الیکشن کمیشن کا سیاسی پارٹیوں کو چیلنج ،ای وی ایم ہیک کرکے دکھائیں

0
57

نئی دہلی، 20مئی (یو این آئی) الیکشن کمیشن نے آج ایک بار پھر کہا کہ اس کے ذریعہ استعمال کی جارہی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ا ی وی ایم) میں چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں ہے۔ اس نے سیاسی جماعتوں کو انہیں ہیک کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے اس کے لئے انہیں تین جون کو مدعو کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کے سلسلے میں تنازع کے مدنظر آج پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ یہ مشینیں پوری طرح محفوظ ، معتبر اور بھروسہ مند ہیں اور ان کا استعمال کسی کے حق میں یا خلاف میں نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مشینوں میں چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ان کے آلات کسی کے علم میں لائے بغیر بدلے جاسکتے ہیں۔ ان مشینوں میں بناتے وقت بھی چھیڑ چھاڑ کرنا ممکن نہیں ہے اور ان کا ڈاٹا بھی کسی طرح سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ مسٹر زیدی نے سیاسی پارٹیوں کو ای وی ایم ہیک کرنے کا چیلنج دیا کہ وہ تین جون سے کمیشن کے ہیڈکوارٹر نرواچن سدن میں آکر ایساکرکے دکھائیں۔ کوئی بھی پارٹی اپنے انفارمیشن ٹکنالوجی ماہرین کے ساتھ آکر ان مشینوں کا معائنہ کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی تسلیم شدہ قومی یا علاقائی پارٹی 26مئی تک اس میں حصہ لینے کے لئے درخواست دے سکتی ہے او رانہیں جماعتوں کو تین جون سے اس میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ ایک پارٹی اپنے تین نمائندے اس کے لئے بھیج سکتی ہے۔ مسٹر زیدی نے کہا کہ یہ گمراہ کن خبر پھیلائی جارہی ہے کہ کمیشن بیرونی ملکوں میں تیار شدہ ای وی ایم کا استعمال کررہا ہے۔ یہ بات پوری طرح بے بنیاد ہے۔ کمیشن تمام مشینیں سرکاری کمپنی بھارت الیکٹرانکس لمیٹیڈ اور الیکٹرانک کارپوریشن آف انڈیا سے تیارکرواتا ہے اور ان کا سافٹ وےئر بھی یہیں بنتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پولنگ سے قبل سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی موجودگی میں ای وی ایم کی جانچ ہوتی ہے اور ماک ووٹنگ کرائی جاتی ہے۔ ووٹنگ مکمل ہونے پر ای وی ایم کو سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے سامنے ہی سیل کیا جاتا ہے اور انہیں سخت سیکورٹی کے درمیان اسٹرانگ روم میں رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم کے سلسلے میں انہیں شکایتں موصول ہوئی ہیں لیکن اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم کی معتبریت میں اضافہ کے لئے اگلے عام انتخابات سے وی وی پیٹ کا استعمال شروع کردیا جائے گا۔ ا س سے الیکشن میں شفافیت بڑھے گی۔