اردو | हिन्दी | English
164 Views
Indian

ریلوے ملک کا سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثہ : سریش پربھو

8psi13
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 8 جون.(پی ایس آئی)وزیر ریل سریش پربھاکر پربھو نے آج یہاں پہلی بھارتی ریلوے فروغ انسانی وسائل گول میز کانفرنس کا افتتاح کیا۔ ریلوے بورڈ کے چیئرمین اے کے متل، عملے کے رکن جناب پردیپ کمار، ریلوے بورڈ کے دیگر ممبران اور سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔اس موقع پر ریلوے کے وزیر سریش پربھاکر پربھو نے کہا کہ ریلوے ایک بڑی تنظیم ہے اور ہر بڑی تنظیم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بنیادی امور/ معاملوں پر دوبارہ غور کرے، خود احتسابی کرے اور مقابلہ جاتی، محرک اور موثر تبدیلی لائے۔ تنظیم کے ممبران کو اس کی کمیوں کو محسوس کرنا چاہیے۔ ریلوے ایک پیچیدہ تنظیم ہے۔ اسے کئی طرح کے کردار جیسے سماجی کردار، کاروباری رول ادا کرنے ہوتیہیں اور لوگوں کی امیدوں پر کھرا ترنا ہوتا ہے جو متنازعہ اور منفرد ہیں۔اس کے علاوہ اسے ملک کے لئے ایک اور رول قومی ٹرانسپورٹر کا رول بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ ریلوے ملک کا سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔ اقتصادی اور سماجی پہلوؤں کے لحاظ سے بھی یہ اہم ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تنظیم کو مسلسل اپنے مقاصد کے لئے ہمیشہ نظرثانی کرنی چاہیے اور لوگوں کی ضرورتوں کا بندوبست کرنا چاہیے۔ ریلوے کی ترقی کے لئے تنظیم کے لوگوں کو چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لائق بننا چاہیے۔ ریلوے کو کارپوریٹ مقاصد کی واضح تعریف کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے ایک منظم ڈھانچہ کھڑا کرنا چاہیے اور پھر اسے تنظیم کے لئے صحیح لوگوں کو جگہ دینا چاہیے۔ تبدیلی کی شروعات سب سے پہلے اوپری سطح سے ہونی چاہیے تاکہ یہ لوگوں کو واضح ہوجائے۔ ریلوے کو ایک تنظیم کی حیثیت سے بڑے کارپوریٹ مقاصد پر کھرا اترنا چاہیے جبکہ کارپوریٹ مقاصد معاشرے کی ترجیحات پر مبنی ہونے چاہئیں۔کام اور توجہ ڈویڑنل سطح پر ہونی چاہیے، ریلوے ڈیویڑنز کاروباری اکائیوں کی حیثیت سے تبدیلی کا مرکزی نقطہ (پوائنٹ) ہونا چاہیے۔ریلوے بورڈ کے چیئرمین جناب اے کے متل نے اس موقع پر کہا کہ دیگر تمام تنظیموں میں ملازمین پر لاگت تقریباً 30 فیصد ہے جبکہ بھارتی ریلوے میں عملی لاگت (آپریشنل کوسٹ) 60 فیصد ہے۔ اس وقت کی اہم ضرورت آمدنی کو بڑھانا ہے تاکہ ملازمین پر لاگت کو کم کیا جاسکے اور یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہر ایک ملازم کی صلاحیت، اہلیت اور آؤٹ پْٹ میں سدھار ہوگا۔

About the author

Taasir Newspaper