اردو | हिन्दी | English
389 Views
Politics

ویر چند پٹیل پتھ میدان جنگ میں تبدیل

rjd
Written by Taasir Newspaper

پٹنہ، 17 مئی (یو این آئی) راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو اور ان سے منسلک ٹھکانوں پر کل انکم ٹیکس کے چھاپے کی مخالفت میں مظاہرہ کے دوران ویر چند پٹیل پتھ اچانک میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔اطلاع کے مطابق طلبا آر جے ڈی کے کارکن آر جے ڈی دفتر سے مظاہرہ کی شکل میں انکم ٹیکس گولمبر کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اسی بیچ بی جے پی کے دفتر کے سامنے بی جے پی کارکنان اور ان کے بیچ مڈبھیڑ ہوگئی۔دونوں جانب سے ہوئی پتھربازی میں کئی افرراد زخمی ہوگئے۔ ذرائع نے یہاں بتایا کہ آر جے ڈی کے طلبہ کارکن ہاتھوں میں لاٹھی اور جھنڈے لے کر بی جے پی کے سینئر لیڈر سشیل کمارمودی کی مخالفت میں نعرے لگاتے ہوئے ویر چند پٹیل سڑک پر واقع آر جے ڈی دفتر سے انکم ٹیکس گولمبر کی جانب جا رہے تھے۔ دریں اثنا آر جے ڈی کے کارکن بی جے پی دفتر کے نزدیک رک گئے اور بی جے پی کے خلاف نعرے لگانے لگے۔ اس کے بعد کچھ مشتعل کارکن بی جیپی دفتر میں داخل ہونے کی کوشش میں گیٹ تک پہنچ گئے۔ اس پر دفتر میں موجود بی جے پی کارکنوں نے مخالفت کی جس کے بعد دونوں فریقوں کے مابین جھڑپ شروع ہوگئی۔ دونوں جانب سے پتھراؤ کے واقعہ میں کچھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس دوران کئی گاڑیوں کے بھی شیشے ٹوٹ گئے۔ بعد میں پولیس نے آر جے ڈی کارکنوں کو بی جے پی دفتر سے دور کھدیڑ دیا۔ اس کے بعد بی جے پی کے کارکنوں نے سڑک پر دھرنا دے کر ویر چند پٹیل سڑک کو جام کردیا۔بتایا جاتا ہے کہ آرجے ڈی طلبا بی جے پی کے دفتر کے سامنے نیم برہنہ ہوکر مظاہرہ کے ساتھ ساتھ نعرہ بازی کررہے تھے۔ اسی درمیان سنگ باری شروع ہوگئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ماحول پرتشدد ہوگیا۔ دونوں طرف سے ہوئی سنگ باری میں کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ پولس حالات کو انڈر کنٹرول مان رہی ہے۔ لیکن کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ پٹنہ کے ایس پی چندن کشواہا کے مطابق پولس اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاملے میں ملوث افراد کی شناخت کی جارہی ہے۔ پرتشدد جھڑپ کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے پیدل مارچ کیا ۔ کچھ دیر کیلئے ویر چند پٹیل پتھ کو پوری طرح بند کردیا گیا۔ لیکن بی جے پی دفتر کے سکریٹری کی مداخلت کے بعد اسے پھر کھول دیا گیا۔ بی جے پی دفتر کے سامنے کھڑی کئی گاڑیوں کو راجد کے کارکنان کے ذریعہ نقصان پہنچانے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ بی جے پی رہنماؤں کاالزام ہے کہ درجنوں کارکنان زخمی ہوئے ہیں موقع پر کئی تھانوں کی پولس کافی دیر تک موجود رہی۔ دریں اثنا اس معاملے نے ریاست کی سیاست کو گرم کردیا ہے۔ جہاں بی جے پی کے لیڈر آر جے ڈی کارکنان پر غنڈہ گردی کا الزام لگارہے ہیں وہیں آرجے ڈی سمیت دیگر غیر بی جے پی رہنما کا کہنا ہے کہ بی جے پی لالو یادو کو کمزور کرنا چاہتی ہے اور ان کی زبان پر لگام لگانے کی کوشش کررہی ہے۔ بہار بی جے پی کے صدر نتیہ نند رائے کاالزام ہے کہ یہ حملہ راجد سپریمو لالو یادو کے کہنے پر ہوا ہے۔ انہوں نے آرجے ڈی پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو قانون کے دروازے پر لے جائیں گے۔ ساتھ ہی عوام کی عدالت میں بھی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس کا کرارا جواب دے گی۔ آر جے ڈی کی بے چینی کو بہار کے عوام سمجھ رہے ہیں۔ اسی بیچ آرجے ڈی کے ترجمان منوج جھا کاکہنا ہے کہ پہلے بی جے پی کے کارکنان نے پتھر بازی کی جس کے بعد آرجے ڈی کے کارکنان نے جوابی کارروائی کی۔ سینئر رہنما شیوانند تیواری نے کہا کہ بی جے پی غیر جمہوری اقدام کررہی ہے۔ کوشش یہ ہورہی ہے کہ لالو یادو کمزور ہوجائیں اور ان کی زبان بند ہوجائے۔کچھ اسی طرح کی بات آرجے ڈی کے سینئر لیڈر رگھوونش پرساد سنگھ اور جگدا نند سنگھ نے بھی کہی ہے۔ جبکہ سشیل کمار مودی ، مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان، سابق وزیراعلیٰ جیتن رام مانجھی ، بھاجپا لیڈر بھوپندر یادو نے بھی آرجے ڈی پر غنڈہ گردی کا الزام لگاتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔دوسری جانب بی جے پی اور آر جے ڈی کے رہنماؤں نے ڈی جی پی سے الگ الگ ملاقات کر کے شکایت درج کی۔ دونوں طرف سے کوتوالی تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ دریں اثنا سیٹی ایس پی چندن کشواہا کا کہنا ہے کہ پولس سے ہاتھاپائی کرنے والوں پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ پولس نے بھی اپنی طرف سے ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper