اردو | हिन्दी | English
558 Views
Around the World

جادھو کو جلد پھانسی دے سکتا ہے پاکستان: بھارت

icj
Written by Taasir Newspaper

ہیگ، 15 مئی.(پی ایس آئی)پاکستان کی طرف سے بھارتی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کو جاسوسی کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا دینے کے معاملے میں بھارت نے یہاں پیر کو بین الاقوامی عدالت (آئی سی جے) میں اپنا موقف مضبوطی سے رکھا اور عدالت سے اپیل کی کہ وہ پھانسی کی سزا کو فوری معطل کرے، کیونکہ ‘صورت حال سنگین ہے’ اور خدشہ ہے کہ عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی انہیں پھانسی پر لٹکایا جا سکتا ہے. ہیگ میں بین الاقوامی عدالت میں ہندوستانی ٹیم کی قیادت کرنے والے سینئر وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ ‘معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے بھارت نے اس عدالت کا رخ کیا’، جس نے اس پر فوری طور پر نوٹس لیا. سالوے نے عدالت سے کہا کہ سال 2016 میں ایران میں جادھو کو اغوا کیا گیا اور پھر پاکستان لا کر مبینہ طور پر بھارتی جاسوس کے طور پر پیش کیا گیا اور فوجی حراست میں ان سے قبول نامہ لیا گیا. سالوے نے کہا، ” پاکستان نے جادھو کی گرفتاری سے بھارت کو آگاہ نہیں کرایا. ” انہوں نے کہا کہ فوجی عدالت کی طرف سے ایک ‘مضحکہ خیز سماعت’ کے نتیجے انہیں سنائی گئی موت کی سزا کے خلاف بھارت نے آئی سی جے کا رخ کیا اور سزا کو معطل کرنے کی مانگ کی. قابل ذکر ہے کہ ایک سال پہلے گرفتار کئے گئے بھارتی بحریہ کے سابق افسر کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے گزشتہ ماہ موت کی سزا سنائی. بھارت نے کہا ہے کہ جادھو کو اغوا کیا گیا اور ان پر بے بنیاد الزام لگائے گئے. بھارت نے جادھو کو سفارتی رسائی فراہم کرنے کے لئے پاکستان سے 16 بار درخواست کی، لیکن ہر بار اسلام آباد نے انکار کر دیا. ہندوستان کو یہ تک پتہ نہیں ہے کہ انہیں پاکستان میں کس جیل میں رکھا گیا ہے. سالوے نے کہا کہ 12 مئی کو پاکستان سے ملے ایک خط میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جادھو کے خلاف کیا الزام لگائے گئے ہیں. انہوں نے کہا، ” پاکستان نے کہا کہ جادھو کو موت کی سزا پاکستان کے خلاف جاسوسی کے قابل اعتماد ثبوتوں کی بنیاد پر سنائی گئی ہے. بھارت ان الزامات کو مسترد کرتا ہے. بھارت نے جادھو کو مناسب قانونی مدد یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے. یہ معلوم نہیں ہے کہ موجودہ حالات میں جادھو کو راحت ملے گی یا نہیں. ” سالوے نے ماضی کے ان تین مقدمات کا ذکر کیا جن میں آئی سی جے نے مداخلت کی تھی۔ پیراگوئے بمقابلہ امریکہ سمیت ان معاملات میں عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ امریکی حکومت کو پیراگوئے کے شہری کو سفارتی رابطے کو یقینی بنانے کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے. سالوے نے کہا کہ جرمنی بمقابلہ امریکہ کے معاملے میں عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ جرمنی کے ایک شہری کو سنائی گئی موت کی سزا ‘انصاف کی ناقابل تلافی نقصان’ ہے. بھارتی افسر دیپک متل نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے بین الاقوامی عدالت انصاف سے کہا، ” جادھو کو نہ تو اپنے قانونی حقوق کا استعمال کرنے کا موقع دیا گیا اور نہ ہی انہیں سفارتی رابطہ مہیا کرایا گیا. خدشہ ہے کہ اس معاملے میں آئی سی جے کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی ان کی موت کی سزا پر عمل کیا جا سکتا ہے. ” متل نے کاروائی کی صدارت کر رہے آئی سی جے کے صدر رونی ابراہیم کے سامنے کہا کہ بھارت نے پاکستان سے جادھو سے سفارتی رابطہ فراہم کرنے کے لئے کئی بار زور دیا، لیکن اسلام آباد نے ہر بار انکار کیا. متل نے عدالت سے کہا، ” بھارت کو پریس رپورٹ سے معلومات ملی کہ جادھو کو موت کی سزا ایک مبینہ قبول نامے کی بنیاد پر دی گئی ہے. بھارت کے کئی بار اصرار کرنے کے باوجود پاکستان نے معاملے کا الزام خط اور معاملے سے متعلق کسی بھی قسم کے دستاویزات مہیا نہیں کرائے. ” انہوں نے کہا، ” یہ واضح ہے کہ جادھو کو انکے قانونی حق سے محروم کیا گیا. جادھو کے والدین نے پاکستان جانے کے لئے ویزا کی درخواست دی، لیکن اس پر کوئی سنوائی نہیں ہوئی. ” وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری اور شریک ایجنٹ وی.ڈی شرما نے کہا کہ مارچ 2016 میں جادھو کی گرفتاری کے بعد اسے سفارتی رابطہ فراہم کرنے سے انکار کر کے پاکستان اپنے تمام قانونی ذمہ پر عمل کرنے میں ناکام رہا۔بھارت موت کی سزا کو فوری معطل کرنے کے طور پر راحت کی تلاش کر رہا ہے. پاکستان نے جادھو پر جاسوسی کرنے اور پاکستان میں ۔۔۔ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے، جبکہ بھارت نے الزامات سے انکار کیا ہے. شرما نے عدالت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوجی عدالت کی طرف سے جادھو کو دی گئی موت کی سزا پر عمل کرنے سے پاکستان کو روکے اور اس کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دینے کی ہدایت دے. مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح شروع ہوئی دن بھر چلنے والی سماعت کے تحت ڈیڑھ گھنٹے کے دو سیشن ہوں گے، جن میں بھارت اور پاکستان کو اپنا موقف رکھنے کا موقع دیا جائے گا. پاکستان اپنا موقف دوپہر بعد دوسرے سیشن میں رکھے گا.

About the author

Taasir Newspaper