ڈاکٹر ہرش وردھن نے ماحولیات کا قلمدان سنبھالا

0
19

نئی دہلی،22مئی(پی ایس آئی) ماحولیات کے وزیر مملکت(آزادانہ چارج ) جناب انل مادھو دوے کے پچھلی جمعرات کو اچانک کے انتقال کے بعد سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج یہاں آئی پی بھون میں ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا میں تبدیلی کے وزیر کی حیثیت سے چارج سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے آئی پی بھون کے احاطے میں آنجہانی انل مادھو دوے کی یاد میں ایک درخت کا پودا لگاکر دفتر کا کام شروع کیا۔ انہوں نے ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا میں تبدیلی کی وزارت کا چارج سنبھالتے ہوئے آنجہانی انل مادھو دوے کی دریاؤں اور ماحولیات کے تحفظ کیلئے کئے گئے عظیم تعاون کو یاد کیا۔ انہوں نیبچوں کیلئے جناب دوے کی محبت کو اجاگر کیا اور کہا کہ ہمارے بچوں کیلئے ماحولیات کو بحال کرنا ان کی اولین ترجیح تھی۔ جناب ہرش وردھن نے کہا کہ دوے جی نے دریاؤں، جنگلات اور ماحولیاتی نظام کا تحفظ کرنے کا کام نہایت جذباتی لگاؤ کے ساتھ کیا ہے اور وہ ایک ماحولیات کے سچے ہمدرد تھے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے جناب دوے کے الفاظ کو دہرایا جو وہ ہمیشہ کہتے تھے ’’کہ اگر میں کرسکتا ہوں تو ہم سب کرسکتے ہیں‘‘ وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت ہمیشہ جناب دوے کی اس خواہش کو ذہن میں رکھے گی کہ درختوں کی پود لگاکر اور ان کی پرورش کرکے درخت اگانے اور دریاؤں اور تالابوں کو صاف رکھا جائے۔ڈاکٹر ہرش وردھن نے وزارت کے سکریٹری اور دیگر سینئر عہدیداروں کے ساتھ ترجیحی معاملات کا جائزہ لیا۔ انہوں حکومت کے تین سال کے دوران کئے گئے کام کی پیش رفت اور کلیدی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ماحولیات ، جنگلات اور آب وہوا میں تبدیلی سے متعلق ایسے پیچیدہ معاملات ہیں جن پر فوری طور پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ مشترکہ اور ٹھوس کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کا مشن ماحولیات کے باعث تشویش معاملات کو ترقیاتی پالیسیوں سے جوڑنا اور ماحولیات اور ترقیاتی پالیسیوں کے درمیان بھارت کی پائیدار ترقی کیلئے توازن قائم رکھا جائے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ وزارت جلد از جلد جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنائے اور اس کے ساتھ ساتھ اجازت دینے کے عمل کو زیادہ شفاف جواب دہ اور بروقت بنایا جائے۔وزیرموصوف نے آب وہوا میں تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے مقصد سے پالیسیوں اور پروگراموں، نباتاتی گوناگونیت کا تحفظ، آلودگی کی روک تھام اور صاف پیداوار کا فروغ، 4 آر(کم کرنا، بحال کرنا، دوبارہ استعمال اور پھر قابل استعمال بنانا) کے طریقہ کار پر کچرے کا بندوبست، ماحولیاتی سیاحت، بنجر زمینوں پر جنگل لگانے جیسے کلیدی پروگراموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہوا اور پانی، دونوں میں آلودگی پورے ملک کیلئے تشویش کا باعث ہے اور خاص طور پر دہلی اور این سی آر میں ترجیحی طور پر اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آب وہوا میں تبدیلی کو اجاگر کیا اور پیرس معاہدے میں بھارت کے وعدے کو ایک اہم چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سا کام کیا جانا ہے جس میں عوام کو شریک کیا جانا چاہئے۔ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ عوام کی شرکت بہت اہم ہے اور ماحولیات کے تحفظ اور اس کو برقرار رکھنے کیلئے عوام کی شرکت میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔اس سے پہلے ڈاکٹر ہرش وردھن نے پوری عمارت کو دیکھا جو تعمیراتی فن کا ایک بہتر نمونہ ہے۔ اس عمارت میں باہر کی کوئی توانائی استعمال نہیں ہوتی کیو نکہ یہاں استعمال ہونے والی توانائی یہی پیدا کی جاتی ہے۔ انہوں نے عمارت کے صاف ستھرے ماحول اور مجموعی طرز تعمیر کی ستائش کی۔