اردو | हिन्दी | English
131 Views
Bihar News

نوجوانوں پر ہی ملک کے مستقبل کا انحصار

PATNA GIYAN BHVAN MEIN PATLIPUTRA RASHTRIYA YUVA SANSAD SAMAROH KA UDGHATAN KERTE C M NITISH KUMAR
Written by Taasir Newspaper

پٹنہ، 10 جون (تاثیربیورو) :وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ کوئی بہاری ہی ملک کا اگلا وزیراعظم بنے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی نیڈ(ضرورت) کو توپورا کیا جاسکتا ہے مگر کسی کی گریڈ(ہوس) نہیں پورا کیا جاسکتا۔ وزیراعلیٰ سنیچر کو یہاں سمراٹ اشوک کنونشن سینٹر میں منعقد نیشنل یوتھ پارلیمنٹ سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں کہا کہ بہار میں سیاسی بحث تو خوب ہوتی ہے لوگ سیاست میں دلچسپی بھی خوب لیتے ہیں، چائے کی دکان سے لے کر گاؤں کی چوپال تک۔ ہر آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔لیکن کوئی سماجی مہم نہیں چلتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی سماجی مہم کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ سماج کی سونچ بدلی جائے۔ شراب بندی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا لیکن اس میں ہمیں کامیابی اس لئے مل رہی ہے کیونکہ اس میں ہمیں عوام کا تعاون حاصل ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف قانون بنادینے سے کام نہیں چلے گا اس میں عوامی حمایت اور شراکت ضروری ہے اور اس کیلئے نوجوانوں کوآگے آنا پڑے گا۔ نوجوانوں پر ہی ملک کے مستقبل کاانحصار ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہندوستان میں نوجوانوں کی آبادی دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور ملک کے اندر سب سے زیادہ نوجوان بہار میں ہیں۔ یہ بات اپنے آپ میں کافی اہم ہے کہ آج اس پاٹلی پترا نیشنل یوتھ پارلیمنٹ میں نوجوانوں کی طرف سے مختلف سماجی مسائل پر بات چیت کیلئے جمع ہوئے ہیں۔وزیر اعلی نے مگدھ سلطنت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مگدھ سلطنت کی توسیع کو دیکھیں تو وہ آج کے ہندوستان سے بڑا علاقہ تھا، جس کی راجدھانی پاٹلی پترا تھی. بہار تعلیم کا بھی مرکز تھا. نالندہ، بکرم شیلا، اودنت پوری یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ تیلھارا یونیورسٹی بھی یہیں تھیں۔وزیراعلیٰ نے جنگ آزادی میں بہار کی شراکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سال 1857 میں ویر کنور سنگھ کی شراکت کو دیکھیں، اسی طرح بابائے قوم مہاتما گاندھی کا چمپارن ستیہ گرہ میں بھی اہم کردار تھا۔چمپارن ستیہ گرہ سے نہ صرف کسانوں کے اوپر ہو رہے مظالم کو ختم کرنے میں کامیابی ملی بلکہ ستیہ گرہ کے بعد آزادی کی لڑائی میں عام لوگ شامل ہوئے اور یہ ایک بڑی تحریک میں تبدیل ہو گئی تھی. چمپارن ستیہ گرہ کے 30 سال کے اندر ہی ملک کو آزادی مل گئی تھی. وزیر اعلی نے کہا کہ چمپارن میں گاندھی جی نے نہ صرف سیاسی مہم چلائی تھی بلکہ سماجی تحریک کی بھی شروعات کی تھی. چمپارن ستیہ گرہ کے ساتھ ساتھ بابائے قوم نے صحت، تعلیم، حفظان صحت، امتیازی سلوک سے نجات وغیرہ کے لئے بھی کام شروع کیا تھا. انہوں نے جے پی کے مکمل انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جے پی کی قیادت میں ایک بڑی تبدیلی آئی اور لاکھوں لوگ جیل گئے . مرکز میں پہلی بار غیر کانگریسی حکومت بنی۔

About the author

Taasir Newspaper