اردو | हिन्दी | English
202 Views
Business

66اشیاء کی جی ایس ٹی شرح میں کمی

gst
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 11 جون (یواین آئی) اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل نے مختلف اشیاء کی طے شدہ جی ایس ٹی کی شرح کے خلاف ہو رہے احتجاج کے پیش نظر 66 اشیاء کی شرح میں کمی کر دی ہے جس سے اب یہ مصنوعات سستی ہو جائیں گی۔وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی صدارت میں آج یہاں ہوئی کونسل کی 16 ویں میٹنگ میں یہ فیصلے کئے گئے ۔ پچھلی دو میٹنگوں میں اشیاء اور خدمات کے لئے جی ایس ٹی کی شرح طے کی گئی تھی۔ اس کے بعد صنعتی اور کاروباری تنظیموں نے کچھ اشیاء کی جی ایس ٹی کی شرح کی مخالفت کرتے ہوئے میمورینڈم پیش کئے تھے ۔میٹنگ کے بعد مسٹر جیٹلی نے صحافیوں سے کہا کہ 133 اشیاء کی جی ایس ٹی کی شرح کے تعلق سے میمورینڈم موصول ہوئے تھے ۔ جی ایس ٹی کونسل نے 66 اشیاء کی جی ایس ٹی کی شرح میں کمی کر دی ہے ۔ سینیٹری رومال پر جی ایس ٹی کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ۔ اب ایک سو روپے تک سنیما ٹکٹ پر 18 فیصد ٹیکس لگے گا جبکہ پہلے سبھی سنیما ٹکٹ پر 28 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا تھا۔ اب 100 روپے سے زیادہ کے ٹکٹ پر ہی 28 فیصد ٹیکس لگے گا۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح سے کاجو، انسولین اور اگربتی پر پہلے 12 فیصد جی ایس ٹی کی شرح طے کی گئی تھی جسے اب کم کر کے پانچ فیصد کر دیا گیا ہے ۔ کمپیوٹر پرنٹر، ڈینٹل ویکس، اسکول بیگ، پلاسٹک تارپولن، پلاسٹک بیڈس، کنکریٹ کے پائپ اور ٹریکٹر کے سازوسامان کی جی ایس ٹی کی شرح کو 28 سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کاپیاں، برتن اور ڈبہ بند پھل، سبزیاں، اچار، ٹا پنگس، انسٹینٹ فوڈ اور سوس پر جی ایس ٹی کو 18 سے کم کر 12 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ کلرنگ بک پر جی ایس ٹی کو 12 سے کم کرکے صفر کر دیا گیا ہے ۔مسٹر جیٹلی نے کہا کہ اب 75 لاکھ روپے تک کے کاروباری، مصنوعات ساز اور ریستوراں والے کپوزیشن اسکیم کا فائدہ اٹھا سکیں گے جبکہ پہلے یہ حد 50 لاکھ روپے تھی۔ انہوں نے کہا کہ جن اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرح کم کی گئی ہے اس سے وہ مصنوعات سستی ہو جائیں گی لیکن اس سے سرکاری آمدنی پر اثر پڑے گا۔انہوں نے بتایا کہ جی ایس ٹی کونسل کی اب اگلی میٹنگ 18 جون کو دہلی میں منعقد ہو گی جس میں لاٹری اور ای وے بل پر جی ایس ٹی کی شرح کے تعلق سے بات چیت ہو گی۔واضح ر ہے کہ حکومت یکم جولائی سے جی ایس ٹی کو نافذ کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے اور اسی کے پیش نظر سبھی اشیا اور خدمات کے لئے جی ایس ٹی کی شرحیں طے کی جا رہی ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper