اردو | हिन्दी | English
168 Views
Indian

جھارکھنڈ کی گورنر ملک کی پہلی قبائلی صدربن سکتی ہیں

mumrmu
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 5؍مئی(آئی این ایس انڈیا ):خبر ہے کہ جھارکھنڈ کی موجودہ گورنر دروپدی مرمو صدر جمہوریہ کے لیے این ڈی اے اتحاد کی ممکنہ امیدوار ہو سکتی ہیں ۔دراصل بابری مسجد شہادت معاملے میں سپریم کورٹ کی طرف سے اڈوانی اور جوشی پر مقدمہ چلانے کے فیصلہ کے بعد اس عہدے کے لیے ان دونوں کی امیدواری کا امکان تقریبا ختم ہو گیا ہے۔وہیں وینکیا نائیڈو کا نام بھی آسانی سے اپوزیشن پارٹیوں کے گلے نہیں اتر رہا ہے، ایسے میں صوبے کی پہلی قبائلی گورنر دروپدی مرمو کا نام ٹرمپ کارڈ ثابت ہو سکتا ہے۔ووٹوں کے جوڑتوڑ میں مصروف این ڈی اے کو دوپدی مرمو کے نام پر کچھ اپوزیشن پارٹیوں کا بھی ساتھ مل سکتا ہے۔دوپدی مرمو کوصدر جمہوریہ ے امیدوارکے طورپر پروجیکٹ کرنے پر اس کو جھارکھنڈ مکتی مورچہ سمیت دوسری سیاسی پارٹیوں کی بھی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔دروپدی مرمو کا تعلق اڑیسہ سے بھی ہے، ایسے میں این ڈی اے کو بیجو جنتا دل کی بھی حمایت حاصل ہو سکتی ہے ۔ فی الحال بی جے ڈی کے لوک سبھا میں 20ممبرپارلیمنٹ ہیں۔اتفاق سے دروپدی مرمو جھارکھنڈ اور ملک کی پہلی قبائلی خاتون گورنر ہیں۔دروپدی مرمو کو امیدوار بنا کر بی جے پی اور حکومت ملک کو الگ پیغام دے سکتی ہے۔وہیں اپوزیشن پارٹیوں کو بھی دوپدی مرمو کی مخالفت کرنے کے لیے کافی جدوجہد کرنی ہوگی۔20؍جون 1958کو اڑیسہ کے قبائلی خاندان میں پیدا ہونے والی دروپدی مرمو نے رامہ دیوی ویمینس کالج سے بی اے کی ڈگری لینے کے بعد اڑیسہ کی ریاستی سکریٹریٹ میں ملازمت کی۔1997میں شہر پنچایت کا الیکشن جیت کر سیاست میں قدم رکھا اور پہلی بار مقامی کونسلر بنیں۔اگر دروپدی مرمو کا نام آگے آتا ہے تو کونسلر سے صدرکی امیدوار بننے تک کا ان کا سفر ملک کی تمام قبائلی خواتین کے لیے ایک مثال اور ترغیب بنے گا۔غورطلب ہے کہ اتنے سالوں کی سیاسی زندگی میں دروپدی مرمو پر کوئی الزام نہیں لگا ہے۔ ایسے میں این ڈی اے کو ان کی صاف ستھری شبیہ کا فائدہ مل سکتا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper