شراب پر پابندی نہ لگانا برہمنی سازش

0
66

لکھنو¿،۵۲ اگست(محمد آفاق) شراب و نشےلی اشےاءپر پابندی نہ لگنے پر بہت سی سیاسی و سماجی تنظیموں میں غم و غصہ ہے جس سے پرےشان ہوکر وہ سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جس میںخصوصی طور پر انڈین نیشنل لیگ کے نائب صدر حاجی فہیم صدےقی، قومی سماجی کارکن تنظیم کے کنوینر محمد آفاق، مسلم فورم کے ریاستی صدر ڈاکٹر آفتاب، این سی پی کے ریاستی سیکرٹری ڈاکٹرآ ر بی لال، نیشنل لیگ کے کارگزار صدرپی سی کرےل، آر ایل ڈی کے ریاستی سیکرٹری روہت اگروال،جن ایکتا منچ کے صدر ڈی کے یادو، جنہت سنگھرش مورچہ کے سیکرٹری شہزادے منصور احمد، شراب بندی سنگھرش سمیتی کے صدر مرتضٰ علی وغیرہ موجود تھے۔
تمام موجود لیڈروں نے گاندھی مجسمہ حضرت گنج پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سے کہا کہ بھارت میں جتنے بھی جرائم ہو رہے ہیں اس کا بنیادی وجہ شراب اور نشہ خوری ہے لیکن حکومت و انتظامیہ نے نوٹس میں لینے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے جس کی وجہ سے، دلت، مہا دلت وپسماندہ اور دیگر قومیں سب سے زیادہ پرےشان ہیںحکومت اور انتظامیہ میں بیٹھے ہوئے لوگ زیادہ تر اونچی ذات اور برہمن ذات کے لوگ ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ شراب اور منشیات پر پابندی نہ لگنا برہمنی نظام کی سازش ہے۔ تمام قائےدےن نے فیصلہ کیا ہے کہ 27 اگست 2017 کو دن میں 11 بجے بمبئی پلازہ کے تیسری منزل پر راشٹرےہ بھاگےداری تحریک کے ریاستی دفتر میں ایک اجلاس کا فیصلہ کیا ہے جس میں منشیات اور شراب بندی پر مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔
تمام رہنماو¿ں نے بھارت کو شراب و منشیات اورآراےس اےس سے آزاد بنانے کے لئے اہد کیا ۔