اردو | हिन्दी | English
93 Views
Education

سیلون میں نہ کرائیں سر اور گردن کی مساج:ڈاکٹر

necllk-580x395
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی 20ستمبر (ایجنسی):ہندوستان میں عام طورپر دیکھاگیا ہے کہ مرد نائی کی دکان پر بال کٹوانے کے ساتھ ہی سر اور گردن کی مساج بھی کرواتے ہیں۔ نائی گردن اور سرکو پکڑ کر لفٹ اور رائٹ سائڈ جھکا کر مساج کرتے ہیں لیکن آپ کو یہ یادنہیں رہتا کہ گردن کی مساج کروانا آپ کے لئے کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
54سالہ اجے کمار پچھلے مہینے سیلون سے بال کٹوا کراور مساج کرواکر لوٹے۔ایسا وہ اکثر کرتے تھے لیکن لوٹنے کے بعد اچانک وہ ہانپنے لگے اورانہیں سانس لینے میں دقت ہونے لگی۔ میدانتا اسپتال کے ریسپیریٹری اینڈ سلپ میڈیسن کے ڈائرکٹرڈاکٹرآنند جیسوال کے مطابق اجے کمار گردن کی مساج کے دوران فیئرنک نروس ڈیمیج ہو گئی تھی۔ یہ نروس ڈائی ا فریم کو کنٹرول کرتی ہے جوبدلے میں سانس کو کنٹرول کرتے ہیں۔ پی ایس یو امپلائی اجے کمار کو وینٹی لیشن پر رکھا گیا تاکہ انہیںسانس لینے میں مدد مل سکے۔ ڈاکٹرجیسوال نے بتایا کہ اجے کا ڈائی افریم پیرالائزڈہوگیاتھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب کمارکو لائف ٹائم وینٹی لیشن کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اس واقعہ کے بعد ڈاکٹر نے ایسے لوگوںکومتنبہ کیا ہے جو سیلون میں جاکر گردن کی مساج کرواتے ہیں۔ عام طورپر یہ بھی دیکھاجاتا ہے کہ سیلون میں بال کاٹنے کے بعد نائی گردن کی مساج کے ساتھ ہی گردن کو چٹکھاتے ہیں۔ ایسا کرنے سے لمبے وقت تک گردن کے جوائنٹس اورآس پاس کے ٹیشیو مسلس اور نروس ڈیمیج ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ کئی بار ڈایا فرامک پیرالسس بھی ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹربتاتے ہیں کہ اگر ٹیشیو معمولی طور پر مجروح ہیں تو وہ جلد ہی خودبخود ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن کچھ معاملوں میں سرجری تک کرنی پڑسکتی ہے۔ گردن کو شارپ طریقے سے لفٹ یارائٹ جھکانے سے آرٹری ڈیمیج ہونے کی وجہ سے مریضوں کو برین سیلس کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اوراس کے لئے انہیں کیروپریکٹک تھیراپی تک لےنی پڑسکتی ہے۔ کئی بار مسئلہ بڑھانے پر اسٹروک یا موت بھی ہوسکتی ہے۔

About the author

Tariq Hasan