اردو | हिन्दी | English
1251 Views
Health

سگریٹ نوشی کے بہت سے نقصانات

SIGRET NOSHI
Written by Taasir Newspaper

زیادہ سگریٹ پینے سے وقت سے پہلے آپ بوڑھے دکھنے لگتے ہو۔ اس سے انسان کی جلد کھردری اور رنگ پیلا پڑ جاتا ہے۔ تمباکو والے سگریٹ کے اندر چار ہزار ایسے مضر کیمیائی مادے ہوتے ہیں جن سے انسان کی جلد پر جلدی جھریاں پڑ جاتی ہیں اور اس کی جلد لٹک جاتی ہے۔سگریٹ نوشی سے بازو اور بدن ڈھلک جاتے ہیں۔ جلد میں الاسٹن کو سگریٹ پینے سے اتنا نقصان پہنچتا ہے کہ انسان کے ہونٹ کے گرد جھریاں اور بل پڑنے لگ جاتے ہیں۔
زیادہ سگریٹ پینے سے وقت سے پہلے آپ بوڑھے دکھنے لگتے ہو۔ اس سے انسان کی جلد کھردری اور رنگ پیلا پڑ جاتا ہے۔ تمباکو والے سگریٹ کے اندر چار ہزار ایسے مضر کیمیائی مادے ہوتے ہیں جن سے انسان کی جلد پر جلدی جھریاں پڑ جاتی ہیں اور اس کی جلد لٹک جاتی ہے۔سگریٹ نوشی سے بازو اور بدن ڈھلک جاتے ہیں۔ جلد میں الاسٹن کو سگریٹ پینے سے اتنا نقصان پہنچتا ہے کہ انسان کے ہونٹ کے گرد جھریاں اور بل پڑنے لگ جاتے ہیں۔
اس سے چھائیاں ، جھریاں اور دانے منہ پر وقتاً فوقتاً نمودار ہوتے رہتے ہیں۔ کوئی ایسا شخص جو بہت زیادہ سموکنگ کرتا ہو اس کے دانت عموماً برش کرنے کے باوجود پیلے نظر آتے ہیں۔ اس سے صرف دانت دیکھنے میں برے نہیں لگتے بلکہ جبڑوں اور دانتوں کی جڑوں میں کالا ٹار جم جاتا ہے جو ان کو بہت کمزور بنا دیتا ہے۔ اس سے ناخن اور بال بہت خراب ہو جاتے ہیں۔ ناخنوں کا رنگ بدل جاتا ہے اور وہ کھردرے ہو جاتے ہیں۔ مگر سگریٹ چھوڑ دینے سے ناخن پھر سے نارمل ہو جاتے ہیں۔ بالوں کا گرنا ہر انسان کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ایک فطری عمل ہے۔ لیکن سگریٹ پینے والے لوگوں کے بال زیادہ جھڑتے ہیں۔ اس سے گھٹنوں اور کہنیوں کی بیماری سوریاسز بڑھ جاتی ہے اور ان پر خراشیں بنتی رہتی ہیں۔ اس سے ناصرف پھیپھڑے برباد ہو جاتے ہیں بلکہ ہڈیوں پر بھی اس کے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہڈیاں کھوکھلی ہو جاتی ہیں اور پہلے کی طرح مضبوط نہیں رہتیں۔
ہڈیوں کی بیماری اوسٹیو پو رو سز بھی سموکنگ سے بڑھ جاتی ہے۔ اس سے انسان جھک کر بیٹھنے لگتا ہے اور اس کا کب نکل سکتا ہے۔ہڈیاں کمزور ہونے کے باعث انسان کے فریکچر زیادہ ہو سکتے ہیں۔ پہلے اگر گرنے سے اس کو کچھ نہ ہوتا تو چار پانچ سال سموکنگ کرنے والے انسان کو ہلکی ٹھوکر سے بھی خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ اب ہڈیاں کھوکھلی ہیں اور با آسانی ٹوٹ سکتی ہیں۔ اس سے کیونکہ کورونری آرٹری بلاک ہو سکتی ہے تو یہ ہارٹ اٹیک کا باعث بن سکتا ہے۔ دل کے مریضوں کے لیے سگریٹ نوشی بہت نقصان دہ ہوتی ہے۔اس سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور جلدی اور دل کے امراض بہت بڑھ سکتے ہیں۔ کسی کھلاڑی کے لیے سگریٹ نوشی اس کا کرے ئر تباہ کر سکتی ہے کیونکہ اس سے جلدی سانس چڑھ جاتا ہے اور انسان کا سٹیمینا یعنی صلاحیت بہت کم ہو جاتی ہے۔جب خون گاڑھا ہو جاتا ہے تو اس کی گردش بھی متاثر ہوتی ہے اور یہ کسی کھلاڑی کے لیے بہت برا ہے۔
جو خواتین سگریٹ نوشی کرتی ہیں ان کی صرف جلد اور حلیہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ ان کا ماں بننے کا چانس کافی کم ہو جاتا ہے۔ اس سے ایک عورت کے لیے کنسیو کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ بچے کے ضائع ہو جانے کا زیادہ چانس ہوتا ہے اور اگر بچہ پیدا ہو بھی جائے تو وہ باقیوں کی طرح بہت تندرست نہیں ہوتا بلکہ عام بچوں سے کم وزنی ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے انسان کو پھیپھڑوں کا کینسر لاحق ہو سکتا ہے اور ایک ریسرچ کے مطابق ہر دس مریضوں میں سے نو جن میں پھیپھڑوں کا کینسر تشخیص ہوتا ہے وہ سموکر ز ہوتے ہیں۔ یعنی نوے فیصد پھیھڑوں کے کینسر کے مریض سموکنگ کے عادی ہوتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کرنے والے انسان کو نمونیہ کا خدشہ بھی ہر وقت لگا رہتا ہے۔ کسی بھی نشے کی طرح سگریٹ نوشی کی لت سے چھٹکارا پانا بہت آسان ہے بس اس کے لیے مضبوط ارادے اور خود کو مثبت مشغلوں میں مصروف رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper