اردو | हिन्दी | English
216 Views
Indian

لالوکے 22 ٹھکانوں پر انکم ٹیکس کے چھاپے

lalu
Written by Taasir Newspaper

پٹنہ،16مئی(یواین آئی)راشٹریہ جنتا دل(آر جے ڈی)کے سربراہ لالو پرساد یادو سے جڑے ایک ہزار کروڑ کے مبینہ بے نامی جائداد معاملے میں آج دہلی اور گروگرام کے 22 ٹھکانوں پر انکم ٹیکس نے چھاپے مارے ۔الزام ہے کہ انہوں نے یہ بے نامی جائیداد اس وقت حاصل کی جب وہ یوپی اے حکومت میں وزیر ریل تھے۔ چھاپے کے بعد ان کی سرکاری رہائش گاہ میں سناٹا چھاگیا۔ انکم ٹیکس کے چھاپے کی خبرملنے کے بعد یہاں ان کی اہلیہ اور سابق وزیراعلی رابڑی دیوی کی رہائش گاہ 10 سرکولر روڈ کے باہر میڈیا کی بھیڑ لگ گئی ہے لیکن گھر کے اندر سناٹا چھایا رہا۔حالانکہ اس درمیان سینئر ایڈووکیٹ چترنجن سنہا کو بلایا گیا۔بعد میں آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد نے ٹویٹ کر کے کہا کہ وہ چھاپہ ماری سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔یہ خاموش کرنے کی ایک کارروائی ہے لیکن بی جے پی انہیں خاموش نہیں کرسکتی ہے۔ ادھر آر جے ڈی کے جنرل سکریٹری اور قانون ساز کونسلر مندریکا سنگھ یادو بھی مسٹر یادو کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ اسی دوران جنتا دل یونائیٹیڈ(جے ڈی یو)کے ترجمان نیرج کمار نے کہا کہ انہیں چھاپے کے سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہے اس لئے وہ اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہیں گے۔وہیں جے ڈی یو کے ہی ایک دیگر ترجمان ڈاکٹر اجے آلوک نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جیپی)کے رہنما گزشتہ 40دنوں سے آر جے ڈی کے سربراہ اور ان کے خاندان کے لوگوں پر بے بنیاد الزام لگارہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد وزیراعلی نے کہا تھا کہ اگراس بارے میں کوئی ثبوت ہے تو بی جے پی کے لوگ آگے کی کارروائی کریں۔صرف میڈیامیں بیان دے کر تشہیر پانے کے ارادے سے الزام لگانا ٹھیک نہیں ہے۔ ڈاکٹر آلوک نے کہا کہ انکم ٹیکس کے چھاپے اور لوگوں کے یہاں بھی ہوتے رہے ہیں۔اس لئے جب تک چھاپے میں کیا ملتاہے،اس کا پتہ نہیں چل جاتا تب تک کوئی نتیجہ نکالنا ٹھیک نہیں ہے۔ مسٹر یادو کی رہائش گاہ پر جانے سے پہلے آر جے ڈی کے قومی نائب صدر رگھوونش پرساد سنگھ نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ بی جے پی شروع سے ہی مسٹر لالو پرساد یادو کو بربادکرنے اوران کے خاندان کو بدنام کرنے کی سازش کرتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسٹر یاد و مرکز کی مودی حکومت کے خلاف سبھی سیکولر پارٹیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کررہے تھے،اس لئے بی جیپی نے اس کوش کو ناکام کرنے کے لئے مرکزی ایجنسی کے ذریعہ یہ کارروائی کی ہے۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ آر جے ڈی نے بھی بی جیپی لیڈر سشیل کمار مودی کے خلاف الزام لگائے تھے،لیکن مرکزی حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔اس کے برعکس مسٹر سشیل مودی کے الزام پر مرکزی حکومت نے مسٹر یادو کے خلاف یک طرفہ کارروائی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بدلے کے جذبے سے کی گئی کارروائی ہے لیکن آر جے ڈی کو عوام پر بھروسہ ہے۔

About the author

Taasir Newspaper