اردو | हिन्दी | English
174 Views
Indian

کل بھوشن جادھو کی پھانسی پر عالمی عدالت انصاف کا حکم موقوفی

jadghu
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی/دی ہیگ، 18 مئی (یو این آئی) ہندستان کو آج ایک بڑی سفارتی فتح اس وقت حاصل ہوئی جب ہیگ میں انصاف کی بین الاقوامی عدالت نے ہندستانی بحریہ کے سابق افسر کل بھوشن جادھوکی سزائے موت پر حکم موقوفی جاری کردیا۔ کل بھوشن جادھو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت میں موت کی سزا سنائی تھی۔ عالمی عدالت نے حکم دیا کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ معاملہ حتمی طور پر فیصل ہونے تک مسٹر جادھو کو پھانسی نہیں دی جائے گی ، تمام اقدامات کرے۔ سزائے موت رکوانے کی ہندستان کی عرضی پر عدالت نے مزید کہا کہ ہندستان اور پاکستان کے درمیان 2008 کا باہمی معاہدہ بین الاقوامی عدالت کو اس معاملے میں فیصلے کے حق سے دستبردار نہیں کرتا۔ عالمی عدالت کیاس فیصلے کو ہندستان کی پاکستان پر ایک بڑی سفارتی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کی فوجی عدالت نے گذشتہ دس اپریل کو مسٹر جادھو کو ہندستان کا جاسوس قرار یتے ہوئے دہشت گردی اور بغاوت کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ ہندستان نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے پاکستان سے مسٹر جادھو کے خلاف چارج شیٹ کے دستاویزات طلب کئے تھے لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد بین الاقوامی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ عدالت نے نو مئی کو مسٹر جادھو کی سزا پر عبوری روک لگا دی تھی اور 15 مئی کو اس معاملے میں بھارت اور پاکستان کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، جس میں عالمی عدالت نے ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھوکو پاکستان کی فوجی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزائے موت پر روک لگادی ہے۔ عالمی عدالت انصاف کی طرف سے آج جاری کئے گئے حکم کی خبر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پھیلنے کے تھوڑی دیر بعدہی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ “عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ مسٹر کلبھوشن جادھو کے خاندان اور ملک کے باشندگان کے لئے بڑی راحت کا باعث بن کر سامنے آیا ہے”۔ انہوں نے دوسری ٹویٹ میں کہا کہ “میں قوم کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم کلبھوشن جادھو کو بچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے”۔ انہوں نے کہا کہ ” ہم ہریش سالوے کے شکرگزارہیں کہ انہوں اس کیس کو عالمی عدالت انصاف کے سامنے مضبوطی سے پیش کیا۔ ساتھ ہی، ہم وزارت خارجہ کی اپنی ٹیم کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے اس معاملے کو انجام تک پہنچانے میں انتہائی جدوجہد اور محنت سے کام کیا”۔ واضح رہے کہ آج عالمی عدالت انصاف نے کے جج رونی ابراہم نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو کلبھوشن جادھو کی پھانسی دینے سے باز رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ “عالمی عدالت یہ حکم دینا مناسب سمجھتی ہے کہ ہماری طرف سے حتمی فیصلہ سنائے جانے تک پاکستان کلبھوشن جادھو کو پھانسی دینے سے بچانے کی ہرممکن تدبیر کرے”۔ پاکستان میں فوجی عدالت کی طرف سے کلبھوشن جادھو کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد ہندوستان نے اس معاملے کو ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف میں اٹھایا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper