اردو | हिन्दी | English
436 Views
Sports

پہلے میچ میں ٹیم انڈیا کے سامنے پاکستانی چیلنج

Facebook-profile-picture-to-support-Indian-team
Written by Tariq Hasan

برمنگھم، 3 جون (یو این آئی) کپتان وراٹ کوہلی اور کوچ انل کمبلے کے تنازعہ میں الجھی ٹیم انڈیا اتوار کو جب، دیرینہ حریف پاکستان کے خلاف آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے ‘عظیم مقابلے ‘ میں اپنے خطاب کا دفاع کرنے کے آغازکرنے کی غرض سے اترے گی تو اس کے سامنے اندرونی جنگ کے ساتھ ساتھ پاکستان کا سخت چیلنج بھی ہوگا۔ ہندستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے گروپ بی کے اس ھائی وولٹیج مقابلے پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں ۔ اس مقابلہ کے لئے پہلے ہی ھا¶س فل کا اعلان ہو چکا ہے ۔ سابق چمپئن ہندستان کو اس مقابلے میں اس کی حالیہ کارکردگی کی وجہ سے جیت کا دعویدار مانا جا رہا ہے لیکن ٹورنامنٹ سے عین قبل ،وراٹ اور کمبلے کے درمیان تنازعہ نے ہندوستانی مداحوں کے ماتھے پر تشویش ظاہرکردی ہے ۔ کچھ وقت پہلے تک ٹیم انڈیا میں سب کچھ معمول پر تھا۔ہندستانی ٹیم نے گھریلو میدانوں میں ایک کے بعد ایک ٹیسٹ سیریز بھی جیتی تھی۔ اس کے بعد ڈیڑھ ماہ تک آئی پی ایل کادسواںسیشن بھی بڑے خوشگوار انداز میں گزر گیا لیکن چیمپئنز ٹرافی آتے آتے ٹیم انڈیا میں جیسے ایک دھماکہ ہوگیا۔ کپتان وراٹ کوہلی نے کمبلے کو ‘ہیڈ ماسٹر’ قرار دیا ہے اور ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے نئے کوچ کے لیے درخواست وصول کر کے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ ٹیم انڈیا میں سب کچھ پہلے جیسا نہیں ہے ۔
کمبلے کی معیاد چیمپئنز ٹرافی ختم ہونے کے بعد ختم ہو جائے گی، لیکن ایک ٹیم کے لحاظ سے ہندوستانی ٹیم کے لئے موجودہ تنازعہ اچھی علامت نہیں ہے ۔ ہندستان نے چیمپئنز ٹرافی سے پہلے اپنے دو پریکٹس میچوں میں نیوزی لینڈ کو 45 رنوں سے اور بنگلہ دیش کو 240 رنوں سے شکست دے کر یہ تو ظاہر کردیا تھا کہ اس کی تیاریاں مضبوط ہیں لیکن جب بات اہم ٹورنامنٹ کی ہو اور سامنے پاکستان جیسا پراناحریف ہو، تو ڈریسنگ روم کا ماحول پرسکون اور خوشگوار ہونا چاہیے تاکہ کھلاڑی بغیر کسی دبا¶ کے اپنی بہترین کارکردگی پیش کرسکیں۔ پریکٹس میچوں کے دوران وراٹ نے اور اس کے بعد ڈنر کیلئے جاتے ہوئے کھلاڑیوں نے خود کو خوشگوار ماحول میں رکھا ہے لیکن وراٹ اور کمبلے کے درمیان تلخیاں دیکھی گئیں ایک وقت جب کمبلے میدان پر آئے تو وراٹ وہاں سے چلے گئے ۔ ایسا ماحول ٹیم کے لئے مہلک ثابت ہو سکتا ہے ۔ ہندوستانی ٹیم کے گروپ میں جنوبی افریقہ اور سری لنکا جیسی مضبوط ٹیمیں ہیں لیکن اگر شروعات خراب رہی تو پھر ہندستان کے لئے کھیل میں واپسی کرنا کافی مشکل ہو جائے گا۔ ہندستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ تعلقات طویل عرصے سے منقطع ہیں اور پاکستانی ٹیم ہندستان کو چیلنج دینے کے لئے بیتاب ہے ۔ چیمپئنز ٹرافی میں ہار جیت کے ریکارڈ میں پاکستان فی الحال بہتر ہے ۔ اس کا ہندستان کے خلاف 1-2 کا ریکارڈ ہے ۔ اگرچہ انگلینڈ میں ہوئی پچھلی چیمپئنز ٹرافی میں ہندستان نے انگلینڈ میں ہی پاکستان کو شکست دی تھی۔ ہندستان نے جہاں اپنے دونوں پریکٹس میچ جیتے تھے وہیں پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف 341 رن کا بڑا اسکور کامیابی سے عبور کر لیا تھا۔ پاکستان کا آسٹریلیا کے خلاف پریکٹس میچ بارش کی وجہ سے منسوخ رہا تھا ۔
ہندستان کے لیے کوچ اور کپتان کی لڑائی کے علاوہ ایک بڑی تشویش اس کی سلامی بلے باز جوڑی ہے ۔ شکھر دھون نے تو فارم میں واپسی کر لی ہے لیکن ایک پریکٹس میچ کھیلنے والے روہت شرما صرف جدوجہد ہی کررہے ہیں۔ روہت کی آئی پی ایل میں بھی کارکردگی کوئی بہت اچھی نہیں رہی تھی۔ پاکستان کے تیز گیند بازوں کے سامنے ہندستان کو اچھی شروعات دینے کی ضرورت ہے ۔ انگلینڈ کے وکٹوں پر اب تک بڑے اسکور دیکھنے کو مل رہے ہیں اور ایک اچھا آغاز ہی ہندستان کو بڑے اسکور تک پہنچا سکتا ہے ۔ کپتان وراٹ اچھی فارم میں ہیں لیکن اجنکیا رہانے اور کیدار جادھو کو موقع ملنے پر ان کی کارکردگی دیکھنے کو ملے گی۔ آل را¶نڈر یوراج سنگھ بخار کی وجہ سے دونوں پریکٹس میچوں میں نہیں کھیل پائے تھے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ وہ اس وقت فٹ ہیں اور انہوں نے نیٹ سیشن میں حصہ لیا ہے ۔ آخری وقت میں چیمپئنز ٹرافی کا حصہ بنے وکٹ کیپر بلے باز دنیش کارتک نے پریکٹس میچ میں بنگلہ دیش کے خلاف 94 رنوں کی شاندار اننگز کھیل کر آخری گیارہ کھلاڑیوں کیلئے اپنی دعویداری مضبوط کرلی۔ہاردک پانڈیا نے بھی ناقابل شکست 80 رن بنا کر آل را¶نڈر کے طور پر اپنی جگہ مضبوط کر لی ہے ۔ ہندستان کا اس وقت سب سے مضبوط شعبہ اس کی تیز گیند بازی دکھائی دے رہی ہے جس نے دونوں پریکٹس میچوں میں نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کو شکست دی۔ آئی پی ایل میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بھونیشور کمار زبردست فارم میں ہیں۔ محمد سمیع اور امیش یادو کی گیندیں بھی آگ اگل رہی ہیں۔ جسپریت بمراہ نے اپنی یارکر سے بلے بازوں کو پریشان کیا ہے ۔ ہاردک پانڈیا تیز گیند باز آل را¶نڈر کی حیثیت سے اپنی افادیت ثابت کر چکے ہیں۔ ہندستانی ٹیم مینجمنٹ کے سامنے ایک بڑا سوال رہے گا کہ بھونیشور، امیش یادو، محمد سمیع، بمراہ اور پانڈیا میں سے کن چار تیز گیند بازوں کے ساتھ میدان پر اترے ۔ دو اسپنروں کے لئے آل را¶نڈر اور لیفٹ آرم اسپنر رویندر جڈیجہ اور آف اسپنر روی چندرن اشون کی دعویداری بھی پختہ ہے ۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ہندوستانی گیند باز وں کی پروفائل کیسی رہتی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کے پاس محمد حفیظ، شعیب ملک اور کپتان سرفراز احمد کے طور پر تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔ ہندستان کو خاص طور پر فہیم اشرف سے محتاط رہنا ہوگا جو بڑے شاٹ کھیلنے میں استاد مانے جا رہے ہیں۔ اشرف نے بنگلہ دیش کے خلاف محض 30 گیندوں میں چار چوکے اور چار چھکے لگاتے ہوئے ناقابل شکست 64 رن بنائے تھے ۔
پاکستان کی بولنگ میں فاسٹ بولر وہاب ریاض سب سے زیادہ تجربہ کار ہیں جبکہ جنید خان نے بنگلہ دیش کے خلاف چار وکٹ حاصل کئے تھے ۔ ہندستان کے زیادہ تر کھلاڑیوں نے کئی پاکستانی کھلاڑیوں کا سامنا نہیں کیا ہے لیکن ٹیم مینجمنٹ نے دوسرے پریکٹس میچ کے بعد ملے تین چار دن میں پاکستانی بولنگ کا مکمل تجزیہ کر لیا ہوگا۔ اس عظیم مقابلے میں ایک بار پھر دونوں ممالک میں جذبات کی لہر عروج پر ہوگی۔ دونوں ملک 2015 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں اور 2016 کے ٹوئنٹی -20 ورلڈ کپ میں آمنے سامنے ہوئے تھے ۔ہندستان نے گزشتہ یہ دونوں مقابلے جیتے تھے . موجودہ کپتان وراٹ نے آسٹریلیا میں ہوئے ون ڈے ورلڈ کپ میں میچ فاتح سنچری لگائی تھی۔ وراٹ پاکستان کے خلاف ایک بار پھر میچ فاتح اننگز کھیل کر ٹیم کو شاندار شروعات دینا چاہتے ہیں لیکن اس کے پہلے ٹیم انڈیا کو ڈریسنگ روم کا ماحول اور کوچ-کپتان کا تنازعہ پرسکون رکھیں گے تاکہ تمام کھلاڑی اپنی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔

About the author

Tariq Hasan