اردو | हिन्दी | English
294 Views
Indian

کسان تحریک کے دوران مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج بھوک ہڑتال پر

shivraj4
Written by Taasir Newspaper

بھوپال، 10 جون (یو این آئی) گزشتہ 10 دنوں سے مدھیہ پردیش میں جاری کسان تحریک کے دوران آج ریاست کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے راجدھانی بھوپال کے بھیل دسہرہ میدان پر امن بحال کرنے کیلئے غیرمعینہ بھوک ہڑتال شروع کردی ہے ۔اس سے قبل انہوں نے اپنے بیان میں بھوک ہڑتال کے جواز کے بارے میں کہاکہ یہ پوری ریاست میں امن بحالی کے لئے ہے اور یہ دھرنا۔ مظاہرہ یا تحریک بالکل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وہ یہیں سے پورا سرکاری کام کاج نمٹائیں گے اور کسانوں کے نمائندوں سے بھی بات چیت کریں گے ۔ریاست میں حال ہی میں کسان تحریک کے دوران ہوئے پرتشدد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کچھ مٹھی بھر لوگوں نے اس طرح کے واقعات کو انجام دیاہے ۔ وہ امن بحال ہونے پر ہی یہاں سے اٹھیں گے اور اس دوران ‘راج دھرم’ پر بھی عمل کیا جائے گا۔کبھی جذباتی اور کبھی سنجیدہ انداز میں اپنے خطاب میں وزیر اعلی مسٹر چوہان نے کہاکہ تحریک شروع ہوئی تو ہم پہلے دن سے بات چیت کی اپیل کر رہے ہیں، تحریک تب جائز ہے ، جب کوئی بات نہ کرے ، لیکن میں (وزیر اعلی شیوراج) تو شروع سے ہی بات کر رہا ہے ۔انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ ماحول بنایا گیا، افواہیں پھیلائی گئیں، کسانوں کو بھڑکانے کا کام کیا گیا اور اس دوران میرا ایک ویڈیو بھی وائرل کیا گیا جسمیں میں یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہا ہوں کہ میں کسانوں کو ایک ڈھیلا بھی نہیں دوں گا، جبکہ ایک چینل نے بتا دیا کہ یہ پرانا ویڈیا ہے جو ایک پرانی تحریک کے دوران کا تھا۔ ٹی وی کے ذریعہ سے سچائی سامنے آئی کہ یہ اس تحریک کے سلسلے میں نہیں تھا۔ کسانوں کیلئے تو میں اپنی جان بھی دے سکتا ہوں۔انہوں نے جذباتی ہوتے ہوئے کہاکہ اس پرامن ریاست کو شورش زدہ بنانے کی کوشش کی گئی، بچوں کے ہاتھوں میں پتھر دے دیئے گئے ، عورتیں اور بچے چیخ رہے تھے ، لیکن بسوں سے لوگوں کو اُتار کر گاڑیوں میں آگ لگا دی گئیں۔ گاڑیوں کو زبردستی روک۔ روک کر دودھ اور سبزیاں پھینکی گئیں، وہ بھی دوسروں کی، اپنی نہیں۔ ایمبولنس اور بسیں جلا دی گئیں۔ ایسی تحریک کو کون جائز ٹھہرائے گا۔ مہذب سماج میں کیا اسے تسلیم کیا جاسکتا ہے ، میں یہ سب برداشت نہیں کرسکتا تھا۔مسٹر چوہان نے کسی کا نام نہ لیتے ہوئے کہاکہ میں کسی کی تنقید نہیں کرتا،لیکن تھانہ میں آگ لگا دو، پولیس کی گاڑی جلا دو، اس طرح کا طریقہ درست ہے کیا؟ انہوں نے کہاکہ کیا ضرورت تھی، اس صورتحال تک جانے کی۔ واقعہ کے پیچھے کون لوگ ہیں، اس کا انکشاف ہونا چاہئے ، اس سے کس کو فائدہ ہوگا۔گزشتہ کئی دنوں سے جاری تحریک کے دوران کانگریس کے کئی لیڈروں کے اس طرح کے ویڈیو وائرل ہوئے ہیں، جن میں وہ مبینہ طور پر تھانہ جلانے اور گاڑی جلانے کے لئے لوگوں کو مشتعل کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔مندسور میں پرتشدد مظاہرہ کے دوران پولیس کی فائرنگ میں چھ کسان مظاہرین کی موت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی مسٹر چوہان نے کہاکہ اس واقعہ سے انہیں بہت تکلیف پہنچی ہے۔ ، انہیں واپس نہیں لایا جاسکتا، لیکن پوری ریاست ان کے ساتھ ہے ۔مسٹر چوہان نے کہاکہ ‘پولیس مجرموں کیلئے ہے ، ایسا نہیں ہوسکتا کہ شیوراج پولیس کے ڈنڈے لوگوں پر چلوائے ‘۔انہوں نے سبھوں سے ریاست میں امن بحال کرنے کی جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ پولیس اور عوام آمنے سامنے ہو،یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ مدھیہ پردیش کی سرزمین پر پتھر نہ چلیں، اس کیلئے مہاتما گاندھی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے میں خود کو تکلیف دے کر یہاں بیٹھوں گا۔ وزیر اعلی صرف ظالم حکمراں۔حکمراں نہیں ہوسکتا، میں محبت کا پیغام لے کر یہاں بیٹھا ہوں، آئے بات کیجئے ۔وزیر اعلی نے شرپسندوں کو بالواسطہ طور پر پیغام دیتے ہوئے کہاکہ قانون و انتظام برقرار رکھنے کیلئے پولیس سب کچھ کرے گی، پھر بھی میں قانون کو ہاتھ میں لینے والے مٹھی بھر لوگوں سے کہوں گا کہ وہ اس راستے کو چھوڑ دیں۔اپوزیشن پارٹیوں میں سے کسی کا بھی نام لئے بغیر انہوں نے کہاکہ جن کے پاس حکومت نہیں ہے ، میں ان سے بھی کہوں گا کہ جمہوریت میں غیرجمہوری راستہ مت اختیار مت کیجئے ۔ حکومتیں آتی جاتی رہیں گی، لیکن ریاست کے امن میں آگ نہ لگائیں۔

About the author

Taasir Newspaper