حیدرآباد نظرانداز کیوں؟سہ روزہ قومی کانفرنس میں دکن کی کوئی نمائندگی نہیں

0
45
Taasir Urdu News | Uploaded on 23-sep-2017

حیدرآباد(پریس نوٹ)آل انڈیااردوماس سوسائٹی فارپیس کے صدرڈاکٹرمختاراحمدفردین نے اپنے پریس ریلیز میں کہاکہ بہاراردواکیڈیمی 23تا25ستمبر سہ روزہ اکیسوی صدی کانسائی ادب اور خواتین کانفرنس منعقد کررہی ہے جس کے لئے بہاراردواکیڈیمی اور اس کے سکریٹری مشتاق احمد قابل مبارک باد ہیں۔ بہاراردواکیڈیمی اردو کے فروغ کے لئے ہمیشہ کوششیں کرتی رہی ہے اور مشتاق احمد نوری ایک فعال شخصیت ہیں لیکن اس سہ وزہ قومی کانفرنس میں حیدرآباد دکن سے کسی خاتون کو نمائندی نہیں دی گئی جوکہ غلط بات ہے۔یہ ایک طرح سے حیدرآباد کی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ابتدا سے ہی حیدرآباد دکن اردو ادب میں اپنا ایک اعلیٰ مقام رکھتاہے اور ہرسمینار‘ورکشاپ ہویا کوئی کانفرنس دنیا کے کسی بھی مقام پرمنعقد ہووہاں حیدرآباد کی نمائندگی رہی ہے اوریہاں کے ادیب اور شعراءاپنی ایک منفرد پہچاان رکھتے ہیں۔یہاں کی خواتین نے ہمیشہ اردو کے فروغ کے لئے کام کیاہے۔عثمانیہ یونیورسٹی جیسی عظیم درس گاہ یہاں موجود ہیں اس کے علاوہ قومی اردوجامعہ مانوبھی یہاں اردو کے فروغ کے لئے دن رات کوشاں ہیں اور اس میں ایک ویمن اسٹیڈیز شعبہ بھی ہے جو خواتین کے حقوق اوران کوبااختیار بنانے کے لئے کام کررہا ہے۔ وہاں کے اساتذہ کوبھی اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ ۔مختاراحمدفردین نے کانفرنس کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ فوری حیدرآباد دکن سے پدم شری جیلانی بانو‘اشرف رفیع ‘اودیش رانی ‘شبینہ فرشوری ‘ آمنہ تحسین کو اس کانفرنس میں مدعو کریں۔