اردو | हिन्दी | English
212 Views
Uttar Pradesh

ایماندار صحافت ہی ملک کو ترقی کی راہ پرلے جاسکتی ہے

IMG-20170826-WA0055
Written by Taasir Newspaper

لکھنو¿ ۶۲ اگست (محمد آفاق ) ہندوستان کی مو جودہ سنگےن حالات کا جائزہ لےا جا ئے ۔ تومعلوم ہو گا کہ ملک کو جوسب سے زےادہ نقصان پہونچانے والی طاقتےں ہےں ۔ وہ مذہب کو کاروبار بنالےنے والی طاقتےں ہےں ۔ ملک مےںمذہب کے نام پر کاروبار خوب پھل پھول رہا ہے ۔ جس سےاب سےاست مےں بھی پےر جمع لئے ہےں۔ جس کا نتےجہ ےہ ہوا کہ جب مذہب کے نام پر عوام آسانی سے ووٹ دے دےتی ہے تو سےاسی اسمگلروں کو عوام کا کام کرنے کی ضرورت کےا ہے ۔ اس لئے ملک کی عوام عاجز ہے ۔ اور محکمہ انتظامےہ مست ہے ۔ ان خےالات کااظہارسماجک کارکن تنظےم کے کنوےنر محمد آفاق نے حاجی محمد فہےم صدےقی کے قےام گاہ پر منعقد نشست مےں کر تے ہو ئے کہا کہ مذہب کو کاروبار بنانے والے ہی ہندوستان کے لئے خطرہ ہےں ۔ نشست مےں موجود لوگوںنے خصوصی طور سے شراب بندی کمےٹی کے مرتضیٰ علی ، اےم آئی اےم کے مشتاق احمد ، جنہت سنگھرس مورچہ کے جنرل سکرےڑی شہزادے منصور احمد ، مسلم سماج پرےشد کے صدر محمد شعےب ، خالد قرےشی ، مسلم فورم کے رےاستی صدر ڈاکٹر آفتاب ، اےن سی پی کے رےاستی سکرےٹری ڈاکٹر آر بی لال ، وغےرہ موجود رہے ۔ انڈےن نےشنل لےگ کے قومی نائب صدر حاجی فہےم صدےقی نے موجودہ صحافت کی تعرےف کر تے ہو ئے کہا کہ اےماندار صحافت ہی ملک کو ترقی پر لے جاسکتی ہے ۔ عصمت دری کا ملزم گر مےت سنگھ کے بھکت جو اسلحہ ، پٹرول ، کےروسےن ، لاٹھی ڈنڈے ، لے کر آنے کا مطلب صاف ہے کہ بھکت جانتے تھے کہ عصمت دری کے ملزم کو سزا ہونے والی ہے ۔ ورنہ وہ لوگ گر مےت سنگھ کے بے قصور ہونے کا ےقےن ہوتا تو ےہ بھکت مٹھائی بانٹنے کےلئے لے کر آتے ۔ فکر کا موضوع ےہ ہے کہ عصمت دری کا ملزم رکن پارلےمنٹ ساکشی مہاراج بھی گرمےت سنگھ کی طرف داری لےتے ہوئے کہا کہ لاکھوں لوگ اس کے بھکت ہےں ۔ جو اسے بھگوان مانتے ہےں ۔اور اےک نابالغ لڑکی کی رپورٹ پر حکومت اور عدالت نے اتنا بڑا فےصلہ لے لےا ہے ۔ فہےم صدےقی نے کہا کہ ملک سے محبت سےکھنا ہو تو مسلم سماج سے سےکھو ، آئےن کی عزت کرنا مسلم سماج سے سےکھو ، اس کے لئے اےک مثال کافی ہے ۔ طلاق پر سپرےم کورٹ کا فےصلہ ہندوستان کے پچےس کروڑ سے زےادہ مسلمانوں نے اعزاز کے ساتھ قبول کےا۔ جبکہ ےہ اسلامی قانون کے خلاف تھا ۔ ہندوستان کی تہذےب کو برباد کرنے والے پا کھنڈی خود کو بابا کہلانے والے آسارام ، رام پال، گر مےت سنگھ ساکشی جےسے باباﺅں سے ہندوستان کی عوام کو بےدار رہنا چاہئے ۔

About the author

Taasir Newspaper