ہم نے اہم لمحوں میں گھبرا کر خطاب گنوادیا:متالی

0
13

لندن، 24 جولائی (یو این آئی) تاریخ رقم کرنے سے محض چند قدم دور رہنے والی ہندوستانی خاتون کرکٹ ٹیم کی کپتان متالی راج نے تسلیم کیا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف میچ میں کھلاڑی آخری لمحات میں کافی گھبرا گئی تھیں اور یہ دبا¶ کا ہی نتیجہ ہے کہ خطاب ان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ہندوستانی خاتون کرکٹ ٹیم نے اتوار کو ختم ہوئے آئی سی سی خواتین ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں حیرت انگیز کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنائی تھی لیکن انگلینڈ کے خلاف خطابی میچ میں بہترین گیند بازی اور متوازن بلے بازی کے باوجود آخری لمحات میں کچھ غلطیوں سے وہ صرف نو رن سے پہلی بار خطاب جیتنے کا موقع گنوا بیٹھی۔ہندوستان نے اس سے قبل صرف ایک بار 2005 میں خواتین ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنائی تھی لیکن تب اسے آسٹریلیا نے شکست دی۔ میچ کے بعد متالی نے کہا کہ ”مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے ۔ ہمارے لیے یہ میچ آسان نہیں تھا لیکن انگلینڈ کو اس جیت کا کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے آخری وقت تک خود کو باندھے رکھا۔ میچ میں ایک وقت ایسا تھا جب ہم متوازن حالت میں تھے لیکن پھر ہم گھبرا گئے اور اسی وجہ سے ہم میچ ہار گئے ”۔35سالہ متالی نے کہا کہ ”مجھے اپنی کھلاڑیوں پر فخر ہے ۔ انہوں نے کسی بھی ٹیم کو آسانی سے میچ جیتنے نہیں دیا۔ ہم نے ٹورنامنٹ میں بہت اچھا کھیل دکھایا۔ ٹیم کی ہر نوجوان کھلاڑی نے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا”۔عالمی کپ میں بلے سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی اور ون ڈے میں دنیا کی سب سے زیادہ رن بنائے والی کپتان نے مستقبل کے بارے میں پوچھنے پر کہا کہ وہ ابھی کچھ سال اور کھیلیں گی لیکن انہوں نے واضح کیا کہ یقینی طور پر وہ اگلے عالمی کپ کا حصہ نہیں ہوں گی۔ ٹیم کی تجربہ کار کھلاڑیوں کپتان متالی اور 34 سالہ گیند باز جھولن گوسوامی کے لیے یہ آخری عالمی کپ تھا جس میں ٹیم جیت کے کافی قریب آکرچوک گئی۔انگلینڈ کو 228 کے اسکور پر روکنے کا کریڈٹ متالی نے گیند باز جھولن کو دیا۔ انہوں نے کہا ”جھولن تجربہ کار بولر ہیں اور جب بھی ٹیم کو ان کی ضرورت ہوتی ہے وہ امیدوں پر کھری اترتی ہیں۔ اگر ہم میچ جیت جاتے تو ان کی کارکردگی میچ فاتح ہوتی”۔ جھولن نے انگلینڈ کی اننگز میں 10 اووروں میں محض 23 رن دے کر سب سے زیادہ تین وکٹ لئے تھے ۔متالی نے لارڈس میں پہنچے والے ہندوستانی مداحوں اور وطن میں ان کے لیے دعا کر رہے شائقین کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”میں ان سبھی لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جو خاتون کرکٹ کا فائنل دیکھنے کے لیے یہاں آئے تھے ۔ ہم خواتین کرکٹروں کے لیے یہ بہت بڑی حوصلہ افزائی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تجربہ مستقبل میں ہم سب کے لئے کافی مددگار ثابت ہوگا اور خواتین کرکٹ کے لئے بھی ہندوستان میں اب لوگوں کا نظریہ بدلے گا”۔