اردو | हिन्दी | English
308 Views
Indian

گورنربہار این ڈی اے کے صدارتی امیدوار

kovind.jpg2.jpg3
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 19 جون (یو این آئی)بہار کے گورنر رام ناتھ کووند قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کے صدارتی امیدوار ہوں گے ۔یہ اعلان بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر امت شاہ نے آج یہاں پارٹی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس میں کی۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بارے میں این ڈی اے کے تمام ساتھیوں کو اطلاع دے دی گئی ہے ۔انھوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودي نے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بھی امیدوار کے نام سے آگاہ کر دیا ہے ۔مسٹر شاہ نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر کووند کو الیکشن میں تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں بی جے پی اور این ڈی اے نے مختلف جماعتوں کے ساتھ صدارتی امیدوار کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا۔ اس سے سامنے آئے خیالات کی بنیاد پر آج پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں طویل فہرست پر غور وخوض کیا گیا اور آخر میں بہار کے گورنر رام ناتھ کووندکا نام طے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مسٹر کووند کا تعلق درج فہرست ذات سے ہے اور 12 سال تک راجیہ سبھا کے رکن رہے ہیں۔ وہ بی جے پی درج فہرست ذات سیل کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں وکالت بھی کر چکے ہیں۔بی جے پی صدر نے کہا کہ نامزدگی داخل کرنے کی تاریخ مسٹر کووند سے بات چیت کر نے کے بعدطے کی جائے گی لیکن امکان ہے کہ 23 جون کو کاغذات نامزدگی داخل کر دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے گورنر رام ناتھ کووند کو صدر جمہوریہ کا امیدوار بنائے جانے کی خبر ملنے کے بعد راج بھون جاکر ان سے ملاقات کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ بعد میں راج بھون کے باہر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حمایت دینے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی۔ لیکن گورنر نے بہار کیلئے بہت اچھا کام کیا ہے اور ریاستی حکومت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے ہیں۔ بطور گورنر ان کی مدت کار غیر متنازع رہی ہے۔ اس لئے میرے لئے یہ ذاتی طور پر فخر کی بات ہے کہ گورنر کو ملک کے صدر جمہوریہ بننے کا اعزاز حاصل ہورہا ہے اور میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں ان کو وہ عزت دوں جس کے وہ مستحق ہیں۔ اس لئے میں مبارکباد دینے آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حمایت کے سلسلے میں ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔ اتحاد کی سبھی پارٹیوں اور ان کے رہنماؤں سے بات چیت کے بعد اس سلسلے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

About the author

Taasir Newspaper