ٹیم انڈیا کے نئے کو چ اور کپتان کا ٹسٹ آج سے

0
18

گالے ، 25 جولائی (یو این آئی) نو منتخب کوچ روی شاستری اور کپتان وراٹ کوہلی کی ٹیم بدھ سے سری لنکا کے خلاف تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز کا آغاز کرنے اترے گی جہاں ان کے سامنے میزبان ٹیم کے خلاف اپنی آخری سیریز کی کارکردگی کو دہرانے کے ساتھ غیر ملکی زمین پر اپنے ریکارڈ کو بہتر بنانے کی بھی ذمہ داری ھوگی۔ہندستان نے آخری بار سال 2015 میں تین ٹسٹ میچوں کی سریز کھیلی تھی جس میں اس نے 2۔1 سے جیت اپنے نام کی تھی۔اگرچہ اس کے بعد سے لے کر اب تک وراٹ اینڈ کمپنی میں کافی بڑی تبدیلی آئی ہیں اور اس وقت وہ یہاں بطور نمبر ون ٹیسٹ ٹیم پہنچی ہے جس نے اپنی گھریلو زمین پر 13 ٹسٹ میچوں میں 10 میں جیت درج کی اور صرف ایک ہارا ہے ۔دو میچ ڈرا رہے ۔سری لنکا زمین پر پچھلی سیریز میں مہندر سنگھ دھونی کے ہاتھوں سے نکل کر کپتانی وراٹ کو ملی تھی اور اس وقت ٹیم کے ساتھ شاستری بطور کوچ نہیں بلکہ ڈائریکٹر کے طور پر منسلک ہوئے تھے ۔لیکن اب تمام مساوات بدل چکے ہیں اور وراٹ تینوں فارمیٹس میں کپتان ہیں اور شاستری کا بطور قومی ٹیم کے چیف کوچ یہ پہلا دورہ بھی ہے ۔ایسے میں کوچ اور کپتان دونوں پر ہی بہتر نتائج کا دبا¶ بھی ہوگا۔28 سالہ تجربہ کار کھلاڑی وراٹ نے بھلے ہی گھریلو ٹیسٹ سیریز میں اچھے نتائج نکالے ہوں لیکن اب بطور ٹیسٹ کپتان ابھی ان پر غیر ملکی زمین پر اچھی کارکردگی کا زیادہ دبا¶ ہے ۔ ہندستان سری لنکا کے دورے پر چمپئنز ٹرافی اور پھر ویسٹ انڈیز کے محدود اوور فارمیٹس میں کھیل کر پہنچا ہے اور اس کے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ فارمیٹ میں خود ڈھالنا ہوگا جبکہ سری لنکا کی ٹیم بھی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے جس نے زمبابوے کے خلاف حال ہی میں سخت محنت کے بعد واحد ٹیسٹ جیتا ہے ۔سری لنکا کے کپتان انجیلو میتھیوز اپنی کپتانی چھوڑ چکے ہیں اور ٹیم کی قیادت دنیش چنڈیمل کو مل گیا ہے ۔لیکن فطری کپتان چنڈیمل اب بھی نمونیا سے ابھر نہیں پائے ہیں جس کی وجہ سے تجربہ کار اسپنر رنگنا ہرات کو کپتانی سونپی گئی ہے ۔وہیں لیفٹ آرم اسپنر ملنڈا پشپ کمارن غیر تجربہ کار کھلاڑی ہیں جنہیں گالے ٹیسٹ میں جگہ ملی ہے ۔ایسے میں میزبان ٹیم کے لیے بھی نمبر ون ٹیم کے خلاف اپنی پوزیشن بہتر بنانے کا موقع ہو گا۔دوسری طرف ہندستانی ٹیم کے لیے سری لنکا دورے کی اچھی شروعات آئندہ دوروں کے لحاظ سے اہم ہو گی جس سے ہندستان کو جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف ان کی زمین پر ٹیسٹ سیریز کھیلنی ہے ۔ہندستانی ٹیم کے لیے 2015 سری لنکا دورے کئی طریقوں میں خاص رہا تھا کیونکہ اس نے بیرون ملک مسلسل سات سیریز ہارنے کے بعد جیت کی پٹری پر قدم رکھا تھا۔اگرچہ سیریز کے پہلے ہی گالے ٹیسٹ میں اسے شکست ملی تھی لیکن اس کے بعد وراٹ نے اپنی کپتانی میں ہندستان کو 2۔1 سے سیریز میں جیت دلائی تھی۔یہ 22 برسوں کے بعد موقع تھا جب ہندستانی ٹیم نے سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز جیتی تھی۔اس کے بعد سے ہی کپتان وراٹ کی قیادت کی صلاحیت ایک مختلف مقام پر پہنچی۔آف اسپنر روی چندرن اشون نے اس بابت کہا کہ جب ہم گالے ٹیسٹ ہار گئے تھے تو کافی مایوس تھے لیکن روی بھائی نے ہمیں جیتنے کے لئے حوصلہ افزاکیا اور وہ ایک بار پھر ہمارے ساتھ ہیں۔خود وراٹ نے بھی 2015 کے دورے کو تاریخی دورہ مانا تھا۔کپتان اور ان کے پسندیدہ کوچ شاستری اور پرانے اسپورٹ عملے کے ساتھ ٹیم انڈیا کو اب اپنی کارکردگی پر توجہ دینا ہو گی۔ اگرچہ میچ سے پہلے ہی اوپنر لوکیش راہل بخار کی وجہ سے گالے ٹیسٹ سے باہر ہو گئے ہیں تو مرلی وجے کلائی کی چوٹ پر قابو پانے کی وجہ سے ٹیم کا حصہ ہی نہیں بن پائے ہیں۔دو ماہر بلے بازوں کی غیر موجودگی میں کپتان وراٹ آخری الیون میں شکھر دھون یا ابھینو مکند کو موقع دے سکتے ہیں۔چمپئنز ٹرافی میں زبردست بلے بازی کرنے والے دھون کو سری لنکا کے ٹیسٹ دورے کے لیے پہلے ٹیم میں ہی موقع نہیں دیا گیا تھا۔لیکن اس بار ان کے پاس خود کو ٹیسٹ میں ثابت کرنے کا موقع رہے گا۔پریکٹس میچ میں وراٹ نے نصف سنچری بنائی تو اجنکیا رہانے ، دھون، وکٹ کیپر بلے باز ردھمان ساہا نے تسلی بخش بیٹنگ کی تھی۔وہیں ویسٹ انڈیز سیریز میں ریسٹ دیئے گئے اوپننگ بلے باز روہت کی فٹنس کا بھی یہ ٹیسٹ ہوگا جنہوں نے پریکٹس میچ میں 38 رن بنائے تھے ۔ اگرچہ محدود اوورز میں روہت بلے سے اچھا کھیل رہے ہیں۔گیند بازوں میں ٹیم کے پاس آف اسپنر روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ اسپن شعبے کے سرکردہ کھلاڑی ہیں جنہوں نے گھریلو ٹیسٹ سیریز میں سب سے زیادہ وکٹ لئے تھے ۔وہیں اپنا 50واں ٹیسٹ کھیلنے جا رہے اشون نے بھی گالے ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی کا بھروسہ دیا ہے ۔اشون نے بورڈ الیون کے خلاف 10 اوورز میں صرف 34 رنز دے کر اچھی گیند بازی کی تھی۔اگرچہ وہ کوئی وکٹ نہیں نکال سکے تھے ۔لیکن جڈیجہ نے تین وکٹ اور کلائی کے بولر چائنامین کلدیپ یادو پر بھی سب کی نگاہیں رہیں گی جو مسلسل اپنی پراسرار گیندوں سے حریف بلے بازوں کو چھکا رہے ہیں اور پریکٹس میچ میں 14 رن پر سب سے زیادہ چار وکٹ لے کر سب سے کامیاب رہے تھے ۔تیز گیند بازی اٹیک میں ٹیم کے پاس محمد سمیع، بھونیشور کمار، امیش یادو اور ایشانت شرما کے علاوہ آل را¶نڈر ہردک پانڈیا بھی ہیں۔