اردو | हिन्दी | English
150 Views
Politics

شردیادو کا دعویٰ: اصولوں کی لڑائی میں آخری جیت ہماری ہوگی

NEW DELHI, SEP 13 (UNI):- Janata Dal (United) rebel leader Sharad Yadav with expelled party leader Arun Srivastava addressing a press conference, in New Delhi on Wednesday. UNI PHOTO-AK5U
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 13 ستمبر (یواین آئی) جنتا دل (یونائیٹڈ) جے ڈی یو کے منحرف لیڈر شرد یادو نے آج دعوی کیا کہ ان کی قیادت والا جے ڈی یو ہی حقیقی ہے اور آنے والے وقت میں یہ بات صحیح ثابت ہوگی ۔ مسٹر یادو نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ الیکشن کمیشن میں پارٹی کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کا معاملہ ابھی چل رہا ہے اور اس سلسلے میں وکیل مزید معلومات فراہم کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اصولوں کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور اسے آگے بھی جاری رکھیں گے ۔ مسٹر نتیش کمار کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ بہار میں ان کے ساتھیوں نے راستہ بدلا ہے اور ریاست کے 11 کروڑ لوگوں کا اعتماد توڑا ہے ۔ جے ڈی یوکے رہنما نے کہا کہ وہ اصولوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ انہوں نے حوالہ معاملہ میں نام آنے پر اور ایمرجنسی کے دوران لوک سبھا کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر چھ سال کئے جانے کی مخالفت میں لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دیا تھا۔پوری زندگی وہ بدعنوانی کے خلاف لڑتے رہے اور کوئلہ گھپلہ، دولت مشترکہ گھپلہ اور 2جی اسپیکٹرم گھپلہ کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں ۔گھوٹالہ اور ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں. جب مسٹر یادو سے پوچھا گیا کہ پارٹی سے ان کے علیحدہ ہونے کی وجہ سے ان کی راجیہ سبھا کی رکنیت ختم ہو سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ جی ہاں، چیئرمین کا ایک نوٹس آیاہے ۔ جے ڈی یو لیڈر نے کہا کہ انھوں نے آئین کی دفعہ 10 کی خلاف ورزی نہیں کی ہے ۔ قانون اپنا کام کرے گا۔ انہوں نے کہا، “پہاڑ سے لڑ رہے ہیں تو چوٹ لگے گی ہی ۔” انہوں نے کہا کہ بہار میں اسمبلی انتخابات کے بعدوہ اور نیتش کمار، راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کے پاس گئے اور حکومت میں شامل ہونے کے لئے ان پر دبا¶ڈالا تھا۔ اس وقت بھی مسٹر یادو کے خلاف الزامات تھے اور وہ مقدمہ لڑرہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر اور 8 اکتوبر کو پارٹی کی طرف سے قومی سطح پر جو میٹنگ طلب کی گئی ہے ، اس میں وہ حصہ لیں گے اور مشترکہ وراثت کے تعلق سے انھوں نے جومہم شروع کی ہے اسے جاری رکھیں گے ۔ مسٹر یادو نے وزیر اعظم نریندر مودی پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے دو کروڑ لوگوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا جو پورا نہیں ہوا ہے ۔ مودی حکومت کے نوٹوں کی منسوخی کے فیصلے کی وجہ سے تین کروڑ افراد بے روزگارہوئے ہیں ۔ کسان خودکشی کر رہے ہیں اوربھیڑ لوگوں کو قتل کر رہی ہے ۔ ایسی صورت میں مشترکہ وراثت کی مہم جاری رہیے گی۔

About the author

Taasir Newspaper