ٹیررستان دوسرے ممالک کو نصیحت نہ کرے :ہندوستان

0
44

اقوام متحدہ، 22 ستمبر (یواین آئی) ہندوستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے مسئلہ کشمیر پر دیے گئے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ‘ٹیررستان’ بن چکا ہے اور اس کو دوسرے ممالک کو انسانی حقوق کی نصیحت دینے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیر اعظم کے بیان پر جواب کے حق کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کی فرسٹ سکریٹری انم گمبھیر نے جنرل اسمبلی میں جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھانے پر پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا ایک اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ پاکستان سرحد پار سے خواہ کتنا بھی دہشت گردی کو بڑھا وا دے ، لیکن وہ ہندوستان کی سالمیت کو کمزور نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی گلیوں میں دہشت گرد آزادانہ گھومتے ہیں، اور وہ ہندوستان کو انسانی حقوق کا سبق دے رہا ہے ۔ دنیا ایسے ملک سے انسانی حقوق اور جمہوریت کا سبق نہیں پڑھنا چاہتا، جو پہلے ہی اس سلسلے میں ناکام ہوچکاہے ۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے 72 ویں سیشن سے کل خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے ہندوستان پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا تھا اور اس کی بین الاقوامی سطح پر جانچ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ محترمہ اینم گمبھیر نے پاکستان کو “ٹیررستان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنی مختصر تاریخ میں پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہو گیا ہے ۔ پاکستان جغرافیائی طور پر ‘ٹیررستان’ بن چکا ہے جہاں دہشت گردی کو تحفظ ملنے کے ساتھ ہی دوسرے ملکوں میں پا¶ں پھیلانے کا موقع بھی مل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ جس ملک نے بین الاقوامی دہشت گرد اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی تھی اور ملا عمر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دی وہ اپنے کو دہشت گردی کا شکار کے طور پر پیش کر رہا ہے ، لیکن اس کی اصلیت تمام پڑوسی ممالک اور پوری دنیا جان چکی ہے ۔ اس معزز جنرل اسمبلی اور دنیا کو معلوم ہے کہ نئے حقائق پیدا کرنے کی کوشش سے حقیقت نہیں بدلتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آج یہ صورتحال ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیم قرار پانے والی لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کو ایک سیاسی پارٹی کے رہنما کے طور پر قانونی تسلیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں بین الاقوامی دہشت گردوں کو چھا¶نیوں میں محفوظ پناہ دی جاتی ہے یا انہیں سیاسی زندگی میں لاکر سکیورٹی دی جاتی ہے ۔محترمہ گمبھیر نے کہا کہ وہ پوری دنیا کو اس بین الاقوامی اسٹیج سے بتانا چاہتی ہیں کہ خود کو دہشت گردی سے متاثر قرار دینے والے پاکستان کی دہشت گردی پر پالیسی اسے ختم کرنے کی نہیں ، بلکہ دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دفاعی شعبے اور ترقی کے لئے موصول ہونے والے اربوں ڈالر کی غیر ملکی فنڈ کو اپنے یہاں دہشت گردی کا ڈھانچہ تیار کرنے میں خرچ کیا ہے اور اب یہ دہشت گردی کا رونا رو رہا ہے ۔ اس نے جو بویا ہے ، وہی آج وہ کاٹ رہا ہے ۔محترمہ گمبھیر نے کہا کہ ایسے ملک میں جہاں دہشت گرد کھلے عام گھوم رہے ہیں، وہ ہمیں انسانی حقوق کی نصیحت کررہا ہے ۔ دنیا انسانی حقوق کے معاملات میں پاکستان کی صور نحال کے بارے میں جانتی ہے ۔ اس کے بارے میں کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ‘ٹیررستان’ اس لئے کہا ہے کیونکہ اس نے پوری دنیا میں دہشت گردی کی عالمی شکل دی ہے ۔ اس معاملے میں وہ سب سے آگے ہے ۔ اس کی پالیسی نے پوری دنیا کو تکلیف پہنچائی ہے ، اس کے باوجود اگر آج بھی اسے امن واستحکام کے تئیں اپنے عہد کا پابند بنانے کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے ، ، تو وہ عالمی برادری میں اسے کچھ قبولیت ملنے کا امکان ہے ۔