آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Politics

کلکتہ :یوم عاشورہ کو بھی ہوگامورتی ویسرجن:ہائی کورٹ

kolkata high court
Written by Taasir Newspaper

کلکتہ 21ستمبر(یواین آئی)کلکتہ ہائی کورٹ نے آج ممتا حکومت کو ایک بڑا جھٹکا دیتے ہوئے یوم عاشورہ کو بھی درگا پوجا کی مورتی کے بھسان کی اجازت دیدی ہے ۔جب کہ ریاستی حکومت نے امن و امان کے قیام کے پیش نظر 30ستمبر کی رات 10دس بجے سے 2اکتوبر تک مورتی بھسان پر روک لگادی تھی۔کارگزار چیف جسٹس آر کے تیواری کی صدارت والی دو رکنی بنچ نے درگا پوجا اور محرم کے جلوس کے دوران سخت سیکورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فرقوں کے جلوس کے دوران امن و شانتی کا ماحول قائم رہے اس بات کو یقینی بنایا جائے ۔فیصلے سے قبل عدالت میں مفاد عامہ کی عرضی گزار اور ایڈوکیٹ جنرل کے درمیان گرمام گرم بحث ہوئی۔ایڈوکیٹ جنرل کشور دتہ نے ڈویژن بنچ سے سوال کیا کہ یوم عاشور ہ کے جلوس اور مورتی بھسان ایک ساتھ ہونے کی صورت میں اگر دونوں فرقوں کے درمیان کشیدگی کے حالات پیدا ہوتے ہیں تو کون ذمہ دار ہوگا؟۔کارگزار چیف جسٹس نے کہا کہ کہ ریاستی کے اختیارات بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں وہ کسی بھی مشکلات کا سامنا کرسکتی ہے ۔ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پہلے ہی 30ستمبروجے دشمنی کو مورتی بھسان کے وقت میں 4گھنٹے کا اضافہ کردیا ہے ۔جب کہ پہلے وزیر اعلیٰ نے شام 6بجے کا وقت مقرر کیا تھا۔کل اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے مورتی بھسان کے وقت کو محدود کرنے پر حکومت سے وضاحت طلب کی تھی ۔کار گزار چیف جسٹس آر کے تیواری نے کہا تھا کہ” وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ یہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول ہے تو پھر حکومت کس چیز سے ڈر رہی ہے ؟”23اگست کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ٹوئیٹر کے ذریعہ اطلاع دی تھی کہ حکومت نے ریاست میں امن و امان کا ماحول برقرار رکھنے کیلئے 30ستمبر وجے دشمی کو مورتی بھسان کا وقت شام 6بجے مقرر کیا ہے ۔اس کے بعد یکم اکتوبر تک مورتی بھسان کی اجازت نہیں ہوگی۔کیوں کہ یکم اکتوبر کو محرم ہے اور اس دن محرم کا جلوس نکلتا ہے ۔2اکتوبر اور 3اکتوبر کو حسب روایت مورتی بھسان کی اجازت ہوگی۔حکومت کے اس فیصلے کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ حکومت اپنے اس فیصلے کے ذریعہ دو فرقوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے اور یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ یہ دونوں فرقے ایک ساتھ مل کر اپنے تہوار کو پرامن انداز میں نہیں منا سکتے ہیں ۔ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے کل سوال کیاتھا کہ آخر دو کمیونیٹی کے افراد ایک ساتھ مل کراپنے تہوار کو کیوں نہیں مناسکتے ہیں؟۔جب حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول قائم ہے تو پھر حکومت دو فرقوں کے درمیان مذہبی دوریاں کیوں پیدا کررہی ہے ؟ ۔ڈویژن بنچ نے ممتا حکومت سے وضاحت طلب کی کہ اگر درگا پوجا کی مورتی بھسان کا سلسلہ رات 1.30بجے کے بعد بھی جاری رکھا جائے تو اس میں کیا حرج ہے ؟اس پر ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اگر مورتی بھسان کا سلسلہ نصف رات تک جاری رہا تو اسی وقت دوسرے فرقے کے لوگ محرم کا جلوس نکالیں گے ۔اس کی وجہ سے آپس میں جھڑپ ہونے کا خدشہ ہے ۔اس جواب پر ڈویژن بنچ نے دریافت کیا کہ حکومت نے کتنے محرم جلوس کو اجازت دی ہے ۔اس پر ایڈوکیٹ جنرل نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ حکومت نے صرف دو آرگنائزیشن کو تعزیہ کا جلوس نکالنے کی اجازت دی ہے ۔اس جواب پر ڈویژن بنچ نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف جلوس کی وجہ سے پورے درگا پوجا کی مورتی بھسان کے وقت کو محدود کردیا گیا ہے ۔ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے کہا کہ ہمارے احکامات کی غلط تشریح کی جارہی ہے اور ہمارا مقصد امن و شانتی کو برقرار رکھنا ہے ۔مگر افواہیں پھیلاکر بدگمانیاں پھیلائی جارہی ہیں۔گزشتہ دو دنوں سے عدالت میں جاری بحث کے دوران عدالت نے کہا کہ ”لا اینڈ آرڈر کے نام پر شہریوں کو اپنے عقیدے کے مطابق مذہب پر عمل کرنے سے نہیں روک سکتے ہیں ۔عدالت نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ریاست کو انتظامات کرنے کے اختیارات ہیں مگر انتظامات کے نام پرکسی کو اپنے مذہب پر عمل کرنے سے نہیں روک سکتے ہیں ۔کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے بنگال بی جے پی کے ترجمان رتیش تیواری نے کہا کہ ممتا بنرجی کی حکومت کیلئے یہ ایک بڑا جھٹکا ہے ۔محرم کے دن مورتی بھسان کی اجازت دینا یہ قانون کی جیت ہے ۔پوجا سیاست ختم ہوئی اور امید ہے کہ حکومت اس سے کچھ سیکھے گی ۔بی جے پی کے سابق ریاستی صدر راہل سنہا نے کہا کہ ممتا بنرجی نے بے بنیاد باتوں پر پابندی عاید کی تھی ۔دراصل حکومت فرقہ واریت کی سیاست کررہی ہے ۔

About the author

Taasir Newspaper