اردو | हिन्दी | English
119 Views
Indian

دارجلنگ :جی جے ایم۔پولیس کے درمیان جھڑپ، فوج تعینات

darjeeling
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی /دارجلنگ، 8جون (ایجنسی)۔ مغربی بنگال میں جمعرات کو گورکھا جن مکتی مورچہ (جی جے ایم) کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہوئی جھڑپوں نے پرتشدد شکل لے لیا۔ مظاہرین نے کچھ گاڑیوں میں آگ بھی لگا دی. بعد میں صورت حال سے نمٹنے کے لئے فوج کی دو ٹکڑیاں تعینات کی گئیں. وہیں وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا کہ جی جے ایم کے پاس کوئی مدا نہیں ہے. وہیں جی جے ایم نے ترنمول کانگریس پر اپنی پھوٹ ڈالو راج کرو کی پالیسی کے تحت دارجلنگ کے امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کا الزام لگایا. جی جے ایم نے 9 جون کو 12 گھنٹے کے بند کا اعلان کیا ہے. وزیر اعلی ممتا بنرجی کی کولکاتہ سے باہر دارجلنگ میں پہلی کابینہ میٹنگ کے دوران ہوئے اس جھڑپ میں ایک پولیس سب انسپکٹر سمیت 10 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے. پرتشدد مظاہرین نے پولیس کے چار گاڑیوں میں آگ بھی لگا دی. فوج کے ذرائع نے دہلی میں بتایا کہ ریاستی حکومت نے صورت حال سے نمٹنے کے لئے فوج بھیجنے کی درخواست کی تھی اس کے بعد وہاں فوج کی دو ٹکڑیاں بھیجی گئی ہیں. قابل ذکر ہے کہ سینکڑوں جی جے ایم کے کارکنوں نے پولیس بیریکیڈ توڑ کر جائے میٹنگ راج محل کی جانب بڑھنے کی کوشش کی. پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا. مظاہرین کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا. بعد میں مشتعل مظاہرین پر پولیس کو آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے.۔مظاہرین اسکولوں میں بنگلہ زبان لاگو کئے جانے کی مخالفت سمیت کئی مسائل کو لے کر مظاہرہ کر رہے تھے. وزیر اعلی ممتا بنرجی نے جی جے ایم کی کارکردگی پر کہا، ان کے پاس جمہوری مدا نہیں ہے. انہیں ایسا کرنے دیجئے. ان کے پاس کوئی مدا نہیں ہے. ترقی کے لئے مقابلہ ہونے دیجئے. جی جے ایم جنرل سکریٹری روشن گری نے کہا، ٹی ایم سی منظم انداز میں پولیس اور اپنے غنڈوں کا استعمال کر پہاڑوں پر امن میں خلل ڈال رہی ہے.

About the author

Taasir Newspaper