اردو | हिन्दी | English
2009 Views
Health

بچپن میں بڑھاپا

BACHPAN MEN
Written by Taasir Newspaper

پروجیریا کیا ہے؟یہ ایک ایسا عجیب وغیریب ہے،جس میں مبتلا بچے بچپن میں ہی بوڑھے ہوجاتے ہیں۔یہ ایک جینیاتی مرض ہے۔اس کے شکار بچے کی جسمانی نشودنما بہت تیزی سے بڑھتی ہے اور وہ طاقت سے پہلے بڑھاپے کی دہلیز پار کر جاتا ہے۔جسمانی نشودنما کی تیز رفتاری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پانچ برس کی عمر کا بچہ یا بچی 50 برس کی بوڑھی عورت لگنے لگتی ہے۔پروجیریا بچپن میں لاحق ہونے والا مرض ہے۔اس مرض میں مبتلا بچے مشکل ہی ۳۱ برس سے زیادہ جیتے ہیں۔یہ مرض ہر نسل سے تعلق رکھنے والے بچوں اور بچیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔دنیا بھر میں پیدا ہونے والے۰۴ لاکھ بچوں میں سے ایک بچہ پروجیریا کا شکار ہوتا ہے۔اس مرض کی شرح بہت کم ہے۔
پروجیریاکا مرض کس طرح لاحق ہوتا ہے؟
دراصل ایک خاص قسم کے مورثے میں خرابی پیدا ہو جانے کی وجہ سے جسم میں ایک ابنارمل محمیہ(پروٹین)بننے لگتا ہے۔جب جسم کے خلیات(سیلز)اس لحمیے کو استعمال کرتے ہیں تو وہ ان خلیات کو توڑ پھوڑ کر تباہ و برباد کردیتا ہے۔یہ لحمیہ متاثرہ بچوں کے جسم کے بہت سے خلیات میں بننے لگتا ہے او ر یہی انھیں تیزی سے بڑھاپے کی طرف لے جاتا ہے۔اس لحمیے کو ’’پروجیرن‘‘ کہتے ہیں۔
پروجیریا دو یانانی الفاظ’’پرو‘‘اور ’’جیراس‘‘سے مل کر بناہے۔’’پرو‘‘ کے معنی قبل از وقت اور’’جیراس‘‘کے معنی بڑھاپے کے ہیں،لہٰذا پروجیریا کے معنی ہوئے:’’قبل از وقت بڑھاپا۔‘‘اس مرض کوسب سے پہلے ایک انگریز سرجن نے ۶۸۸۱ء4 میں تشخیص کیا تھا۔
یہ متاثرہ بچوں سے دوسرے افراد کو منتقل نہیں ہوتا۔اس سے متاثرہ بچے پیدائش کے وقت عام بچوں کی طرح صحت مند نظر آتے ہیں،لیکن پہلے ہی سال میں ان میں مرض کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ایسے بچوں کا وزن عام بچوں سے کم ہوتا ہے۔ان کے سر غیر معمولہ طور بر بڑے ہوتے ہیں۔آنکھیں گول اور بڑی ہوتی ہیں۔جسم کی رگیں اْبھری ہوئی ہوتی ہیں۔جلد کی نچلی سطح اور جسم کے دوسرے حصوں پر جھیریاں زیادہ ہوتی ہیں۔
ان کی جِلد بوڑھی ہوجاتی ہے۔آواز میں بھاری پن ہوتا ہے۔جسم میں پٹھے کم ہوتے ہیں۔پلکیں اور بھویں بالوں سے بے نیاز ہوتی ہیں۔اس کے دانت خراب ہوتے ہیں۔
پروجیریا سے متاثرہ بچوں کی شکلوں میں مشابہت زیادہ پائی جاتی ہے۔اس کے قد عام صحت مند بچوں کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے ہیں۔جسمانی نشودنما کی نسبت دماغی بلوغت کی تیز رفتاری نارمل ہوتی ہے۔یہ مرض بچے کی ذہانت یا دماغی نشودنما کو متاثر نہیں کرتا ہے۔مریض بچے یا بچی کی عمر مختصر ہوتی ہے اور چہرے کے نقوش عجیب سے ہوتے ہیں۔
جو بچہ اس مرض کی لپیٹ میں آجاتا ہے،اس کو عام بڑھاپے والی بیماریاں بھی گھیر لیتی ہیں،مثلاََ ہڈیوں کی کم زوری،فالج،شریانوں میں سختی،جوڑوں کا درد ورم اور امراضِ قلب وغیرہ۔پروجیریا میں مبتلا بچے عام طورپر فالج یا حملہ قلب سے انتقال کر جاتے ہیں۔
ایک برطانوی بچی بھی پروجیریا کی زد میں آگئی تھی۔۲ اپریل ۵۱۰۲ کو اس کا انتقال ہو گیا۔اس بچی کا جسم جھریوں سے پْر اور انتہائی ونزار کسی ۰۰۱ سالہ بوڑھی عورت کے جسم کی طرح ہوگیا تھا۔
اگر آپ کو اپنے بچے میں کچھ تبدیلیاں نظر آئیں اور وہ پروجیریا سے ملتی جلتی ہوں تو کسی ماہرامراض سے فوری رابطہ کر کے بچے کا مکمل چیک اپ کروائیں۔معالج بچے کا جسمانی معائنہ کرے گا۔بصارت اور سماعت کے ٹیسٹ بھی کیے جائیں گے۔بچے کی نبض اور بلڈ پریشر چیک کرے گا۔اس کے علاوہ آپ کے بچے کے وزن اور قد کا اسی عمر کے بچوں کے وزن اور قد سے موازنہ کرے گا۔اگر معالج کو بچے میں کچھ ایسی علامتیں نظر آئیں،جو پروجیریا کے مرض کے مرض کو ظاہر کرتی ہیں تو وہ آپ کو فوراََ ہدایت کرے گا کہ آپ بچے کو ماہر جینیات کے پاس لے جائیں،تاکہ وہ خون کے ٹیسٹ سے پروجیریا کے مرض کی حتمی تشخیص اور تصدیق کرسکے۔
پروجیریا کا کوئی خاص علاج موجود نہیں ہے۔سائنس داں اس کے مؤثر علاج کے لیے شب وروز تحقیق کر رہے ہیں۔ماہر جینیات سرطان میں دی جانے والی دوا تجویز کرتا ہے،یہ دوا اس امید پر دی جاتی ہے کہ ممکن ہے یہ تباہ شدہ خلیات کو فعال کرسکے۔اس علاج سے مریض کو آرام ملتا ہے اور مرض کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔اس کے علاوہ ماہر بچے کا کولیسٹرول کم کرنے اور خون میں تھکے بننے سے روکنے والی ادویہ بھی تجویز کرسکتا ہے۔حملۂ قلب اور فالج سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسپرین کی معمولی مقدار بھی روزانہ کھلانے کا مشورہ سے سکتا ہے۔متاثرہ بچے یا بچی کا قد اور وزن بڑھانے کے لیے خاص قسم کا ہارمون بھی ادویہ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔جوڑوں کی سختی دْور کرنے کے لیے فزیوتھراپی بھی کرائی جا سکتی ہے۔غرض کہ ماہرِ جینیات جو مناسب سمجھے گا،اسی کی ہدایت کرے گا۔
دل کی بیماری سے چھٹکارا دلانے کے لیے ماہر قلب بعض بچوں کے لیے اکلیلی آپریشن یا انجیو پلاسٹی بھی تجویز کر سکتا ہے۔پروجیریا میں مبتلا بچے گرمی کے موسم میں پانی کی کمی کا بھی شکار ہوجاتے ہیں،اس لیے انہیں پانی زیادہ پلانا چاہیے۔معالج کی اجازت سے دن بھر میں انھیں تھوڑی تھوڑی مقدار میں ہلکی پھلکی غذائیں بھی کھلانی چاہییں،تاکہ ان میں توانائی برقرار رہے۔انھیں آرام دہ جوتے پہنائے جائیں،تاکہ وہ گھر میں دوسرے بچوں کے ساتھ بہ آسانی کھیل کود سکیں۔اس طرح وہ فعال رہیں گے۔ایسے بچوں سے پیارومحبت کا برتاؤ کر نا چاہیے،تاکہ وہ اس احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔
اس مرض پر تحقیق کی جارہی ہے۔ابھی تک اس کے خاتمے کاکوئی مؤثر علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔اس کے باوجود کسی بھی مرحلے پر اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔شفا دینا اس کا کام ہے اور علاج کرانا ہماری ذمے داری ہے۔اس بیماری کا علاج ضرور کرانا چاہیے اور امید کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔انشاء4 اللہ ایک نہ ایک دن پروجیریا کا بھی شافی علاج دریافت ہوجائے گا۔

About the author

Taasir Newspaper