اردو | हिन्दी | English
151 Views
Bihar News

مسلمانوں کی اپیل ، وزیر داخلہ 40 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو ملک سے بے دخل نہ کریں

dhaka
Written by Taasir Newspaper
Taasir Urdu News | Uploaded on 12-sep-2017

ڈھاکہ ، 12 ستمبر ( محمد اکر م ) برما کے بدھشٹوں شرم کرو ، آن سوکی شرم کرو ، وزیر داخلہ شرم کرو ، نو بل انعام واپس کرو جیسے نعروں سے ایک بار پھر ڈھاکہ شہر گونج اٹھا ۔ وقت تھا قومی حقوق انسانی وسماجک انصاف کے بینر تلے امن مارچ کا برما کے لوگوں نے مسلمانوں پر جس طرح ظلم و بربریت کے پہاڑ ڈھائے ہیں اس سے انسانیت شرمشار ہورہی ہے۔ اس موقع پر امن مارچ مدرسہ کریمیہ سے جلوس کی شکل میں نکل کر اسلامیہ چوک و آزاد مدرسہ ، جامع مسجد ہوتے ہوئے مہاتماگاندھی کے مجسمہ گاندھی چوک پر جاکر ایک جلسے میں تبدیل ہوگیا ۔ اس موقع پر فیض احمد نے کہا کہ آج میانمار کا مسلمان درد سے کراہ رہا ہے لیکن انسانیت کے تحفظ کی باتیں کرنے والا خواب غفلت میں ہے ۔ برما میں معصوموںکو موت کی نیند سلا یا جارہا ہے ۔ عوام بھی خاموش ہیں ۔ ہم سرکار سے یہ گذارش کرتے ہیں کہ 40 ہزار جو مسلمان میانمار سے دہلی میں آئے ہیں انہیں مکمل تحفظ فراہم کر یں ۔ وہیں قومی حقوق انسانی وسماجک انصاف کے سکرہنا سکریٹری محمد ضیاءالحق نے کہا کہ بر ما میں مسلمانوں کے اوپر ظلم و ستم کی جو پہاڑ ڈھائے جارہی ہیں وہ بہت ہی تشویشناک ہے ۔ ہمارا ملک ہمیشہ سے مظلوموں کی مدد کرتا آیا ہے ۔ایسے میں وزیر اعظم ووزیر داخلہ سے گذارش کرتے ہیں کہ برما کی حکومت سے بات کریں ۔وہاں صرف مسلمان نہیں مارے جارہے ہیں بلکہ انسانیت کا قتل ہورہا ہے۔ حقوق انسانی وسماجک انصاف کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر مہتاب نے کہا کہ میرا ملک صدیوں سے مظلوموں کا مدد گار رہا ہے ۔ جب بنگلہ دیش و پاکستان کے بیچ جنگ ہوئی تو اندراگاندھی نے بنگلہ دیشیوں کی حفاظت کے لئے فوج کو بھیجا ۔ شاعرکو عدنا ن کو یہاں کا پہچان اگر دیا جاتا ہے تو کیوں نہیں ۔ جو لوگ اس امید میں آئے ہیں کہ ہندوستان کے اند ر ہمیں تحفظ ملے گا ۔ کھانے پینے رہنے سہنے میں پریشانی نہ ہوگی ،ایسے میں وزیر داخلہ کورحم کرتے ہوئے اچھے قدم اٹھانا چاہئے ۔ جلوس سے خطاب کرنے والوں میں نور عین خان ، اشفاق اللہ مظاہری ، انوار الحق ، محمد عالم خاںوغیرہ شامل ہے ۔ اپنے خط کے ذریعہ حقوق انسانی و سماجی انصاف کے لوگوں نے ایک عرضداشت سکرہنا ایس ڈی او منوج کمار رجک کو سونپا تاکہ یہ خط وزیراعظم و وزیر داخلہ تک پہنچ جائے اور 40 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو ملک سے بے دخل نہ کیا جائے ۔

About the author

Taasir Newspaper