اردو | हिन्दी | English
178 Views
Indian

آدھار معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

supreme
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 4؍مئی (آئی این ایس انڈیا )آدھار کارڈ کو لازمی بنانے کے خلاف دائر درخواست پر جمعرات کو سماعت مکمل ہو گئی اور سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن کی بنچ نے تمام متعلقہ فریقوں سے کہا ہے کہ وہ اپنا تحریری موقف منگل تک سپریم کورٹ کو سونپ دیں۔آج سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل اروند داتار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے تمام ریاستوں کے سامنے مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ آدھار آپشنل ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پارلیمنٹ کی خود مختاری پر سوال کھڑا نہیں کر رہا ہے لیکن انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 139اے اے کومنظورنہیں کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس میں آدھار کو شامل کرکے آئین کی دفعہ 21کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔جسٹس اے کے سیکری نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ دفعہ 21عدالت کی آئینی بنچ کے سامنے زیر التوا ہے اور پارلیمنٹ بھی کہہ سکتی ہے کہ یہ معاملہ زیر التواء ہے اور اس درمیان ہم قانون منظور کریں گے، آدھار قانون اسے آپشنل کہتا ہے لیکن انکم ٹیکس قانون اسے لازمی بتاتا ہے۔داتار نے کہا کہ پارلیمنٹ نے آدھار کو منظور کیا ہے اور اس کی اختیاری مانا ہے ،تب وہ اسے کس طرح لازمی بنا سکتی ہے۔داتار کے بعد سلمان خورشید نے کہا کہ کسی شخص کے وقار اور آزادی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔3؍مئی کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی اس دلیل پر اعتراض کیا تھا کہ آدھار کارڈ لازمی ہے اور جو لوگ جان بوجھ کر آدھار نہیں بنوا رہے ہیں، وہ ایک طرح سے جرم کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے مرکز سے کہا تھا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جنہوں نے آدھار نہیں بنوایا وہ جرم کر رہے ہیں، دراصل وہ آدھار قانون کو چیلنج دے رہے ہیں اور کورٹ میں ان کی عرضی پر سماعت چل رہی ہے۔سماعت کے دوران جب سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ آدھار کے ڈیٹا لیک ہونے کی خبر آئی ہے ،تو مرکزی حکومت نے کہا کہ یہ ڈیٹا آدھار بنانے والے اتھارٹی یوآئی ڈی اے آئی سے لیک نہیں ہوئے ہیں، یہ ڈیٹا دوسرے محکموں سے لیک ہوئے ہیں ۔مرکز نے کہا کہ آدھار کے ڈیٹا پوری طرح پر محفوظ ہیں۔مرکز نے کہا کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی فل پروف نہیں ہوتی ہے۔مرکز کی دلیل مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار کے وکیل شیام دیوان نے اپنے جواب میں کہا کہ اٹارنی جنرل کہہ رہے ہیں کہ آدھار لازمی ہے لیکن ان کا موکل مرکزی حکومت کھلے عام تشہیر کر رہا ہے کہ آدھار اختیاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے مستقبل میں ہمارے شہری حقوق پر آنچ آ سکتی ہے۔منگل کو سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں آدھار کارڈ کے بایومیٹرک شناخت سسٹم کی جم کر وکالت کی تھی۔مرکز کی طرف سے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ آدھار کارڈ کے معاملے میں رازداری کو لے کر تشویش ناجائز ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper