اردو | हिन्दी | English
357 Views
Bihar News

چمپارن ستیہ گرہ جیسی تحریک کے موڈ میں چمپارن کے عوام

moti
Written by Taasir Newspaper

موتیہاری، 2مئی (محمد ارشد)۔ چمپارن ستیہ گرہ کے سو سال مکمل ہونے پر بہار اور مرکزی حکومت جہاں ستیہ گرہ صدی تقریب منا رہی ہے وہیں مشرقی چمپارن کے عوام باپو کی کرم بھومی پر ایک نئی تحریک کی تیاری میں مصروف ہوگئے ہیں۔ حال ہی میں پڑوسی ضلع شیوہر کے ڈی ایم نے مشرقی چمپارن ضلع کے پکڑی دیال اور سکرہنا سب ڈویژن علاقے کے سکرہنا، چریا اور مدھوبن بلاک کو پڑوسی ضلع شیوہر میں شامل کرنے کی تجویز ریاستی حکومت کو بھیجی ہے۔ اس بات کی خبر میڈیا میں آتے ہی مشرقی چمپارن کی سیاست میں اچانک ابال آ گیا ہے۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی چمپارن ستیہ گرہ صدی کے جشن میں ڈوبے ضلع کے شہریوں کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ پکڑی دیال اور سکرہنا سب ڈویژن کے لوگ تحریک کی تیاری میں ہیں۔ علاقے کے چوک۔چوراہوں سے لے کر کھیت کھلیان تک آج کل اسی بات کا ذکر لوگوں میں ہے۔ اس معاملے پر چمپارن کی سیاست گرمانے لگی ہے۔چمپارن بچاؤ تحریک کے زیراہتمام ایک بڑی تحریک کی تیاری یہاں کے سماجی کارکنوں اور مختلف تنظیموں سے جڑے لوگوں نے شروع کر دی ہے۔ ضلع میں سیاسی رجحان کا دور شروع ہو گیا ہے۔ڈھاکہ اور چریا کے سابق ممبر اسمبلی اونیش کمار سنگھ نے ایک بیان جاری کر کہا کہ حکومت مشرقی چمپارن کے پکڑی دیال اور سکرہنا سب ڈویژن کو شیوہر ضلع میں شامل کرکے دونوں سب ڈویژنوں کے عوام کو ٹھگنے کا کام کر رہی ہے۔ اس صورت میں شیوہر ڈی ایم کے کردار کو انہوں نے چمپارن مخالف قرار دیا۔ ادھر چمپارن بچاؤ تحریک کے لیڈر اور ڈھاکہ اسمبلی حلقہ کے سابق امیدوار رام کپور سنہا نے کہا کہ مشرقی چمپارن کی تقسیم یہاں کے عوام کو کسی بھی قیمت پر منظور نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سکرہنا اور پکڑی دیال سب ڈویژن کے ڈکاکہ، چریا اور مدھوبن اسمبلی علاقے کو پڑوسی ضلع شیوہر میں شامل کرنے کی تجویز یہاں کے عوام پر سرکاری حکمرانوں کے ذریعہ بلڈوزر چلانے کی طرح ہے۔ چمپارن کے باشندے اس کی ہر سطح پر مخالفت کرنے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ جغرافیائی نقطہ نظر سے بھی مذکورہ دونوں سب ڈویژں کا علاقہ شیوہر سے الگ تھلگ ہے۔ مسٹر سنہا نے کہا کہ دونوں سب ڈویژنوں کی شناخت باپو اور چمپارن سے ہے نہ کہ شیوہر سے۔مشرقی چمپارن اور شیوہر ضلع کو باگمتی اور لال بکیا جیسی ندیاں تقسیم کرتی ہیں۔ شیوہر کی ثقافت سے چمپارن کی بولی اور زبان بھی مختلف ہے۔ آئندہ تحریک کا اعلان کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں دونوں سب ڈویژن علاقے میں عوامی بیداری مہم چلائی جائے گی۔ پمفلٹ کے ذریعے چمپارن کی اہمیت نقشے کے ساتھ عوام کو بتائی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں جگہ جگہ نکڑ ناٹک منعقد کیا جائے گا اور دستخطی مہم چلے گی۔تحریک کے تیسرے مرحلے میں بڑہروا لکھن سین واقع گاندھی جی کے آشرم سے ضلع کلکٹریٹ موتیہاری تک پیدل مارچ کیا جائے گا اور ڈی ایم کو میمورنڈم دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر وقت رہتے چمپارن کی تقسیم اور سکرہنا اور پکڑی دیال سب ڈویژن کو شیوہر ضلع میں شامل کرنے کی تجویز کو واپس نہیں لیتی ہے تو ضلع سے لے کر راجدھانی پٹنہ تک تحریک تیز کی جائے گی۔ وہیں ضلع کے صحافی اور سماجی کارکن سنجے کمار ٹھاکر نے شیوہر کے ڈی ایم کے طریقہ کار پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ڈی ایم کے ذریعہ حکومت کو بھیجی گئی تجویز الٹی گنگا بہانے کی طرح ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ چمپارن تحریکوں کی زمین ہے۔ ستیہ گرہ صدی سال میں ہم ضلع کے دو اہم سب ڈویژنوں کو شیوہر ضلع میں کسی بھی صورت میں نہیں ہونے شامل دیں گے۔ اس مانگ کو لے کر ستیہ گرہ جیسی تحریک بھی کریں گے۔ چریا کے سابق ممبر اسمبلی لکشمی نارائن یادو نے شیوہر ڈی ایم کے ذریعہ بھیجی گئی تجویز کو غلط فیصلہ بتایا ہے۔ کل ملا کر شیوہر ڈی ایم کی تجویز نے تحریکوں کی زمین چمپارن کے عوام کو ستیہ گرہ صدی سال کے دوران دوسرے ستیہ گرہ کے آغاز کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بہار حکومت بمقابلہ عوام کی اس لڑائی کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper