اردو | हिन्दी | English
467 Views
Politics

گورکھپور فساد :یوگی آدتیہ ناتھ پر نہیں چلے گا مقدمہ

yogi
Written by Taasir Newspaper

الہ آباد، 11؍مئی (آئی این ایس انڈیا ) اتر پردیش کی حکومت نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر مقدمہ چلانے سے انکار کر دیا ہے۔ سال 2007 کے گورکھپور فسادات کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی حکومت سے پوچھا تھا کہ کیا یوگی آدتیہ ناتھ پر مقدمہ چلایا جائے؟ اس کے جواب میں یوپی حکومت نے مقدمہ چلانے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ 2007 گورکھپور میں ہوئے فسادات کو لے کر معاملہ تھا۔ اس معاملے میں گزشتہ دونوں حکومت کے پاس فائل گئی تھی، جس میں یوگی آدتیہ ناتھ پر کیس چلانے کی اجازت دینے کی بات کہی گئی تھی۔اس معاملے عرضی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں ہائی کورٹ میں کیس کریں گے اور وہاں بات نہیں بنے گی تو وہ اسے آگے لے جائیں گے۔ بحث ہے کہ اس معاملے میں یوگی آدتیہ ناتھ کے آوازنمونے تک نہیں لئے تھے، اس لئے بغیر تحقیقات کے اس طرح چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں درخواست گزار گورکھپور کے صحافی پرویز پرواز اور سماجی کارکن اسد حیات نے اس معاملے کی جانچ سی بی سی آئی ڈی کے بجائے سی بی آئی یا دوسری آزاد ایجنسی سے کرائے جانے کی مانگ کو لے کر ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اکھلیش حکومت نے معاملے کو لٹکاتے ہوئے اس کیس میں یوگی سمیت باقی ملزمان کے خلاف کیس چلائے جانے کی منظوری نہیں دی تھی۔سال 2007 کی 27 جنوری کو گورکھپور میں فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا۔ اس فساد میں اقلیتی کمیونٹی کے دو لوگوں کی موت ہوئی تھی اور کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں درج کیس میں ہے کہ اس وقت کے بی جے پی کے ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ، ممبر اسمبلی رادھا موہن داس اگروال اور اس وقت کے میئر انجو چودھری نے ریلوے اسٹیشن کے پاس اشتعال انگیز تقریر کرنے کے بعد بھڑکا تھا۔پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ فسادات محرم پر تعزیہ کے جلوس کے راستوں کو لے کر تھا۔ اس معاملے میں یوگی آدتیہ ناتھ سمیت بی جے پی کے کئی لیڈران کے خلاف سی جی ایم کورٹ کے حکم پر مقدمہ درج ہواتھا۔یوگی آدتیہ ناتھ سمیت دوسرے بی جے پی لیڈران کے خلاف ایف آئی آر درج کئے جانے کا حکم دئے جانے کا معاملہ گورکھپور کے صحافی پرویز پرواز اور سماجی کارکن اسد حیات نے داخل کیا تھا۔ کیس درج ہونے کے بعد معاملے کی جانچ سی بی سی آئی ڈی کو سونپی گئی تھی، اگرچہ ایف آئی آر درج ہونے کا حکم اور تحقیقات پر ملزم میئر انجو چودھری نے سپریم کورٹ سے کافی دنوں تک اسٹے لے رکھا تھا۔ 13 دسمبر سال 2012 کو سپریم کورٹ نے اسٹے واپس لے لیا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper