’’چیمپئنز آف چینج ‘‘میں نوجوان سی ای او سے وزیر اعظم کا خطاب

0
53

نئی دہلی ،22 اگست(سید شمیم احمد)وزیر اعظم نے آ ج یہاں پر واسی بھارتیہ کیندرا میں نیتی آیوگ کے زیر اہتمام منعقدہ ‘‘چیمپئنز آف چینج ( یعنی تبدیلی کے علمبر دار)۔ ٹرانسفارمنگ انڈیا تھرو جی 2 بی پارٹنر شپ’’میں نوجوان سی ای او کے ساتھ بات چیت کی۔ گذشتہ ہفتہ نوجوان صنعت کاروں کے ساتھ وزیر اعظم کی بات چیت کے بعد آج اس سلسلے میں ان کا یہ دوسرا خطاب تھا۔نواجوان سی ای او کے 6 گروپوں نے وزیر اعظم کو ‘میک ان انڈیا؛ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے ؛ عالمی پیمانے کا بنیادی ڈھانچہ ؛ کل کے شہر ؛ ما لی شعبے میں اصلاحات اور 2022 تک نیا ہندوستان جیسے مرکزی خیالات کے بارے میں بتا یا۔سی ای او حضرات کے ذریعہ پیش کئے گئے پر زنٹیشن اور اختراعات کا اعتراف کر تے ہو ئے وزیر اعظم نے ملک کے مفاد میں اپنے قیمتی خیالات پیش کر نے اوروقت صرف کر نے کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی پا لیسی سازی کی اہم ٹیم نے ان کی باتوں کو پو ری سنجیدگی سے سنا اور مسائل سے متعلق جو خیا لات پیش کئے گئے ہیں ان سے پا لیسی سازی میں یقینی طور پر فائدہ ہو گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ عوام کی شرکت حکمرانی کااہم عنصرہے۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ سی ای او کی شراکت کی کو شش کا مقصد ملک اور عوام کی فلاح و بہبود میں ان کی شرکت کو بڑھا نا ہے۔ہندوستان کی تحریک آزادی کو یاد کر تے ہو ئے انہوں نے کہا کہ مہا تما گاندھی نے تمام ہندوستانیوں ، مجا ہدین آزادی سے اپنے کام کو جا ری رکھنے کے لئے کہا تھا۔ اس لئے تحریک آزادی کو عوامی تحریک بنا نے میں مدد ملی تھی۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج ترقی کے عمل کو بھی عوامی تحریک بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا جذبہ پیدا کر نا ہوگا جہاں 2020 تک اپنے تعاون کے لئے ہم اپنا ہدف طے کر سکیں۔ انہوں نے سی ای او سے کہا کہ آپ ہماری ٹیم ہیں اور ہندوستان کو آگے لے جا نے کے لئے ہمیں ساتھ مل کر کام کر نے کی ضرورت ہے۔ زراعت کی قدر و قیمت میں اضافے کی مثال دیتے ہو ئے وزیر اعظم نے کہا کہ مطلوبہ مقاصد جیسے کسانوں کی آمدنی دو گنی کرنے کے ہدف کو حاصل کر نے کے لئے کثیر جہتی طریقہ کاراپنا ناضروری ہے۔ خوراک کی ڈبہ بندی کی اہمیت پرزور دیتے ہو ئے وزیر اعظم نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے فقدان کی وجہ سے زراعت کے شعبے کو کا فی نقصان ہو رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کئی فیصلے کئے ہیں جن سے بنیادی تبدیلی آ ئی ہے۔ انہوں نے یوریا کی دستیابی اور پیداوار جیسے گیس کی قیمت کی پو لنگ ، اضافی پیداوار کے لئے ترغیبات سے متعلق لئے گئے فیصلوں کے بارے میں بتا یا۔ اس کے نتیجے میں یو ریا کی 20 لا کھ ٹن اضافی پیداوار ہو ئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو ریا پر نیم چڑھا نے کے نتیجے میں اس کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ختم ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان کو لیس۔کیش یعنی نقدی کا کم سے کم استعمال کرنے والی سو سائٹی بنا نے کے لئے کا م کر نا چا ہتی ہے۔ انہوں نے سی ای او سے اس سلسلے میں تحریک بنا نے کے لئے حکومت کے ساتھ کا م کر نیکے لئے کہا۔اسی طرح انہوں نے کہا کہ تہواروں جیسے مواقع پر تحائف دے کر کھا دی کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور اس سے عام طور پر غریبوں کی مدد ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے تمام شعبوں میں غریبوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لئے ما حول بنا نا ہو گا۔وزیر اعظم نے حکومت کے ای۔ مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) کی مثال پیش کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹے تاجر کس طرح حکومت کے سپلا ئی کے نظام کو کامیابی کیساتھ پورے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ای ایم کی وساطت سے اب تک ہزار کروڑ روپئے کا لین دین ہوا ہے اور اس پلیٹ فارم پر 28 ہزار سپلا ئیروں نے تعاون کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستانیوں کو اپنے ملک پر فخر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک کو ہندوستان کے اندر اور جہاں جہاں ان کا رابطہ ہے سیا حتی مقامات کو فروغ دینے کامزاج پیدا کرنا ہوگا۔‘‘ویسٹ ٹو ویلتھ’’ کی مثال پیش کر تے ہو ئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے سوچھ بھارت اور صاف ستھرے ماحول کا مقصد حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کاروں اور کاروبار کا مقصد یہ ہونا چا ہئے کہ وہ ایسی مصنوعات فراہم کر یں جو ملک میں عوام کو در پیش مسائل کو آسانی سے حل کر سکیں۔اس موقع پر متعدد مرکزی وزرا اور سرکاری حکام بھی موجود تھے۔