس کے فضلاء نے ملک کی صحیح قیادت کی اب وقت آگیا ہے کہ منقول کو معقول انداز میں پیش کیا جائے۔ مولانا قاسمی نے مزید کہا کہ اس وقت ملت کے رشتہ کو صاحب ا مت سے کاٹنے کی کوشش ہو رہی ہے، ہم ان سازشوں کے ہر گز شکار نہ ہوں اور علماء وعوام کے رشتوں کو مستحکم کرنے کی جد وجہد کریں۔ مولانا عبد الباسط ندوی صاحب نے فرمایا کہ تعلیم وتربیت اسلام کے بنیادی اساس ہیں ہم خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی دینی تعلیم سے آراستہ کریں۔اور ہر طرح کے فکری ارتداد سے ملت کو بچائے رکھیں۔مذاکرہ علمی کی نشست کا آغاز المعہد العالی کے ہال میں حافظ مہتاب عالم گڈا کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ جناب مولانا مفتی محمد مجیب الرحمن قاسمی بھاگلپوری نے خوش الحان وترنم سے نذرانہ عقیدت پیش کیا ، مولانارضوان احمد ندوی نے افتتاحی گفتگو میں مذاکرہ علمی کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور نظامت کے فرائض بھی انجام دیئے اس نشست میں بیرونی علماء کرام کے علاوہ مولانا نور الحق رحمانی ، مولانا محمد افتخار احمدنظامی ، قاری انور حسین مولانا اختر حسین شمسی ،جناب مرزا ذکی احمد بیگ، مولانا راشد العزیری ندوی کے اسماء خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ مذاکرہ علمی کی دوسری نشست بعد نماز مغرب ہوئی اور کل انشاء اللہ دعاء پر اختتام پذیر ہوگی۔

About the author

Tariq Hasan