مولانا آزاد لائبریری میں یومِ آزادی پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا

0
59

علی گڑھ ۶۱اگست پندرہ اگست کا دن ہندوستان میں قومی تہوار کے طور پر نہایت تزک و احتشام اور بہت ہی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے- پورے ملک میں ہر طرف جشنِ چراغاں کا ماحول ہوتا ہے اور ایک میلہ کا سماں بندھ جاتا ہے- لوگ جوق در جوق گھر سے باہر نکل کر سرکاری اور نجی عمارتوں پر قومی پرچم لہرانے کی تقریب میں شریک ہو کر اتحاد و اتفاق، دیش بھگتی اور حب الوطنی کا اظہار کرتے ہیں-اسی حب الوطنی اور دیش بھگتی کے نیک اورپر خلوص جذبے کے تحت سابقہ روایات کے مطابق اِس سال بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مرکزی مولانا آزاد لائبریری کی خوبصورت و دیدہ زیب عمارت جو دور سے ہی اپنی وسعتِ قلبی، جدیدو مضبوط اور عمدہ فنِ تعمیر کی گواہی پیش کرتی ہے اور یونیورسٹی میں مرکزی مقام پر واقع ہونے کے باعث ہر آنے جانے والوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے اُس کے مین گیٹ پر قومی پرچم لہرا کر یومِ آزادی کی تقریب پورے جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی-یونیورسٹی لائبریرین ڈاکٹر نبی حسن نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تہذیب کی عکاسی کرنے والی شیروانی زیبِ تن کر کے حب الوطنی سے سرشار انداز میں پرچم کشائی کی اور اپنے تمام اسٹاف کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی اور پندرہ اگست کی تاریخ،اس کی اہمیت اور جنگِ آزادی میں سر سید احمد خاں اور علی گڑھ تحریک کے رول اور لائبریری کی خدمات پر ایک مختصر تقریر کی – آپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ مادرِ علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نہ صرف یہ کہ علم و آگہی کا مرکز نور ہے بلکہ ہمارے مستقبل کی تابناکی اور ملت کے علم و عمل کے سفر کا تسلسل بھی اس سے وابستہ ہے۔
لہٰذا ہم سبھوں کی یہ مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس ادارے کو بہتر سے بہتر بنانے میں اپنی جانب سے ہر ممکنہ کوشش سر انجام دیں اور اس کو آنے والی نسلوں تک کے لئے ایک مثالی تعلیمی مرکز بناد یں۔میں نے یونیورسٹی لائبریرین کی حیثیت سے اپنی جانب سے حتی المقدور اس کی کوشش کی ہے کہ لائبریری صرف کتابوں سے بھری بے جان الماریوں کا مجموعہ نہ بنی رہے بلکہ ایک سرگرم و فعال علمی و تعلیمی دھڑے کے طور پر اپنی خدمات انجام دے۔لائبریری کے زیر اہتمام سمیناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس اہم علمی و تعلیمی دھڑے پر جمودنہ طاری ہو یا کتابوں کے لین دین کے روایتی معاملات تک ہی چیزیں محدود ہو کر نہ رہ جائیں۔میں نے اپنے طور پر اس کی بھرپور سعی کی ہے کہ لائبریری اپنی موجودگی اور بہتر خدمات و سہولیات کا احساس دلاتی رہے۔’لائبریری میوزیم‘ کا قیام بھی اسی سوچ کی پیداوار ہے اور آئندہ ایسے بہت سے منصوبے زیر فکر ہیں جن پر عمل درآمد کر کے یونیورسٹی لائبریری کو ثریا تک لے جانے کا ارادہ ہے۔ہمارے لئے یہ بڑی خوشی اور حوصلے کی بات ہے کہ شیخ الجامعہ پروفیسر طارق منصور کی پوری سرپرستی حاصل ہے اور انہوں نے ہر طرح سے اپنے تعاون کا یقین دلایا ہے اس کے لئے میں اپنے پورے اسٹاف کے ساتھ ان کا مشکور ہوں۔ جشن آزادی کی اس خوشی کے موقع پر اسٹاف اور دیگر حاضرین کے درمیان میٹھائی بھی تقسیم کی گئی- بجلی کے قمقوموں سے مولانا آزاد لائبریری کی سجاوٹ رات کی تاریکی میں قابلِ دید تھی-