اردو | हिन्दी | English
247 Views
Science

پھونک مار کر غبارے کو پھلانے سے امراض کا پتہ لگانا ممکن

antibiotic_stress_test
Written by Taasir Newspaper

میڈیکل سائنس کی ترقی کے باعث کئی امراض کا پتہ لگانا یا ان کا ٹیسٹ کرنا نہایت ہی آسان ہوچکا ہے۔ اس وقت جہاں گھر بیٹھے ہی موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے بھی مختلف بیماریوں کا پتہ لگایا جاسکتا ہے، وہیں کچھ عام طریقوں سے بھی بیماریوں کا پتہ لگانا ممکن ہے۔ اسی طرح اب کسی بھی شخص کی جانب سے محض غبارے کو پھونک کر اس میں ہوا بھرنے کے عمل سے خطرناک ترین امراض میں سے ایک دل کی بیماری کا پتہ لگانا ممکن بن چکا ہے۔ سائنس جرنل میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کلیویلینڈ کے ریسپائریٹری انسٹی ٹیوٹ آف کیلیویلینڈ کلینک کے ماہرین نے دل کے امراض کا پتہ چلانے کے لیے ایک ایسا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے، جو دیگر طریقوں کے مقابلے سستا، آسان اور جلد پتہ لگانے کا طریقہ ہے۔ اس طریقے کے تحت مریض کو ایک غبارہ دیا جاتا ہے، جس میں وہ صرف 30 سیکنڈز تک ہوا بھرتا ہے، اس غبارے میں ایک میٹر نصب ہوتا ہے، جو مریض کی جانب سے سانس کے پریشر سمیت دورانئیے کو نوٹ کرتا ہے، جب کہ مریض کو ایک ہی سانس میں 30 سیکنڈ کا دورانیہ مکمل کرنا ہوتا ہے۔ بعد ازاں ماہرین اس غبارے میں بھری گئی ہوا کا وژوئل پرنٹ نکالتے ہیں، جس کے ذریعے دل کے امراض کی نشاندہی کی جاتی ہے، یہ بلکل ایسے ہی ہے، جیسے ایکسرے کو دیکھ کر کسی بھی بیماری اور انفیکشن کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے اس عمل کو ’بریتھ پرنٹ‘ کا نام دیا ہے، جسے کلیویلینڈ کلینک میں مریضوں پر آزمایا جا رہا ہے۔ سائنس جرنل کے مطابق ماہرین اس منصوبے پر گزشتہ چند برسوں سے کام کر رہے تھے، تاہم اب وہ اسے ابتدائی شکل دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں اس ٹیسٹ کو دل کے امراض کا پتہ لگانے کا سب سے مستند ٹیسٹ مانے جانے کا امکان ہے، تاہم ابھی اس پر مزید کام ہونا باقی ہے۔ ممکنہ طور پر اس عمل کے ذریعے دل کی بیماریوں سمیت دیگر بیماریوں کا ٹیسٹ بھی کیا جاسکے گا۔ خیال رہے کہ اس وقت دل سے متعلق بیماریوں کا پتہ لگانے کے لیے کوئی ایک مخصوص طریقہ نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جن میں خون، پیشاب، دباؤ، ایکسرے اور ایکوکارڈیوگرامز جیسے ٹیسٹ شامل ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper